حکومت نواز شریف کو واپس لانے کا شور کیوں مچا رہی ہے؟

عمران حکومت مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ میں ڈیل کی خبروں اور خود نواز شریف کی جانب سے جلد وطن واپسی کے اعلان کے بعد انہیں برطانیہ سے واپس لانے بارے شور تو مچا رہی ہے تاہم قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے کے لیے حکومت کے پاس قانونی آپشنز انتہائی محدود ہیں، انکے مطابق حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ وہ نواز شریف کو واپس نہیں لا سکتی لیکن پھر بھی اس حوالے سے واویلا مچانے کا مقصد نواز لیگ کو کاونٹر کرنا ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو 24 دسمبر 2019 کو العزیزیہ ریفرنس میں سات برس قید، 10 برس تک کوئی عوامی عہدہ رکھنے پر پابندی اور تمام جائیداد ضبط کرنے کی سزا سنائی گئی تھی جب کہ ان پر پونے چار ارب روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ اس کیس میں نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔ تاہم اچانک طبیعت خراب ہو جانے کے باعث 19 نومبر 2019 کو انہیں ایک عدالتی فیصلے کے بعد علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی جہاں وہ تاحال مقیم ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بار پھر نواز شریف کی وطن واپسی کی خبریں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ تاہم قانونی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم کی وطن واپسی اتنی آسان نہیں ہو گی۔ بڑے میاں کی واپسی کی خبروں کو اس وقت تقویت ملی جب سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے دعویٰ کیا کہ لندن میں اُن کی نواز شریف سے ملاقات ہوئی اور انہیں معلوم ہوا کہ سابق وزیرِ اعظم بہت جلد پاکستان واپس آ رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف سزا یافتہ ہیں اور وعدے کے باوجود اپنے علاج کے بعد وطن واپس نہیں آئے، لہذٰا وطن واپسی پر ان کی منزل صرف جیل ہو گی۔ حکومتی رہنماؤں نے نواز شریف کی بیرون ملک روانگی سے قبل ضمانت دینے والے شہباز شریف کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا عندیہ دے رکھا ہے۔ اس حوالے سے قانونی ماہرین کہتے ہیں شہباز شریف کی زرِضمانت ضبط کی جا سکتی ہے لیکن شہباز شریف کے خلاف اس کے علاوہ کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو برطانیہ سے واپس لانے کے لیے موجودہ قانونی پوزیشن کے مطابق صرف استدعا کی جا سکتی ہے۔ البتہ ایسا کوئی قانونی آپشن نہیں ہے کہ برطانیہ انہیں پاکستان کے حوالے کرے۔

نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے خلاف کیسز میں انہیں سزائیں سنائی جا چکی ہیں اور ان کے بیرون ملک جانے کے بعد مختلف عدالتوں نے انہیں اشتہاری قرار دیا ہے۔ ان کے بقول بنیادی طور پر عدالت کے حکم پر عمل درآمد کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے لیکن یہ احکامات تب ہی قابلِ عمل ہوں گے جب برطانیہ کے ساتھ مجرمان کے تبادلے کا قانون موجود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کسی ڈیل کے ذریعے انہیں واپس لے آتی ہے تو یہ الگ بات ہے لیکن برطانیہ کے ساتھ مجرمان کو حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ لہٰذا قانونی طور پر ایسا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ عمران شفیق کے مطابق پاکستان سے برطانیہ جانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ‘میوچل لیگل اسسٹنس’ کا معاہدہ موجود ہے لیکن برطانیہ سے پاکستان لانے کے لیے برطانیہ میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اس وقت عدالت کے حکم سے ملک سے باہر گئے ہیں اور انہیں عدالتی حکم کے مطابق ہی اشتہاری بھی قرار دیا گیا ہے۔

فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کا چہرہ بے نقاب ہوگیا

لیکن دوسری جانب حکومت نواز قانون دان اظہر صدیق ایڈووکیٹ اس رائے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف نے بیان حلفی دیا تھا جس کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے برطانیہ سے اب تک اپنی کوئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کروانے نہیں بھیجی اور نہ ہی ایسا کوئی سرٹیفکیٹ دیا ہے جس میں ڈاکٹرز کی طرف سے بتایا گیا ہو کہ وہ سفر کے قابل ہیں یا نہیں۔ اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ہائی کمشنر کی جانب سے نواز شریف سے ان کی میڈیکل رپورٹ کا پوچھا گیا تھا لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے انسداد کرپشن کے مطابق بھی کارروائی ہو سکتی ہے کیوں کہ وہ کرپشن کے الزام میں سزا یافتہ ہیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان معاہدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اظہر صدیق نے کہا کہ نواز شریف عدالت سے مفرور ہیں، انہیں واپس لانے کے لیے حکومت عدالت سے فوری درخواست کر سکتی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) والوں کا کہنا ہے کہ عمران کی حکومت میاں صاحب کو واپس لانے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کر چکی ہے لیکن ناکام رہی۔ انکا۔کہنا یے کہ نواز شریف علاج کی غرض سے برطانیہ گئے تھے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ایسے میں ان کا فوری وطن واپس آنا ممکن نہیں ہے۔ سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ پارٹی کا بیانیہ یہی ہے کہ نواز شریف کو اپنا علاج کرا کر وطن واپس آنا چاہیے۔

سیاسی تجزیہ کار بھی یہی کہتے ہیں کہ حکومت نواز شریف کو زبردستی واپس لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے تاہم نون لیگ کی جانب سے جونہی نواز شریف کی وطن واپسی کا اعلان کیا جاتا ہے تو تحریک انصاف اس بیانیہ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے یہ دعویٰ کر دیتی ہے کہ وہ خود قانونی طریقے سے نواز شریف کو وطن واپس لائے گی اور یوں اس معاملے پر سیاسی بیان بازی شروع ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ حکومت بھرپور کوشش کے باوجود بھی نواز شریف کو وطن واپس نہیں لا سکتی۔ ویسے بھی کپتان اینڈ کمپنی یہی مناسب سمجھتی ہے کہ نواز شریف جتنا عرصہ ملک سے باہر رہیں گے تحریک انصاف حکومت کو اس کا سیاسی فائدے ملتا رہے گا اس لیے نہ تو حکومت نواز شریف کو وطن واپس لانے میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی انہیں واپس لاسکتی ہے۔

Back to top button