دی لیجنڈ آف مولا جٹ سے بھارتی انتہا پسندوں کو کیا تکلیف ہے؟

پاکستان کی سپرہٹ فلم "دی لیجنڈ آف مولا جٹ” کےانڈیا میں ریلیز کے اعلان سے شرپسند بھارتیوں کو آگ لگ گئی۔تاریخ کی کامیاب ترین پاکستانی فلم "دی لیجنڈ آف مولا جٹ” کی بھارت میں نمائش کی خبروں کے بعد بھارتی انتہا پسندفلم کی ریلیز رکوانے کے لیے دھمکیوں پر اتر آئے۔

ہندو انتہا پسند جماعت نو نریمان سینا نے دھمکی دی ہے کہ بھارت میں پاکستانی فلموں کو ریلیز نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی پاکستانی اداکاروں کو بھارتی فلموں میں کام کرنے دیا جائے گا۔نونریمان سینا  نے دھمکی آمیز بیان میں فواد خان کو پسند کرنے والوں کو بھارتی غدارقرار دیتے ہوئے کہا کہ اداکار فواد خان کوپسند کرنے والے بھارتی غدار ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ  بھارتی فلم کمپنی کا پاکستانی فلم بھارت میں ریلیز کرنے کا اعلان اشتعال انگیز ہے۔ ہمارے رہنما راج ٹھاکرے کا حکم ہے کہ پاکستانی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ کو بھارت میں ریلیز نہ ہونے دیا جائے اور ہم ان کے حکم پر عمل کریں گے۔

واضح رہے کہ راج ٹھاکرے پاکستان اور مسلمان دشمن ہندوانتہا پسند تنظیم کے رہنما بال ٹھاکرے کا بھتیجا ہے۔

خیال رہے کہ فواد خان، ماہرہ خان اور حمائمہ ملک کی اداکاری سے سجی دی لیجنڈ آف مولا جٹ 2 اکتوبر سے بھارتی باکس آفس پر ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔۔فواد خان کی 2022 میں ریلیز ہونے والی فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ 1979 میں ریلیز ہونے والی ہٹ فلم ’مولاجٹ‘ کا ری میک ہے۔بلال لاشاری کی ہدایتکاری میں بننے والی ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ 13 اکتوبر 2022 کو دنیا بھر میں ریلیز ہوئی تھی اوراسے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی۔مولا جٹ 2022 میں پاکستان میں ریلیز ہوئی تھی، اس فلم نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کے دیگر مرکزی کرداروں میں ماہرہ خان اور حمزہ علی عباسی شامل ہیں۔ انتہاپسند پاکستانی فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کو بھارت میں ریلیز نہ ہونے دینے کی دھمکی دے چکے ہیں۔’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ 1979 میں ریلیز پونے والی فلم ’مولا جٹ‘ کا ری میک ہے۔ فلم کے دو مرکزی کردار مولا جٹ اور نوری نت نے غیر معمولی شہرت حاصل کی تھی جو اداکار سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی نے ادا کیے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھارت میں یہ فلم دسمبر 2022ء میں ریلیز ہونے والی تھی لیکن انتہا پسند ہندو گروپس اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کی شدید مخالفت کی وجہ سے اس فلم کی ریلیز کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ  1979 میں ریلیز ہونے والی سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی فلم ’مولا جٹ‘ جس کے ہدایتکار یونس ملک اور پروڈیوسر سرور بھٹی تھے، پاکستان کی تاریخ کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک ہے۔ یہ فلم کئی برس سنیما میں لگی رہی اور اس کے بعد بھی اس نام سے منسلک کم از کم 3 فلمیں ’مولا جٹ تے نوری نت، مولا جٹ ان لندن، اور شاگرد مولا جٹ دا‘ بنیں۔دی لیجنڈ آف مولا جٹ نامی فلم بنانے کا اعلان دراصل دسمبر 2013 میں ہدایت کار بلال لاشاری نے ایک ٹویٹ میں کیا تھا۔  جبکہ فلم 9 سال بعد 2022 میں ریلیز ہوئی تھی۔ ’دا لیجنڈ آف مولاجٹ‘ کے کاپی رائٹ کی وجہ سے بہت شور اٹھا تھا اور 1979 میں ریلیز ہونے والی ’مولا جٹ‘ کے پروڈیوسر سرور بھٹی نے اعتراض کیا تھا کہ ان کی اجازت نہیں لی گئی کیونکہ ان کے مطابق سنہ 2024 تک اس فلم کے حقوق ان کے پاس ہی ہیں۔ اس ضمن میں سرور بھٹی نے اس فلم پر کیس بھی کر دیا تھا تاہم بعد ازاں عمارہ حِکمت اور سرور بھٹی کے درمیان اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا گیا تھا۔

Back to top button