حکومت کی دوغلی پالیسیاں، پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہماری دوغلی پالیسیاں ہیں۔ ایک جانب حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ثقافتی اداروں میں رقص کی تعلیم دی جاتی ہے لیکن دوسری طرف اسی ملک کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں موسیقی اور دھمال کو گناہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ پچھلے 75 سال سے حکومت اور ریاست میں اسی طرح کی دوعملی چل رہی ہے، خاص کر آرٹ اور کلچر جیسے موضوعات پر تو ریاست اور حکومت دونوں نے لمبی چپ سادھ رکھی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ ایک سرکاری ادارے الحمرا آرٹ سنٹر میں حال ہی میں ملک کی ٹاپ کلاسیکی رقاصہ ناہید صدیقی کے آرٹ اور فن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی ایک محو رقص پینٹنگ فن پارے کے طور پر الحمرا آرٹ سنٹر میں آویزاں کرنے کی تجویز زیر غور آئی تاکہ رقص کے فن کی مزید ترویج ہو سکے۔ لیکن دوسری طرف پنجاب کی ایک سرکاری یونیورسٹی میں قوالی کی محفل کے دوران دھمال ڈالنے پر دو پروفیسرز اور طالبات کے خلاف انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ اب نہ جانے اس انکوائری کے نتیجے میں ان ’’اوباش‘‘ پروفیسروں اور طالبات کو کیا سزا ملے گی۔۔۔۔۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں ایک طرف پنجاب حکومت کے سرکاری ادارے الحمراء میں رقص اور رقاصہ کو فن اور آداب و اخلاق کی ایک عمدہ مثال بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب اسی صوبے کی رحیم یار خان یونیورسٹی میں موسیقی اور دھمال کو گناہ تصور کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ پچھلے 75 سال سے حکومت اور ریاست میں اسی طرح کی دوعملی چل رہی ہے خاص کر آرٹ، کلچر اور تاریخ جیسے ’’غیر اہم‘‘ موضوعات پر ریاست اور حکومت کی لمبی خاموشی جاری رہتی ہے۔ اس ملک میں آرٹ کے فروغ کے ادارے رقص، موسیقی، اور مصوری کو فروغ دینے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ تاہم پولیس فن کاروں کو میراثی گردانتی ہے اور سرکاری ادارے ان پر قدغنیں لگاتے رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نہ تو ہم فنون اور ثقافت کو ’’اون‘‘ کرتے ہیں اور نہ ہی بطور انسان انہیں ’’ڈس اون‘‘ کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ تضادات کی بھرمار ہمارے معاشرے کی اصل بیماری ہے جس سے نکلنا ضروری یے۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں پاکستان کو اپنی تہذیبی شناخت کے حوالے سے مسائل رہے ہیں۔ ایک طرف تو ہماری مسلم شناخت ہے جسکی وجہ سے پاکستان بنا جبکہ دوسری طرف ہماری ایک ثقافتی شناخت اور اسکے گہرے اثرات بھی ہیں۔ ممتاز ادیب احمد ندیم قاسمی نے تو اس مسئلے کا حل یہ نکالا تھا کہ پاکستان کی تاریخ و تہذیب کا آغاز محمد بن قاسم کے سندھ میں آنے سے نہیں بلکہ موہنجودڑو سے کیا جانا چاہیئے۔ دوسری طرف کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم اس خطے کے لوگوں سے الگ ہیں، ہماری تہذیب و شناخت مختلف ہے اور ہم عربوں سے صرف مذہب ہی نہیں شیئر کرتے بلکہ ہمارا ان سے ثقافت، تہذیب اور رویوں کا بھی اشتراک ہے، اسی لئے کئی دوست اپنے اس تعلق کا اظہار پاکستان کو عربی بنا کر’’ الباکستان ‘‘ لکھتے ہیں۔
لیکن میری طالب علمانہ رائے میں ہمیں اپنی اسلامی اور تاریخی شناخت دونوں کو ملا کر چلنا چاہیے۔ سعودی عرب میں اب بھی بڑے فخر سے زمانہ جاہلیت کی عربی شاعری پڑھی اور سنائی جاتی ہے۔ وہاں کے شاہی خاندان کا رقص اکثر تقریبات میں نظر آتا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تو اپنے ملک کی ایک جدید شناخت بنانے کے قائل لگتے ہیں۔ سعودی عرب میں آئے روز موسیقی کے کنسرٹ ہو رہے ہیں، عورتیں ڈرائیونگ کر رہی ہیں اور ہم قوالی پر دھمال ڈالنے والوں پر حد نافذ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں ابھی کل تک عورتوں کے لیے کالے رنگ کا برقع ہوا کرتا تھا، وہاں ڈرائیونگ پر پابندی تھی لیکن پھر وہاں آزادیاں مل گئیں لیکن یہاں قوالی میں دھمال ڈالنے پر ابھی تک پابندیاں ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ آج کی دنیا میں ملک الگ تھلگ نہیں رہ سکتے۔ اب سوائے طالبان کے افغانستان کے دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں عورتوں پر پابندیوں کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان دنیا میں پاکستان وہ واحد خوش قسمت ملک ہے جس نے ساری مسلم دنیا سے پہلے جناح اور اقبال کے دور میں ہی اعتراف کر لیا تھا کہ مسلم دنیا کے آگے بڑھنے کا واحد راستہ جمہوریت ہے۔پاکستان کا آئین دنیا کا وہ پہلا آئین ہے جس میں اسلام اور جمہوریت کا ملاپ پیش کیا گیا ہے۔ محمد علی جناح اور ان کی بہن فاطمہ جناح مسلم دنیا کی خواتین کی تعلیم اور ان کی آزادیوں کے بہت بڑے چیمپئن تھے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی چھٹیوں پر پاکستان آنے سے گریزاں کیوں؟
آج کے دور میں ساری سیاسی جماعتوں کو جہاں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے واضح پالیسیاں بنانی چاہئیں وہاں ثقافت کے حوالے سے بھی اپنا نقطہ نظر واضح کرنا چاہیے۔ اب جبکہ جماعت اسلامی موسیقی کے ساتھ اپنے سیاسی نعرے لگاتی ہے تو کیا ہمیں موسیقی کے بارے میں اپنے ماضی کے رویوں پر نظر ثانی نہیں کرنی چاہیے۔ اب جبکہ ٹی وی اور سوشل میڈیا کے زمانے میں فلم، تھیٹر اور دیگر فنون کی ہر ہاتھ میں رسائی ہو چکی ہے، کیا ہمیں بھی اپنے نظریات میں ترمیم نہیں کرنی چاہیے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کو پہلا قدم اٹھاتے ہوئے رحیم یار خان کی جامعہ میں پروفیسرز اور طالبات کے دھمال ڈالنے پر شروع کی جانے والی انکوائری کا خاتمہ ایک اہم سگنل ہو گا۔ دوسری طرف قائد اعظم اور فاطمہ جناح کے تصورات پر چلتے ہوئے خواتین کو شانہ بہ شانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنا بھی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ انہیں چاہیے کہ محفوظ نشستوں پر خواتین امیدواروں کو کھڑا کریں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور ان کے اعتماد میں اضافہ ہو۔ عورتوں نے آگے بڑھنا ہے تو پاکستانی معاشرے نے آگے بڑھنا ہے۔ ہم نے دو یا تین پاکستان رکھے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے، جتنے تضادات کم ہوں گے اتنی ترقی تیز تر ہوگی۔
