پہلگام حملے کا ذمہ دار گروہ عالمی دہشتگرد ہے ، امریکا

امریکا نے بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے گروہ کو غیر ملکی دہشتگرد تنظیم (FTO) اور خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشتگرد (SDGT) قرار دے دیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے 22 اپریل کو وادی بائسارن میں ہونے والے حملے کا الزام، بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے، پاکستان پر عائد کیا تھا اور اسی واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف محدود فوجی کارروائی بھی کی تھی۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، مذکورہ گروہ نے ابتدا میں حملے کی ذمہ داری قبول کی، تاہم بعد میں اس سے لا تعلقی ظاہر کر دی۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں بھارتی مؤقف کی بازگشت سنائی دی، جس میں نئی دہلی نے اس کم معروف گروہ کو کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کا فرنٹ اور پراکسی قرار دیا تھا۔ بھارت لشکرِ طیبہ کو 2008 کے ممبئی حملوں سمیت کئی دیگر کارروائیوں کا بھی ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا دسمبر 2001 میں ہی لشکرِ طیبہ کو اپنی ایف ٹی او فہرست میں شامل کر چکا ہے۔
یہ نیا گروہ پہلی بار 2020 میں اس وقت منظرِ عام پر آیا، جب اُس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل ایم ایم نراوَنے نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے کشمیر میں ایک "نئی دہشتگرد تنظیم” بنائی ہے۔ ان کے مطابق، "یہ محض ایک اور دہشت گرد تنظیم ہے جس کا نام مختلف ہے اور یہ سرحد پار سے آپریٹ ہوتی ہے۔” پاکستان نے ان الزامات کو فوری طور پر مسترد کر دیا تھا۔
اسحاق ڈار کی کابل میں افغان اور ازبک وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں
امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی حکومت کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے، دہشتگردی کے خلاف کارروائی اور پہلگام حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب، حال ہی میں بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اس گروہ کے خلاف بھارت سے تعاون کرنے کو تیار ہے۔
اسی انٹرویو میں کرن تھاپر نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے اقوام متحدہ میں اس گروہ کو دہشتگرد قرار دلوانے کی کوشش کی تھی، تاہم چین نے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے اس اقدام کو روک دیا۔
