منحرف اراکین کے نام سامنے آنے کے بعد حکومت کا سخت ردعمل

منحرف اراکین کے نام سامنے آنے کے بعد حکومت کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے. عوامی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر جاری اپنے پیغام میں حکومتی ترجمان فواد چودھری نے کہا ہے کہ ایکشن کے ڈر سے لوٹے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں. انہوں نے لکھا کہ پچھلے پانچ لوگوں کو 15 سے بیس کروڑ ملے ہیں، خچروں اور گھوڑوں کی منڈیاں لگ گئیں. منحرف اراکین سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ باضمیر ہوتے تو استعفیٰ دیتے.

فواد چودھری نے کہا کہ اسپیکر کو ان ضمیر فروشوں کو تاعمر نا ابل قرار دینے کی کارروائی کرنی چاہیے. اس سے قبل اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں بہت سا پیسہ منتقل کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں. انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سندھ ہاؤس میں لوگوں کو رکھنے کے لیے پولیس منگوائی گئی ہے. انہوں نے سندھ ہاوس کو ہارس ٹریڈنگ کا مرکز قرار دیتے ہوئے سخت ایکشن لینے کی بھی بات کی. واضح رہے کہ حکمران جماعت کے لاپتہ ممبران قومی اسمبلی اس وقت سندھ ہاؤس اسلام آباد میں مقیم ہیں.

پاکستان تحریک انصاف ترین گروپ کے راجہ ریاض اور اور نواب شیر وسیر اس وقت سندھ ہاؤس میں مقیم ہیں. حکمران جماعت کے دونوں اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز میں وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے تھے اس لیے انہیں سندھ ہاؤس آ کر رکنا پڑا. پرویز الٰہی نے 12 اراکین اسمبلی سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مل چکے ہیں تاہم راجہ ریاض نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی معلومات کو جھٹلاتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن کے ساتھ 12 نے بلکہ 24 ایم این ایز مل چکے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ مزید ممبران قومی اسمبلی بھی آنا چاہتے ہیں لیکن مسلم لیگ ن ان کو ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی.

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی سے پیسے نہیں لیے، وہ عدم اعتماد کا ووٹ ضمیر کے تحت ہی دیں گے. جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر سے گفتگو میں ترین گروپ کے ایم این اے راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ اور نوٹوں کی بوریاں لینے جیسے الزامات پر انہیں عمران خان سے اختلاف ہے اس لیے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے کہ کس کو ووٹ دینا ہے. راجہ ریاض نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان گارنٹی دیں کہ ارکین اسمبلی جو چاہیں فیصلہ کرسکتے ہیں اس پر پولیس کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں ہوگا تو وہ یہاں سے پارلیمنٹ لاجز جانے کو تیار ہیں

اس ضمن میں سندھ ہاوس میں مقیم رکن اسمبلی نواب شیر وسیر نے بھی راجہ ریاض کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ لاجزکے واقعے کی وجہ سے وہ سندھ ہاؤس منتقل ہوئے. انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالنے کے لیے وزیر اطلاعات فواد چودھری کو جھپی ڈال کے جائیں گے. نواب شیر وسیر کا کہنا تھا کہ ہمیں فواد چودھری سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے. سندھ ہاؤس میں موجود ایک اور ایم این اے باسط بخاری کا کہنا تھا کہ میں آزاد حیثیت میں الیکشن جیتا، میں نے کوئی وزارت نہیں مانگی، وزاء کا الزام لگانا درست نہیں. نور عالم خان نے کہا میں 3 برس سے کرپشن کے خلاف آواز بلند کر رہا ہوں، جو پیسے لے کر ووٹ بیچتے ہیں رسول ص کے امتی نہیں ہیں. انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی 20 کروڑ والی بات پر افسوس ہوا. کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے سندھ ہاوس میں موجود اراکین کی تعداد سے متعلق بتایا کہ ان کی گنتی کے مطابق وہاں موجود پی ٹی آئی کے ایم این ایز کی تعداد 20 ہے تاہم باقی اور لوگ بھی وہاں موجود ہو سکتے ہیں۔

Back to top button