کیا بڑی عدالتیں نور کے قاتل کی سزا برقرار رکھ پائیں گی

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت تو سنا دی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی ملزم کی جانب سے اپیل کی صورت میں سزا کے فیصلے کو برقرار رکھی پائیں گی کیونکہ اکثر ایسے کیسز میں بڑی عدالتیں چھوٹی عدالتوں کے فیصلوں کو ناقص تفتیش اور کمزور ثبوتوں کی بنا پر ریورس کر دیتی ہیں۔ ظاہر جعفر کو سزائے موت سنانے کے علاوہ عدالت نے ان کے دو ملازمین جان محمد اور افتخار کو بھی دس، دس سال قید کی سزا سُنائی ہے۔

ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت قتل کیس میں نامزد دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔ سزائے موت کے ساتھ ساتھ عدالت نے نور مقدم کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ظاہر جعفر کو 25 سال قید بامشقت اور دو لاکھ روپے جرمانہ، اغوا کا جرم ثابت ہونے پر دس سال قید بھی سُنائی ہے۔ نور مقدم کو حبس بیجا میں رکھنے پر مجرم ظاہر جعفر کو علیحدہ سے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد 22 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 24 فروری کو سُنایا گیا۔ یاد رہے کہ ظاہر جعفر نے 20 جولائی 2019 کو اسلام آباد کی رہائشی نور مقدم کو سفاکی سے قتل کرنے کے بعد اس کا سر دھڑ سے علیحدہ کر دیا تھا۔

ملزمان پر 14 اکتوبر 2021 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی اور مقدمے کا فیصلہ فرد جرم عائد ہونے کے لگ بھگ 17 ہفتے بعد ہوا۔ عمومی طور پر پاکستانی عدالتوں میں قتل کے مقدمات کا فیصلہ اتنی جلدی نہیں ہوتا تاہم اس مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو دو ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ سُنانے کا حکم دیا تھا۔

نریندر مودی عمران سے مباحثہ کیوں نہیں جیت پائیں گے؟

مقررہ مدت تک مقدمے کا فیصلہ نہ ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے مقررہ مدت میں چھ ہفتے کی توسیع کی اور جب اس دوران بھی فیصلہ نہ ہو سکا تو پھر ٹرائل کورٹ کے جج کی درخواست پر اس میں مزید چار ہفتوں کی توسیع کر دی گئی تھی۔ نور مقدم کے سابق سفارتکار والد نے عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یے ظاہر ظفر کی سزائے موت کو انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملزم کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کی جانے کی صورت میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی چھوٹی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھیں گی۔

نور مقدم قتل کیس کے آغاز ہی سے ایک بات تو واضح تھی کہ یہ مقدمہ جتنا عدالت میں لڑا جانا تھا، اس حوالے سے اتنی ہی بحث سوشل میڈیا پر کی جانی تھی۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ‘جسٹس فار نور’ کا ٹرینڈ بھی چلنے لگا تھا جس میں ملک بھر سے صارفین انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن دوسری جانب مقتولہ کی کردار کشی اور انھی پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

وفاقی وزرا سے لے کر وزیرِاعظم تک ہر کسی نے نور کے قتل کی مذمت کی اور انصاف کی پاسداری کی یقین دہانی کروائی۔ عمران خان کی جانب سے اس قتل کا نوٹس بھی لیا گیا اور پولیس کو سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کا کہا گیا۔ نور مقدم کیس میں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ اور پولیس کی تحقیقات کے دوران مقدمے کے حوالے سے آئے روز نئے انکشافات سامنے آتے رہے۔

ان میں سے بلاشبہ سب سے بڑا انکشاف فرانزک لیب کی ڈی این اے رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی کے قتل سے قبل مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے مقتولہ کا ریپ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق جب نور مقدم نے ملزم ظاہر جعفر سے شادی سے انکار کیا تو ملزم نے انھیں زبردستی کمرے میں بند کر دیا اور اپنے چوکیدار سے کہا کہ وہ کسی کو بھی گھر کے اندر نہ آنے دیں۔ اس کے بعد ملزم نے نور پر تشدد بھی کیا اور اسے قتل کر کے اُن کا سر دھڑ سے الگ کر دیا۔

گرفتاری کے فوری بعد ظاہر جعفر نے نور مقدم کے قتل کا اعتراف کر لیا تھا لیکن جب مقدمے کا فیصلہ قریب آیا تو اس نے یہ دعویٰ کردیا کہ قتل اس نے نہیں کیا۔ زاہد جعفر نے یہ کہانی گھڑی کے واردات والے دن نور نے اس کے گھر پر ایک ڈرگ پارٹی رکھی تھی جس کے دوران نشہ کرنے کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا اور جب ہوش میں آیا تو نور قتل ہو چکی تھی۔

تاہم عدالت نے اس کی اس جھوٹی کہانی پر یقین نہیں کیا اور اسے سزائے موت سنادی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بڑی عدالتیں بھی چھوٹی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہیں یا پھر قندیل بلوچ قتل کیس کی طرح بالآخر اس سفاک قاتل کو رہائی مل جاتی ہے۔

Back to top button