موت کا پیچھا کرنے والے ایران کے فلسفی سپاہی علی لاریجانی

ایران کی سیاست اور عسکری محاذ پر نمایاں خدمات سر انجام دینے کی وجہ سے ایک ‘فلسفی سپاہی’ کا لقب حاصل کرنے والے علی لاریجانی سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ملک کی سب سے طاقتور شخصیت تھے جنہیں اسرائیل نے ایک میزائل حملے میں شہید کر دیا ہے۔
ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ لاریجانی سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کے بعد اسرائیل اور امریکہ کا نمبر ون ٹارگٹ ہونے کے باوجود دلیری کیساتھ موت کا پیچھا کرتے تھے اور اپنی شہادت سے چند روز پہلے تک ایران کی مرکزی شاہراہوں پر جلوسوں کی قیادت کر رہے تھے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بطور ایرانی نیشنل سیکیورٹی کے سربراہ، علی لاریجانی کی طاقت میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا تھا اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ بااثر ہو گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک پر ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں کی حکمت عملی بھی وہی ترتیب دے رہے تھے۔
ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد لاریجانی نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مقابلے میں کہیں زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہے تھے، بظاہر اس کی وجہ یہ تھی کہ مجتبی زخمی ہونے کی وجہ سے عوامی سطح پر کم ہی نظر آ رہے ہیں۔ لاریجانی کی دلیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ چند روز پہلے تہران میں ایک حکومتی ریلی کے دوران عوام کے درمیان موجود تھے اور اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے مزاحمت کی علامت بنے رہے، چنانچہ انہیں نشانہ بنانا اسرائیل کے لیے ترجیح بن گیا تھا۔
علی لاریجانی کی شہادت ایران کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے کیونکہ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جو نظریاتی وابستگی اور سفارت کاری کو بیک وقت آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ ایران کی جوہری پالیسی اور سٹریٹجک سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔
68 سالہ لاریجانی، جو ہمیشہ چشمہ لگائے اور محتاط اندازِ گفتگو کے لیے جانے جاتے تھے، آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتہائی معتمد سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے پارلیمان، فوج، میڈیا اور سکیورٹی اداروں میں طویل اور اثر انگیز کیریئر گزارا۔ جون 2025 میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد انہیں ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی باڈی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اس سے قبل بھی وہ اسی ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں نبھا چکے تھے اور دفاعی حکمت عملی و جوہری پالیسی کی نگرانی کرتے رہے تھے۔ بعد ازاں وہ سفارتی میدان میں بھی سرگرم ہوئے اور خلیجی ممالک کے دورے کیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران جوہری مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم جنگ کے باعث یہ کوششیں ناکام ہو گئیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق لاریجانی ایک ایسے حکمت کار تھے جو ایرانی نظام کے پیچیدہ ڈھانچے کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہیں سفارتی میدان کا ایک کامیاب کھلاڑی بھی قرار دیا جاتا تھا۔ 1957 میں نجف میں پیدا ہونے والے علی لاریجانی ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
لاریجانی خاندان کو ایران کا کینیڈی خاندان بھی کہا جاتا ہے۔ انکے بھائی صادق لاریجانی سمیت دیگر افراد بھی اعلیٰ ریاستی عہدوں پر فائز رہے، جب کہ ان کے سسر مرتضیٰ مطہری انقلابِ ایران کے نظریاتی ستونوں میں شمار ہوتے تھے۔
تعلیم کے میدان میں بھی علی لاریجانی منفرد حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے قم سے دینی تعلیم حاصل کی، آریامہر یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری لی اور پھر تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے امانوئل کانٹ سمیت کئی مغربی مفکرین پر کتابیں بھی لکھیں۔ ان کا سیاسی سفر انقلابِ ایران کے بعد شروع ہوا۔ وہ نائب وزیر سے لے کر سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ تک مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ 1994 سے 2004 تک انہوں نے ایران کے سرکاری میڈیا کو کنٹرول کیا، جو ملک میں رائے عامہ کی تشکیل کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
2005 میں انہیں اس وقت کے صدر محمود احمدی نژاد نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا، جہاں انہوں نے جوہری مذاکرات کی قیادت کی۔ تاہم پالیسی اختلافات کے باعث 2007 میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
سال 2008 سے 2020 تک وہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر رہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان توازن قائم رکھا۔ انہیں ایک ایسے سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو قدامت پسندی اور اعتدال پسندی کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جنوری 2026 میں ایران میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے دوران لاریجانی نے سخت کریک ڈاؤن کی قیادت کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس دوران ہزاروں افراد جان بحق ہوئے، جس پر امریکہ نے ان پر پابندیاں بھی عائد کیں، تاہم ایران میں انہیں اس اقدام کے بعد مزید طاقتور سمجھا جانے لگا۔
دلچسپ طور پر منتخب صدر مسعود پزشکیان نے بھی اعتراف کیا تھا کہ حکومتی فیصلوں، حتیٰ کہ انٹرنیٹ پابندیوں کے خاتمے کے لیے بھی انہیں لاریجانی کی منظوری درکار ہوتی تھی، جس سے ان کے اثر و رسوخ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
امریکی اڈے خلیجی ممالک کے لیے رحمت کی بجائے زحمت کیوں بنے؟
علی لاریجانی کی شخصیت بیک وقت ایک دانشور اور سخت گیر منتظم کی تھی۔ وہ فلسفیانہ گفتگو کرتے تھے مگر فیصلے انتہائی سخت کرتے تھے۔ ان کی موت نے نہ صرف ایران کی قیادت میں خلا پیدا کر دیا ہے بلکہ خطے میں جاری تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔
