خیبرپختونخواکےوفدکےہیلی کاپٹرپرفائرنگ کی خبر”بے بنیاد“قرار

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر قانون نے کرم میں  کشیدگی ختم کرنے کیلئے جانے والے خیبرپختونخوا حکومت کے وفد کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی خبروں کو ’بے بنیاد‘ قرار دے دیا۔

ذرائع کے مطابق  ضلع کرم میں حالات سخت کشیدہ ہونے کے بعد یہ خبر سامنے آئی کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بھیجے گئے اعلیٰ سطح کے حکومتی وفد کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی ہے اور فائرنگ سے حکومتی وفد اور ہیلی کاپٹر محفوظ رہے۔

تاہم، سابق وفاقی وزیر ساجد حسین طوری نے واقعے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر پرکوئی فائرنگ نہیں ہوئی، میں خود ہیلی کاپٹر میں موجود تھا، ہم پشاور سے پہلے کوہاٹ گئے۔ساجد حسین طوری کا کہنا تھا کہ کوہاٹ سے پاراچنار آئے اور میٹنگ کے بعد ہم پشاور پہنچ گئے۔صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے بھی فائرنگ کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا، فائرنگ کی خبریں جھوٹی ہیں۔

پشاور سے روانہ ہونے والے وفد میں مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف، چیف سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری اور آئی جی اختر حیات خان گنڈاپور شامل ہیں۔

وفد کو ضلع کرم میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے لواحقین اور علاقہ عمائدین سے ملاقات اور کرم ایجنسی کے تنازعات کے حل کے بارے میں مقامی عمائدین سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی گئی۔

کرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نے کہا کہ علاقے میں امن بحال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جب کہ کرم سے پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے ساجد حسین طوری نے تصدیق کی کہ ضلع میں امن کی کوششوں کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔

جاوید اللہ محسود نے کہا کہ ڈی سی کانفرنس ہال میں بلائے گئے اجلاس میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی انتظامیہ کے حکام نے شرکت کی، جبکہ مقامی عمائدین، فورسز اور انتظامیہ کی مدد سے جلد از جلد امن قائم کیا جائے گا۔

Back to top button