نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز کو ایک اور کیس میں بری کردیا

وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ انکی چھیڑ بن جانے والے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان شہباز کو برطانوی کی نیشنل کرائم ایجنسی نے آف شور اکاﺅنٹس اور اثاثوں کی تحقیقات کے کیس میں بھی کلین چٹ دے دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کا یہ فیصلہ عمران خان کے لئے اس لئے پریشانی کا باعث ہے کہ وہ ہر صورت اپنے خلاف مجوزہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے شہباز شریف کو گرفتار کروانا چاہتے ہیں۔
18 فروری کے روز بھی وزیراعظم کو یقین دلایا گیا تھا کہ عدالت میں پیشی کے موقع پر فرد جرم عائد ہونے کے فوراً بعد شہباز شریف کو گرفتار کر لیا جائے گا لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ عدالت نے فرد جرم کی فوٹو کاپیاں مدھم ہونے کی بنا پر ایف آئی اے کو چارجز فریم کرنے کی اجازت ہی نہیں دی۔
تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان کے خلاف اس الزام کی تحقیقات کرنے کے بعد کہ انہوں نے ذوالفقار احمد نامی ایک شخص کے ذریعے ایک سوئس آف شور کمپنی میں بھاری رقوم رکھوائی تھیں، انہیں کلئیر کر دیا ہے۔
نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف کے برطانیہ کی ایک دولت مند شخصیت انیل مسرت اور سلیمان شہباز کے ایک برطانوی کاروباری شخص ذوالفقار احمد کے ساتھ لین دین کے معاملات کی تحقیقات کیں۔ ذوالفقار احمد برطانیہ میں وسیع کاروبار کے مالک ہیں اور انہوں نے سلمان شہباز کے اکاﺅنٹ میں اپریل اور نومبر 2019ء کے درمیان مجموعی طور پر 204940.50 پاﺅنڈ منتقل کئے تھے۔
عامر لیاقت نے عمران کی بجائے الطاف کو اپنا قائد بنا لیا
بتایا گیا ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے شہباز شریف اور سلیمان شہباز کے خلاف تحقیقات سوئٹزر لینڈ، اٹلی، امریکہ، اور دبئی میں کی گئیں۔ اس دوران ذوالفقار احمد کے تمام کھاتوں کو چھانا گیا ویسٹ منسر مجسٹریٹ کی عدالتی دستاویزات کے مطابق فیملی ٹرسٹ کے بینیفیشریز میں شریف نام سے کوئی خاندان شامل نہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں بینکنگ سہولیات فراہم کرنے والی برطانیہ کی میکینی انٹرپرائزز کمپنی نے بھی شریف فیملی کے ہاتھ صاف ہونے کے حوالے سے نیشنل کرائم ایجنسی کو آگاہ کیا ہے۔ یہ وہی کمپنی ہے جس نے شہباز شریف کے ڈیلی میل کیس میں قانونی مقاصد کے لئے ذوالفقار احمد کو 3 لاکھ پاﺅنڈ قرض کی ادائیگی کی تھی۔
22 جون 2020 کو این سی اے نے امریکی حکام کو خط لکھ کر میکینی اینٹرپرائزز سے معلومات طلب کیں اور اس کے ویسٹا گلوبل ایڈوائزر برئیر کلف لمیٹڈ سے رابطوں کی تفصیلات مانگیں جو حتمی بینیفشل اونر تھی۔ این سی اے نے تحقیقات کیں کہ کیا شریف خاندان کا اس میں کوئی مالی مفاد تھا اور یہ جاننا تھا کہ برئیر کلف کا میکینی سے کیا تعلق تھا؟۔
ذوالفقار احمد عرف ذولفی سے پوچھا گیا تھا کہ اس نے سلیمان شہباز کو 13 مرتبہ رقم کیوں منتقل کی اور یہ رقم آئی کہاں سے؟ این سی اے نے ذولفی سے پوچھا کہ اس نے ستمبر 2019 کو کارٹر روک سے 2 لاکھ 20 ہزار پاﺅنڈ سلیمان شہباز کے ایچ ایس بی سی اکاﺅنٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کیوں کی تھی۔ یہ درخواست اصل میں منسوخ ہو گئی تھی۔ ذولفی سے وضاحت مانگی گئی تھی کہ 2 لاکھ 20 پاﺅنڈ کا یہ قرض سوئس بینک اکاﺅنٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کیوں کی گئی جو نومبر 2019 میں برئیر کلف لمیٹڈ کے زیر استعمال تھا۔
سینٹ وینسٹ کے حکام نے میکینی اور برئیر کلف لمیٹڈ کے درمیان قرض معاہدے کے بارے میں این سی اے کو دئیے گئے جواب میں کہا کہ میکینی نے جولائی 2019 میں 3 لاکھ پاﺅنڈ قرض ذولفی کو دیا اور دونوں میکینی اور برئیر کلف پرائیویٹ سرمایہ کار کمپنی کی ملکیت تھیں۔ یہ اسی خاندان کا ٹرسٹ تھا جسے اس فرد نے قائم کیا تھا جو 2010 میں ٹرسٹ کے قیام کے وقت بنیادی طور پر پی ای پی تصور نہیں ہوتا۔
فیملی ٹرسٹ کے بینیفشریز میں شریف کے نام سے کوئی خاندان شامل نہیں ہے۔ لہذا شہباز شریف اور سلمان شہباز کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ایک منی لانڈرنگ کیس میں بھی شہباز شریف کو بری کیا تھا۔
