خرابی تباہ ہونے والے رافیل طیاروں کی بجائے پائلٹس میں نکلی

 

 

 

فرانسیسی نیول ایئر بیس کے بیس کمانڈر کیپٹن لونائے نے دعوی کیا ہے کہ فرانس کے تیار کردہ رافیل طیارے آج بھی دنیا کے بہترین جنگی جہازوں میں شمار ہوتے ہیں، تاہم مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ان کی تباہی کی بنیادی وجہ بھارتی پائلٹس کی عدم مہارت تھی۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ فضائی جنگ کے دوران بھارت کے رافیل طیارے کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستانی فائٹر پائلٹس کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے تباہ ہوئے۔

 

جیو ٹی وی کے معروف اینکر پرسن حامد میر بتاتے ہیں کہ حال ہی میں فرانس میں ایک کانفرنس کے موقع پر خصوصی بریفنگ کے دوران رافیل طیارے کے ماہر پائلٹ اور فرانسیسی نیول ائیر بیس کمانڈر کیپٹن لونائے نے بتایا کہ ان کی بیس پر 94 بحری جنگی جہاز، 10 نیوکلیئر آبدوزیں اور 190 فضائی جنگی طیارے تعینات ہیں جن میں 40 رافیل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 13 نومبر 2025 کو انہی رافیل میں سے ایک سے فضا سے سمندر میں نیوکلیئر میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا، لیکن اس میں وار ہیڈ شامل نہیں تھا۔ انکا کہنا تھا کہ فرانسیسی نیوی واحد بحریہ ہے جو سمندر میں موجود ایئرکرافٹ کیریئر سے نیوکلیئر میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور کیریئر پر لینڈنگ کے قابل رافیل طیارے عام رافیل ماڈل سے قدرے مختلف ہوتے ہیں۔

 

اسی دوران حامد میر کی جانب سے پوچھا گیا کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں بھارت کے رافیل طیارے کیسے مار گرائے گئے، تو کیپٹن لونائے نے واضح کیا کہ یہ ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں تھی۔ ان کے مطابق جب دونوں ملکوں کے مجموعی طور پر 140 جنگی طیارے فضا میں تھے، تو فضائی تصادم کی شدت انتہائی زیادہ تھی۔ ایسی صورت حال میں پاکستان ایئر فورس نے غیر معمولی مہارت، رفتار اور پیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں بھارتی طیارے کمزوری دکھا گئے۔ انہوں نے کہا کہ رافیل کی ٹیکنالوجی آج بھی دنیا کے جدید لڑاکا طیاروں پر برتری حاصل کر سکتی ہے، تاہم کسی بھی جنگ میں فیصلہ کن کردار پائلٹ کی مہارت کا ہوتا ہے۔

 

کیپٹن لونائے کے یہ ریمارکس وہاں موجود ایک بھارتی مندوب کو سخت ناگوار گزرے، جس نے فوراً دعویٰ کیا کہ بھارت کا کوئی رافیل طیارہ تباہ نہیں ہوا۔ تاہم فرانسیسی کمانڈر نے بھارتی اعتراض کو نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان ایئر فورس کی تعریف جاری رکھی۔ حامد میر نے بتایا کہ پیرس میں منعقدہ کانفرنس میں 32 ممالک کے 55 مندوبین نے انڈو پیسیفک خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور ڈس انفارمیشن جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کانفرنس میں روس اور چین کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

فرینچ نیول کمانڈر نے انڈیا کے رافیل جہاز گرنے کی وجہ بتا دی

حامد میر بتاتے ہیں کہ کانفرنس پیرس کے تاریخی ملٹری سکول میں منعقد ہوئی جس کو انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس سٹڈیز ان نیشنل ڈیفنس کہا جاتا ہے۔ ایفل ٹاور کے سامنے واقع اس سکول کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ وہ ادارہ ہے جہاں نپولین بوناپارٹ نے 1785 میں عسکری تربیت حاصل کی۔ بعد ازاں وہ فرانس کا حکمران بنا تو اس نے اپنا ہیڈکوارٹر بھی اسی عمارت میں قائم کیا۔ سکول کے اندر اس کا اصل دفتر آج بھی محفوظ ہے، جس میں اس کی میز، کرسی اور دیواروں پر آویزاں اسناد اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فوج نے اس عمارت پر قبضہ کیا تھا لیکن نپولین کا دفتر محفوظ رہا۔ دیوار پر موجود ایک گولی کا نشان آج تک تاریخ کا حصہ ہے۔

 

حامد میر کے مطابق پیرس کانفرنس کے تمام سیشنز، اور کیپٹن لونائے کے اعترافات، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں بحر ہند ، انڈو پیسیفک خطہ اور یورپی سلامتی ایک دوسرے سے گہری طرح جڑے ہوئے ہیںاور اس تعلق میں پاکستان ایئر فورس کی مہارت، فرانسیسی عسکری طاقت اور بھارت کی کمزوریاں اہم بحث کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

 

Back to top button