جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کے6 ججز کے ناموں کی منظوری دیدی

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے6 ججزکے ناموں کی منظوری دیدی ہے۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق،سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شفیع صدیقی،بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم کاکڑاور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دے دی۔
سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کیلئےچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق،سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شفیع صدیقی،بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم کاکڑاور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی منظوری دےدی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اورجسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے،دونوں ججز جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تقرری کیلئے کے لیے 25 ناموں پر غورکیا جارہا ہے،ان ججز میں تمام ہائی کورٹس کے 5 سینئر ترین ججز کے نام شامل ہیں۔
واضح رہےکہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے چند روزقبل سپریم کورٹ کے 4 ججز،جن میں جوڈیشل کمیشن کے 2 ارکان جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر بھی شامل ہیں،نے اجلاس موخر کرنے کیلئےچیف جسٹس کو خط لکھا تھا،جب کہ کمیشن میں شامل پی ٹی آئی کے رکن علی ظفر نے بھی اجلاس مشروط طور پر موخر کرنے کیلئےخط تحریر کیا تھا۔
سینیٹر علی ظفر نے خط میں لکھا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ججز کی سنیارٹی کا معاملہ حل ہونے تک اجلاس مؤخر کیا جائے۔
خط میں کہا گیا تھا کہ ججز کے ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل ہوگئی ہے،ججز کے تبادلے سے تاثر ہے کہ یہ سارا بندوبست بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں کیلئےکیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وکلا ایکشن کمیٹی کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیم اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے،اب سے کچھ دیر قبل احتجاجی وکلا نے اسلام آباد کے سرینا چوک سے سپریم کورٹ جانے کی کوشش کی تو وکلا اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوگئی،پولیس نے احتجاجی وکلا پر لاٹھی چارج بھی کیا۔
وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کا آغاز کیا،اس دوران انتظامیہ نے سرینا چوک کو کنٹینرز لگا کر بندکردیا تھا،انتظامیہ نے ریڈ زون کو بھی مکمل سیل کر رکھا ہے،وکلا اس وقت ڈی چوک پہنچ چکے ہیں جہاں انہوں نے دھرنا دے دیا ہے۔
پولیس اور وکلا کے درمیان جھڑپ کے بعد احتجاجی وکلا منتشر ہوگئے اور سری نگر ہائی وے پر دھرنا دے دیا، بعد ازاں پولیس نے انہیں وہاں سے بھی منتشر کر دیا، جس کے بعد وکلا ڈی چوک پر پہنچ کر دھرنا دے کر بیٹھ گئے تھے۔
