کیا فوجی ترجمان نے وزیر اعظم کو شٹ اپ کال دی؟

فوجی ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس میں عسکری قیادت کو سیاست میں ملوث نہ کرنے کی تنہیہ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ پیغام دراصل وزیراعظم عمران خان کے لیے تھا جو نواز شریف کی وطن واپسی کی خبروں پر سخت پریشانی کے عالم میں ایک حالیہ پارٹی میٹنگ میں یہ کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف کے ساتھ ڈیل کر کے انہیں وطن واپس لا کر چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بنانے کی سازش کی جارہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ فوجی ترجمان نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں یا میڈیا پرسنز کو تنبیہ نہیں کی بلکہ انہوں نے دبے لفظوں میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ فوج کے حوالے سے ان شکوک و شبہات کا اظہار نہ کریں کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کے ساتھ پس پردہ ڈیل کرکے انہیں پاکستان واپس لاکر وزیراعظم منتخب کروانے کے مشن پر گامزن ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی ترجمان کے اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک پیج پر ہونے کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے اور فوج ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کو براہ راست مخاطب کرنے کے بجائے دبے لفظوں میں پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کے خیال میں پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کی حالیہ پریس کانفرنس ہم لوگوں کیلئے نہیں تھی، وہ کسی اور کیلئے پیغام تھا۔ وزیراعظم خود کہنا شروع ہو چکے ہیں کہ آئندہ 3 ماہ ان کی حکومت کیلئے بڑے ہی اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال پہلے تو آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی تجزیہ کار کہے گا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نواز شریف کیساتھ ڈیل ہو رہی ہے۔ ہمیشہ یہی کہا جاتا تھا کہ اور کوئی آپشنز ہی نہیں ہیں کیونکہ عمران اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں۔ نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سیٹھی کا کہنا تھا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ کوئی ڈیل کی بات نہ کرے، چلیں ہم ایسی باتیں نہیں کرتے لیکن یہ تو کہہ سکتے ہیں ناں کہ ڈیل کے بغیر بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو مجھے ایک ہی ڈیل نظر آ رہی ہے جو 2014 میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور عمران خان کے درمیان ہوئی تھی جس میں طے کیا گیا تھا کہ نواز شریف کو نکالنا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک یہ ڈیل بڑی پکی جا رہی تھی لیکن اب اس میں دراڑ آ چکی ہے۔
نجم سیٹھی نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے آثار ہمیں واضح نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ گذشتہ 8 سال سے جاری فارن فنڈنگ کیس میں اچانک ڈرامائی موڑ آیا اور سکروٹنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ آصف کیخلاف ہتک عزت کیس میں وزیراعظم کو پیش ہونے کا حکم دے کر چھکا لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکے علاوہ وزیراعظم کے ساتھی جرنلسٹ جو اپنے دل کی گہرائیوں سے ان کو سپورٹ کرتے تھے، اب انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ موڑ لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ناراض رہنما جہانگیر ترین کے حالیہ بیان پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ وہ وقتاً فوقتاً لندن کے چکر لگاتے رہے ہیں۔
سی ٹی ڈی کی بنوں میں کارروائی، 2 دہشتگرد ہلاک
اگر ان کی نواز شریف کیساتھ ملاقاتیں ہوئی ہیں تو ان کی جانب سے یہی آفر کی گئی ہوگی کہ میرا جہاز تیار ہے، آپ کو کتنے بندے چاہیں؟ جب ہوا کا رخ بدلے گا تو جہانگیر ترین، مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کی جانب سے حکم کی تعمیل کی جائے گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں نیب چئیرمین کی عدم پیشی سے متعلق پیش کیا جانے والا خط غیر آئینی اور غیر قانونی ہے جس پر چیئرمین کمیٹی اور اراکین نے کوئی سخت ردعمل نہیں دیا، اگر وہ چاہتے تو اسے پھاڑ کر پھینک سکتے تھے۔ تاہم اگر اپوزیشن چاہے تو اس معاملے پر وزیر اعظم کے خلاف ایک اور کیس بھی کھل سکتا ہے۔
یاد رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو طلب کیا تھا لیکن انکی پیشی کے دن وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کمیٹی میں ایک خط پیش کر دیا گیا جس کے مطابق اب چیئرمین نیب کسی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔
