حکومت اور PTI کے مابین مذاکراتی عمل خاتمے کی جانب گامزن

حکومت اور تحریک انصاف کے مابین شروع ہونے والا مذاکراتی عمل عمران خان کی فوج مخالف ٹوئیٹ اور پی ٹی آئی کی جانب سے روزانہ نت نئے مطالبات کے بعد ناکامی کا شکار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہوا تھا جس کے دوران تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم نے اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومتی ٹیم کو دینے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم مذاکرات کے تیسرے دور سے ایک روز پہلے پی ٹی آئی کی جانب سے مؤقف اختیار کر لیا گیا کہ تحریری مطالبات پیش کرنے سے پہلے ان کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے اکیلے میں ملاقات کروائی جائے تا کہ مشاورت کی جا سکے۔
رہنما تحریکِ انصاف عمر ایوب نے مطالبہ کیا کہ ان کی عمران سے ملاقات نگرانی کے کیمروں کے بغیر کرائی جائے۔ عمر ایوب کا کہنا ہے کہ عمران سے ملاقات ایسی جگہ کروائی جاتی ہے جو خفیہ کیمروں اور سننے والے آلات سے لیس ہے جس سے بات چیت کی رازداری پر سمجھوتہ ہوتا ہے۔ تاہم حکومت کا یہ موقف ہے کہ جیل قواعد کے مطابق کسی بھی قیدی کو تنہائی میں ملاقات کی اجازت نہیں ہوتی۔ چنانچہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے تاحال ملاقات نہیں ہو سکی۔ ایسے میں مذاکرات معطل ہو چکے ہیں اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سارا مذاکراتی عمل ہی خاتمے کی جانب گامزن ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ مذاکرات کے تیسرے دور میں تاخیر کی وجہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے غیر ملکی دورے کو قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان سینٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل تحریک انصاف کے نت نئے مطالبات کی وجہ سے التوا کا شکار ہے۔ تاہم چیئرمین تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر خان کہتے ہیں کہ عمران خان نے انہیں مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جب کہ مطالبات تحریری طور پر حکومت کو دینے کی بھی منظوری دی ہے۔
پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہے کہ ہم تو مذاکرات میں ڈیڈ لاک کا اعلان کر چکے تھے تاہم بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا ہے کہ ہم تحریری مطالبات پیش کردیں گے۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ اگر مذاکراتی کمیٹیوں کی تیسری نشست میں 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر کمیشن بنانے کا فیصلہ نہ ہوا تو پھر مذاکرات کی اگلی نشست نہیں ہو گی۔ دوسری جانب سینیٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ہم اس بات پر حیران ہیں کہ حکومت نے تو مذاکراتی عمل کا اغاز تحریک انصاف کی خواہش پر کیا تھا لیکن اب تحریک انصاف ہی مذاکرات ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
اسی دوران یہ افواہیں بھی چل رہی ہیں کہ حکومت سے ڈائیلاگ میں تعطل آنے کے باوجود تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین بیک ڈور مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ سینئر تجزیہ کار نصرت جاوید کا دعویٰ ہے کہ تحریکِ انصاف اور طاقت ور حلقوں کے درمیان بیک ڈور مذاکرات ہو رہے ہیں جن میں بشریٰ بی بی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کم سے کم تین مرتبہ بغیر سیکیورٹی کے اپنی رہائش گاہ سے مذاکرات کے لیے جا چکی ہیں۔ اس وقت بیک ڈور مذاکرات میں تعطل ہے تاہم ڈیڈ لاک نہیں ہے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات صرف دکھاوا ہیں، اصل مذاکرات بیک ڈور ہی ہو رہے ہیں۔
تاہم اسلام اباد میں باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک کی اصل وجہ ہی اسٹیبلشمنٹ ہے جو عمران خان کو کسی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ہی یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومتی ٹیم پر عمران کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے حالانکہ آئین اور قانون میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان نے بطور وزیراعظم فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر نواز شریف کو قید سے نکال کر بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دی تھی تو یہ انکا فیصلہ تھا۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ موجودہ حکومت بھی عمران خان کو قید سے نکال کر بیرون ملک بھجوانے پر تیار ہو جائے گی۔
عمران کی دھمکیوں سے PTI اور حکومت کے مذاکرات ختم ہونے کا امکان
اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکرات اسی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں، جب عمران جیل سے باہر آنے کے بعد سیاسی طور پر غیر متحرک ہونے کی یقین دہانی کروائیں اور احتجاج کی سیاست کو ترک کر دیں۔ چونکہ ایسا کرنا عمران خان کے لیے مشکل ہے لہذا اسٹیبلشمنٹ بھی انہیں جیل سے باہر نہیں آنے دے گی اور اسی لیے حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکراتی عمل اب خاتمے کی جانب گامزن ہے۔
