صحافی نورانی کے لاپتا بھائیوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا ؟

امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی کے اسلام آباد سے غائب ہونے والے دونوں بھائیوں کا دو ہفتے گزر جانے کے باوجود کوئی سراغ نہیں مل پایا۔ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان بھائیوں کو 19 مارچ کو اسلام آباد میں انکے گھر سے باوردی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آ پایا۔ پاکستانی وزارتِ دفاع نے بھی دونوں بھائیوں کی گمشدگی سے متعلق درخواست پر جواب دیتے ہوئے ان کی گرفتاری سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ اسلام آباد پولیس نے بھی کہا ہے کہ وہ احمد نورانی کے بھائیوں کے اغوا بارے کچھ نہیں جانتی۔
لیکن نورانی خاندان کا الزام ہے کہ سیف الرحمٰن حیدر اور محمد علی کو سکیورٹی اہلکاروں نے اغوا کیا کیونکہ احمد نورانی نے ملک کی ایک اہم عسکری شخصیت کے خلاف ایک جھوٹی رپورٹ شائع کی تھی۔ اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں بھی اس رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے گئے کیونکہ اس میں اہم عسکری شخصیت کے خاندان کی خواتین کے پاسپورٹس اور تصاویر بھی شائع کر دی گئیں۔
احمد نورانی کی والدہ نے اپنے لاپتہ بیٹوں کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے۔ عدالت نے پہلے اسلام آباد پولیس سے جواب طلب کیا تھا اور بعد ازاں انسپکٹر جنرل پولیس کو عدالت میں پیش ہو کر صورتحال پر وضاحت دینے کا حکم دیا۔
اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل علی ناصر رضوی بالآخر 7 اپریل کو عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ پولیس تحقیقات کے مطابق لاپتہ بھائیوں کی موبائل فون کی سم کو بہاولپور میں ٹریس کیا گیا ہے۔لیکن ریاستی مشینری دونوں بھائیوں کو بازیاب کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائی۔ آئی جی اسلام آباد نے کورٹ کو بتایا کہ پولیس ٹیمیں بہاولپور روانہ کی گئی ہیں اور وہ مختلف صوبوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطے میں ہیں۔ وزارتِ دفاع نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا کہ لاپتہ بھائی ان کی تحویل میں نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں ان کے بارے میں کوئی علم ہے۔ درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت میں جبری گمشدگیوں کے کیسز میں احتساب کے فقدان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گمشدگی بارے خاکی وردی والوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب لاپتا ہونے والے دونوں بھائیوں کی والدہ آمنہ بشیر نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بیانات کہ انہیں ان کے بیٹوں کے بارے میں کچھ علم نہیں، ان کے دکھوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور عدالتی نظام پر انکے اعتماد کو ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’انہیں میرے بیٹوں بارے علم کیسے نہیں ہو جبکہ نقاب پوش سکیورٹی اہلکار انہیں میری آنکھوں کے سامنے لے گئے تھے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ میرے دونوں بیٹوں کا اپنے صحافی بھائی کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں، پھر بھی وہ ایک ایسے ناکردہ جرم کی سزا بھگت رہے ہیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے ایک ویڈیو پیغام میں اپیل کی تھی کہ میرے بیٹوں کا احمد نورانی کی رپورٹس سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے میرے بیٹوں کو رہائی دلوائی جائے۔ لیکن ایک میری اپیل نے بھی کسی کا دل نرم نہیں کیا۔‘‘
نواز شریف اور فوجی قیادت میں اختلافات کا امکان کیوں بڑھ گیا ؟
لاپتا بھائیوں کی والدہ کی وکیل ایمان مزاری ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ دونوں بھائیوں کو خفیہ ایجنسیوں نے ان کے گھر سے اغوا کیا اور اس کے بعد علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی غائب کروا دیں تاکہ اغوا کاروں کا کھرا نہ مل سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت آئی ایس آئی کے سربراہ کو فوری طور پر طلب کرے اور لاپتا بھائیوں کی بازیابی کا حکم دے۔
