حکومت نے تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے بڑی شرائط رکھ دیں

حکومت 9 مئی سمیت عدالتوں میں زیر سماعت کیسز کے علاوہ باقی دیگر معاملات پر تحریک انصاف سے مذاکرات پر آمادہ ہو گئی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق حکام نے یوتھیے رہنماؤں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات برابری کی سطح پر ہونگے۔ مذاکرات کے حوالے سے کوئی شرط، دباؤ یا دھمکی قطعا قبول نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی تینوں مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم جہاں فریقین میں باہمی اعتماد سازی کے فقدان کی وجہ کوئی دوسرے پر یقین کرنے کو تیار نہیں وہیں تینوں فریق ہی مذاکراتی عمل میں پہل کرنے سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل تاحال تعطل کا شکار ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مذاکرات کیلئے کمیٹی کی تشکیل کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ جس کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے بقول حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات بارے اسٹیبلشمنٹ، عسکری قیادت اور قائد مسلم لیگ نون میاں نواز شریف آن بورڈ ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مثبت رویہ اپنانے پر نوازشریف بھی عمران خان سے مذاکرات کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات بارے مختلف حلقوں کا اپنے پیغامات میں کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اورنظام گرانے کی کوششوں سے پیچھے ہٹ جائے تو اسے ریلیف مل سکتا ہے بظاہر تو حکومت اور پی ٹی آئی دونوں مذاکرات میں پہل کرنے سے کترا رہے ہیں مگر پی ٹی آئی، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سب بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

مبصرین کے مطابق مختلف حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو یہ پیغامات دیئے جارہے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی اپنی انتشاری اور جارحانہ سیاست سے توبہ کر لے تو اسے ریلیف مل سکتا ہے، عمران خان کو پشاور اور پھر بنی گالہ منتقل کرنے کے آپشنز پر بھی غور ہوسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان لفظی جنگ کے باوجود ہر فریق کو یہ ادراک ہے مذاکرات کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے، ملکی سیاست سے غیریقینی اور کشیدگی کا خاتمہ کرنے کیلئے مل کر بیٹھنا لازم ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان دو ہفتے سے مذاکرات کی باتیں ہونے کے باوجود ابھی تک فریقین کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہوسکا ہے لیکن پس پردہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے کہ حکومت، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ سب مذاکرات کے لئے تیار ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مثبت رویہ اپنانے پر نوازشریف بھی پی ٹی آئی اور بانی عمران خان سے مذاکرات کے لئے تیار ہو سکتے ہیں ۔ مبصرین کے مطابق اس وقت بظاہر تو پی ٹی آئی ، حکومت پر مذاکرات کے لیے غیرسنجید ہونے کے الزمات لگارہی ہے جبکہ حکومت کا یہ موقف ہے کہ سول نافرنامی کی دھمکیوں اور ڈیڈلائنز کے ساتھ سر پر بندوق رکھ کر مذاکرات شروع نہیں ہوسکتے اوربظاہر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہےلیکن پی ٹی آئی، حکومت اور اہم سیکیورٹی ذرائع کے حوالوں سے یہ پتہ چلا ہے کہ اس وقت حکومت، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ سب بات چیت کیلیے تیار نظر آرہے ہیں اور قائد مسلم لیگ ن میاں نوازشریف بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لئے حامی ہیں اور پس پردہ حکومت، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے رابطے بحال ہو چکے ہیں کیونکہ اس وقت ہر فریق کو یہ ادراک ہے کہ مذاکرات کے علاوہ کوئی اور حل نہیں ہے۔ملکی سیاست سے غیر یقینی اور کشیدگی کا خاتمہ کرنے کے لئے مل کر بیٹھنا لازم ہے تاہم فریقین پہل کرنے سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

اسلام آباد احتجاج کے دوران مرنے والوں کے اصل حقائق سامنے آ گئے

دوسری جانب پی ٹی آئی سے مذاکرات بارے مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات کا حل صرف سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے،پی ٹی آئی سے ہر ایشو پر بات ہوسکتی ہے،تاہم اس بات کی گارنٹی نہیں کہ کون سی بات تسلیم کریں گے اور کون سی نہیں، ان کا مزید کہنا تھاکہ اگر پی ٹی آئی قیادت نے مذاکراتی عمل کو بانی پی ٹی آئی کی رہائی سمیت دیگر ایشوز کے ساتھ مشروط کر دیا تو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ اصولی فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی سمیت حزب اختلاف کی کسی بھی سیاسی جماعت سے مذاکرات غیر مشروط ہونگے مذاکرات کیلئے کسی شرط یا دھمکی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر پی ٹی آئی نے مثبت رویہ اپنایا تو تمام مسائل کا حل ممکن ہے کیونکہ ۔لسیاسی معاملات کا حل سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔

Back to top button