فوج کا کام سیاست کرنا ہے یا کہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے پاکستانی عوام کے عمومی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا ان کا کام نہیں کہ کس شخص کو کیسے اپنی زندگی گزارنی چاہیے، انکاکہنا ہے کہ کوئی کرکٹ کھیلے یا ڈانس کرے یا پوری پوری رات مسجد میں گزارے، یہ فیصلہ فرد واحد کا ہوتا ہے اور ہر شخص کے اپنے ہاتھ میں ہونا چاہیے‘ ریاست یا معاشرے کو اس پر اثرانداز ہونے کہ اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انکا کہنا ہے کہ اسوقت پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج ایک نارمل ملک دکھائی دینا ہے‘ ہم نے جس دن پاکستان کو ایک نارمل ملک بنا لیا، اس روز یہ ترقی بھی کر جائے گا، ورنہ یہ ابنارمیلٹی ہمیں دلدل میں گرنے والی بس کی طرح آہستہ آہستہ نگلتی چلی جائے گی۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم ایک طرف مذہب کے نام پر لوگوں کو زندہ جلا دیتے ہیں‘ حروف تہجی کی قمیض پہننے پر خاتون کو بھرے بازار میں یرغمال بنا لیتے ہیں‘ ہم گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو گولی مار دیتے ہیں، جب کہ دوسری طرف پاکستانی شراب ایوارڈ حاصل کر رہی ہے‘ ملک میں نشے پر پابندی ہے لیکن اداکار ساجد حسن کا بیٹا ساحر حسن کورئیر کمپنیوں کے ذریعے ہر ماہ اڑھائی کلو نشہ آور۔پاوڈر منگوا کر اسے دس ہزار روپے فی گرام کے حساب سے فروخت کرتا رہا ہے‘ پاکستان میں شراب پر پابندی ہے لیکن نشئی پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں‘ آپ کسی شہر میں چلے جائیں، آپ کو جہاز ملیں گے جنہیں روزانہ کی بنیاد پر نشہ بھی دستیاب ہو گا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مذہبی تہوار اتنے جوش اور جذبے سے منائے جاتے ہیں کہ حکومت انٹرنیٹ‘ فون اور سڑکیں بند کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بے ایمانی کا یہ عالم ہے لوگ جعلی آب زم زم بیچتے ہیں‘ یہ خوراک اور ادویات میں ملاوٹ کرتے ہیں اور آپ کو پورے ملک میں خالص دودھ‘ دہی اور گھی نہیں ملتا‘ گوشت اور مرغی کی کوالٹی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ ہم ایک طرف ماتھے پر محراب کا نشان بنوا لیتے ہیں اور دوسری طرف ہم بھکاریوں کو سعودی عرب اور دبئی بھجوا دیتے ہیں اور یہ وہاں مانگ مانگ کر ملک کا نام روشن کرتے ہیں‘ ہمارے تمام ائیرپورٹس سے روزانہ ہیومن سمگلرز اور منشیات کے سمگلرز پکڑے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
جاوید چوہدری کے مطابق ہماری عدالتیں اورجج عوام کو انصاف دینے کے بجائے ایک دوسرے کو خط لکھتے رہتے ہیں‘ پولیس جرائم کنٹرول کرنے کے بجائے اپوزیشن کو ڈنڈا ڈولی کرتی ہے اور فوج سرحدوں کی حفاظت کے بجائے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کنٹرول کر رہی ہے اور پیچھے رہ گئی۔ حکومت ترقیاتی کاموں کے بجائے فارم 47 کی دھوتی سنبھال کر بیٹھی ہے چناںچہ آپ اس ملک میں کوئی ایک چیز نارمل دکھا دیں‘ پورے ملک میں نماز کے وقت آدھ آدھ گھنٹہ اذان کی آواز آتی ہے اور دوسری طرف پاکستان گندی فلمیں اور گندے کلپس دیکھنے میں پہلے نمبر پر آتا ہے‘ وزیراعظم ہر تین سال بعد اپنے عسکری باس کا انتخاب کرتا ہے اور پھر ون پیج پر فخر کرتا ہے‘ کیا یہ رویے نارمل ہیں!کیا ہم ایک نارمل ملک ہیں؟ ہم اگر واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سب سے پہلے خود کو نارمل کرنا ہو گا‘ ہمیں اپنے ملک کو بھی دوسرے نارمل ملکوں کی طرح ایک نارمل ملک بنانا ہو گا‘ ہر ادارے کا جو کام ہے اسے اس کام پر لگانا ہو گا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور اسے حفاظت کا ہی فریضہ سرانجام دینا چاہیے بجائے کہ سیاست میں ڈوئی مارے۔ ہمیں فوج کو بیانیے کی جنگ سے نکال کر سرحدوں پر لگانا ہو گا‘ الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کروانا ہے‘ ہمیں اس سے فری اینڈ ٹرانسپیرنٹ الیکشن کا کام لینا ہو گا‘ پولیس کا کام جلسے اور جلوس روکنا نہیں‘ اسے اس کام سے نکال کر جرائم کنٹرول کی طرف واپس لانا ہو گا اور عدالتوں کا کام انصاف دینا ہے ہمیں ان سے بھی صرف یہی کام لینا ہو گا‘ مرضی کی عدالت اور مرضی کے ججوں کا کھیل اب اس ملک میں بند ہونا چاہیے اور شہروں کی صفائی ستھرائی اور انتظام وانصرام بلدیاتی اداروں کی ذمے داری ہے‘ ہمیں ایک ہی بار یہ ادارے بنا کر انھیں یہ اختیار بھی دینا ہو گا‘ حکومتیں اور ادارے پوری دنیا میں ون پیج پر ہی ہوتے ہیں۔
