کیا IMF نے امریکی ایما پر پاکستان کو شکنجے میں جکڑا؟

سنیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے دراصل امریکہ کے کہنے پر پاکستان کو اپنے سخت ترین شکنجے میں جاکڑا یے کیونکہ بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں اپنی بدترین شکست کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتی ہے۔
بقول نصرت جاوید آئی ایم ایف نصابی کتابوں میں بیان کردہ محض ایک بینک نہیں ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ ہے۔ امریکہ اس کی پالیسی سازی میں کلیدی اختیارات کا حامل ہے اور وہ اس ادارے کو دیگر ممالک پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لئے بے دریغ انداز میں استعمال کرتا ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ان دنوں پاکستان کے ساتھ ایسا ہی رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ اس کا حقیقی ہدف پاکستان کی معیشت کو نصابی اصولوں کے اطلاق کے ذریعے توانا تر اور خوش حال بنانا ہرگز نہیں بلکہ بہت مہارت سے ہمیں افغانستان میں امریکہ کو درپیش ذلت ورسوائی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مختلف النوع شکنجوں میں جکڑا جا رہا ہے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ماہرین اس پہلو کو دانشورانہ بددیانتی کرتے ہوئے نظرانداز کر کے پاکستانی معیشت کو دستاویزی بنانے کا ڈھول پیٹے جا رہے ہیں۔ نصرت کہتے ہیں کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے برملا اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کے دباؤ کی وجہ سے آئی ایم ایف پاکستان کو ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کے لئے کڑی شرائط عائد کر رہا ہے حالانکہ ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ وزیر خزانہ کے اعتراف کے باوجود معاشی موضوعات پر لکھنے والے ماہرین کا لشکر اصرار کیے چلا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف نے ہماری معیشت کی بحالی اور خوشحالی کے لئے جو نسخہ تیار کیا ہے وہ وقتی طور پر تکلیف دہ تو ہے، طویل المدت بنیاد پر لیکن یہ نسخہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کردے گا۔ ہماری معیشت کے تمام شعبے دستاویزی ہوجائیں گے۔ لوگوں کے لئے اپنی آمدنی چھپانا ممکن نہیں رہے گا اور ہماری ریاست زیادہ سے زیادہ ٹیکس حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ پاکستانیوں میں اپنی آمدنی کے عین مطابق ٹیکس دینے کی عادت پختہ ہو گئی تو ہماری ریاست کو غیر ملکی قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
نصرت جاوید یاد دلواتے ہیں کہ معیشت کو ہر صورت دستاویزی بنانے کی کہانیاں ہم نے جنرل مشرف کے ابتدائی ایام میں بھی تواتر سے سنی تھیں۔ ان دنوں بھی بعض نام نہاد معاشی دانشور جمہوری نظام پر مبینہ طور پر قابض ہوئے نا اہل اور بدعنوان سیاستدانوں سے بیزار نظر آتے تھے۔ انہیں امید تھی کہ جنرل مشرف نے اپنے سات نکاتی ایجنڈے کو بروئے کار لانے کے لئے شوکت عزیز جیسے ٹیکنوکریٹ افراد کی جو ٹیم چنی ہے وہ پاکستان کو معاشی استحکام کے علاوہ حقیقی جمہوری نظام کا حامل ملک بھی بنادے گی۔ تاہم معیشت کو دستاویزی بنانے کے لئے فوج کی نگرانی میں سروے کے لئے حکومتی ٹیمیں تاہم بازاروں میں جانا شروع ہوئیں تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ مہم جاری رہی۔ اسی دوران امریکہ میں نائن الیون ہو گیا جس نے امریکہ کو افغانستان پر قبضے کو اکسایا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے پاکستان اس کا کلیدی اتحادی بن گیا۔ ہمارے تعاون نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو بھی مہربان بنا دیا۔ ہماری معیشت حقیقی معنوں میں دستاویزی ہوئے بغیر خوش حال نظر آنا شروع ہو گئی۔ وقتی خوش حالی کا حقیقی سبب اگرچہ وہ دوستانہ رعایتیں تھیں جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے فراہم کیں۔ اس کے علاوہ کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر بھی ہمیں امریکہ سے وافر رقوم مہیا ہوتی رہیں اس لئے سب یہی سمجھتے رہے کہ معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہوگئی ہے۔
پاکستان ہمسایہ ملک آرمینیا کو تسلیم کرنے پر کیوں تیار نہیں؟
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ 2006 کے اختتامی ایام میں لیکن واشنگٹن کے پالیسی ساز حلقوں نے پاکستان پر ڈبل گیم کھیلنے کے الزامات لگانا شرو ع کردیے۔ جنرل مشرف کو محترمہ بے نظیر بھٹو سے روابط بڑھانے کو بھی مجبور کیا گیا۔ بھارت کے ساتھ دیرپا امن کے حصول کے لئے خفیہ مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ عدلیہ بحالی کی تحریک بھی شروع ہو گئی۔ معیشت کو دستاویزی بنانے پر بضد ماہرین اس دوران منافقانہ خاموشی کو ترجیح دیتے رہے۔ وقتاً فوقتاً اگرچہ جنرل مشرف کی روشن خیالی کے گن گاتے رہے لیکن معیشت آج دن تک دستاویزی نہ ہوسکی۔ مشرف کے بعد پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتیں آئیں، تحریک انصاف کی حکومت بھی اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے لیکن معیشت دستاویزی نہ ہوسکی ہے اور نہ ہوگی کیونکہ آئی ایم ایف کا ایجنڈا کچھ اور ہے۔ یہ ادارہ افغانستان میں شکست فاش سے دوچار ہونے والے امریکہ کے کہنے پر پاکستان کو سبق سکھانے کے لئے جکڑ بندیوں کا شکار کرنا چاہتا ہے لیکن کوئی سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔
