جج نے دنیا میں تو بیٹے کو بچا لیا لیکن آخرت میں کیا کرے گا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے طاقت ور جج جسٹس محمد آصف نے دو سکوٹی سوار معصوم بچیوں کو کچلنے والے اپنے قاتل بیٹے کو مقتولین کے والدین سے زور زبردستی معافی تو دلوا دی ہے لیکن اللہ تعالی بے موت ماری جانے والی ان مظلوم بچیوں کا خون نہ تو جج کو اور نہ ہی ان کے بیٹے کو معاف کرے گا۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری اپنی تازہ تحریر میں ان کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل خراش واقعہ پیش آیا‘ سفیدرنگ کی لینڈ کروزر نے سکوٹی پر سوار دو نوجوان بچیاں روند دیں‘ یہ دونوں این سی اے میں پارٹ ٹائم جاب کرتی تھیں اور غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں‘ دونوں سہیلیاں تھیں‘ سکوٹی پر آتی اور جاتی تھیں‘ یکم دسمبرکی رات یہ گھر جا رہی تھیں جب ایک تیز رفتار لینڈ کروزر کی زد میں آگئیں‘ دونوں وہیں جاں بحق ہو گئیں‘ پولیس نے کار سوار کو گرفتار کیا تو اس کی عمر 16سال نکلی‘ وہ شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس دونوں کی عمر تک نہیں پہنچا تھا‘ گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی جعلی تھی اور لڑکا ڈرائیونگ کرتے ہوئے سنیپ چیٹ پر تھا‘ اس دوران گاڑی آئوٹ آف کنٹرول ہو کر سکوٹی پر چڑھ گئی‘ حادثہ اس قدر خوف ناک تھا کہ گاڑی کی فرنٹ سائیڈ بھی تباہ ہو گئی‘ آپ اس سے گاڑی کی سپیڈ کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

جاوید چوہدری کے مطابق پولیس نے جب نوجوان سے تحقیقات کیں تو پتا چلا یہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا بیٹا ہے‘ معاملہ میڈیا میں ہائی لائٹ ہو گیا چناںچہ لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی شروع ہو گئی‘ ملزم کیوں کہ جج صاحب کا صاحب زادہ تھا لہٰذا اسے حوالات میں کھانا بھی مل گیا‘ واش روم کی سہولت بھی اور ہیٹر اور موبائل فون بھی‘ ابوذر ریکی جج کا بیٹا عملاً حوالات میں بھی نہیں رہا‘ پولیس کے پاس امیر اور تگڑے ملزموں کے لیے تھانوں میں الگ رہائش گاہیں ہوتی ہیں‘ ایک اسے بھی الاٹ کر دی گئی‘ جج صاحب دو تین دن عدالت تشریف نہیں لائے‘ اس دوران سسٹم کے اندر اور باہر موجود ان کے دوستوں نے بھاگ دوڑ کی‘ 6 دسمبر کو اس کیس کی سماعت تھی‘ حیران کن طریقے سے ایک بچی کے بھائی نے عدالت میں آ کر ملزم کی معافی کا اعلان کر دیا‘ بچی کی والدہ بیمار تھیں‘ وہ عدالت نہیں آ سکتی تھیں‘ جج صاحبہ نے اس کی معافی ویڈیو بیان سے قبول کر لی‘ دوسری بچی کا والد بھی عدالت میں پیش ہوا اور اس نے بھی ملزم کو معاف کر دیا۔

جج صاحبہ نے ان دو معافیوں کے بعد کیس کا فوراً فیصلہ کر دیا‘ فیصلہ اسی وقت ٹائپ ہوا‘ مچلکے تیار تھے اور جج صاحبہ کے حکم پر ملزم ابوذر ریکی کو گھر بھجوا دیا گیا یوں دو بچیوں کو غرور اور ظلم کی گاڑی تلے کچلنے والا نوجوان اپنے گھر واپس چلا گیا اور انصاف کا یہ سارا عمل ان بچیوں کا خون خشک ہونے سے پہلے پہلے مکمل ہو گیا‘ سینئیر صحافی کا کہنا ہے کہ آپ اگر آج بھی جائے حادثہ کا وزٹ کریں تو آپ کو سڑک اور فٹ پاتھ دونوں پر بچیوں کے خون کے دھبے مل جائیں گے اور شاید ان بچیوں کی روحیں بھی اسی فٹ پاتھ کے کسی کونے میں بیٹھی بال کھول کر انصاف کے نام پر ہونے والے اس کھکواڑ پر ماتم کر رہی ہوں گی۔

جاوید چوہدری کے مطابق یہ انتہائی افسوس ناک اور دل خراش واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارا سماج اندر اور باہر دونوں سائیڈز سے گل سڑ چکا ہے اور اگر ہم نے اس پر توجہ نہ دی تو یہ کھوکھلا سماج ہمیں مزید برباد کر دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جج صاحب نے اپنے بیٹے کو بچانا تھا اور انہوں نے بچا لیا حالانکہ وہ اب پوری زندگی لوگوں کی نفرت کا سامنا کریں گے۔ انصاف سے کھلواڑ کرنے والے جج کو قتل ہونے والی دو مظلوم بچیاں پوری زندگی چین سے سونے نہیں دیں گی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ کون سی طاقت تھی جس نے سولہ سال کے بچے کو لائسنس کے بغیر گاڑی سڑک پر دوڑانے کی جرات عطا کی‘ جواب یہ ہے کہ وہ ایک جج کا بیٹا تھا اور جانتا تھا کہ اسے کوئی نہیں روکے گا اور اگر کسی نے روک لیا تو والد کا نام روکنے والے کو سلیوٹ پر مجبور کر دے گا۔

المیہ یہ ہے کہ جب جج کے بیٹے نے دو معصوم بچیوں کو کچل کر جان سے مار دیا تو انصاف بانٹنے والے جج نے نا انصافی کرتے ہوئے چار دنوں میں دونوں بچوں کے لواحقین کو معافی دینے پر مجبور کر لیا۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ قانونی لحاظ سے تو جسٹس محمد آصف کے بیٹے ابوذر ریکی کو معافی مل گئی لیکن کیا یہ آخری جج اور آخری عدالت ہیں اور کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی طاقت سرینڈر کر دی ہے؟ یقین اگر خدا موجود ہے اور اس کی عدالت بھی سلامت ہے تو پھر یہ باپ اور بیٹابروز محشر اس کا سامنا کیسے کریں گے؟ جج اور ان کا ضدی بیٹا اللہ کے انصاف سے کیسے بچیں گے؟ مجھے نہیں لگتا دونوں مظلوم بچیوں کا خون جج اور اس کے بیٹے کو معاف کرے گا۔

Back to top button