اپوزیشن نے 206اراکین کی حمایت کا دعویٰ کر دیا

اپوزیشن ذرائع نے اپنی تحریک عدم اعتماد کے حق میں 24 حکومتی اراکین اسمبلی اور 20 حکومتی اتحادی اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے جس کے بعد حزب اختلاف کے حمایتی اراکین کی تعداد 206 ہو جائے گی۔ اگر اپوزیشن کا دعویٰ درست ہے تو عمران خان کی فراغت یقینی ہے۔ حکومتی جماعت تحریک انصاف میں کھلی بغاوت کے بعد عمران خان کی اتحادی جماعتوں کے بھی اپوزیشن کے ساتھ جانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں کیونکہ اگر انہوں نے فیصلہ کرنے میں مزید تاخیر کی تو ان کی بارگیننگ پوزیشن کمزور پڑ جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سندھ ہاؤس میں حزب اختلاف کے ممبران اسمبلی کے ساتھ قیام پزیر حکومتی اراکین کے کھل کر سامنے آنے اور یہ دعویٰ کرنے کے بعد عمران خان کی کہانی ختم ہوتی نظر آتی ہے کہ پی ٹی آئی کے 24 اراکین اسمبلی ان کے ساتھ ہیں جن کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ اپوزیشن ذرائع کا دعوی ہے کہ انہوں نے 206 اراکین قومی اسمبلی کی حمایت حاصل کر لی ہے جو عدم اعتماد والے دن وزیراعظم عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔
حکومتی جماعت تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے جن اراکین اسمبلی کی سندھ ہاؤس میں موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے ان میں راجہ ریاض، نور عالم خان، نواب شیر وسیر، رانا قاسم نون، غفار وٹو، باسط بخاری، احمد حسن دیہڑ، نزہت پٹھان، وجیہہ اکرم، ریاض مزاری شامل اور دیگر شامل ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما راجہ ریاض نے تصدیق کی ہے کہ 24 حکومتی ایم این ایز اس وقت اسلام آباد میں واقع سندھ ہاؤس میں موجود ہیں اور یہاں آنے کی وجہ پارلیمنٹ لاجز پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات تھے۔ راجہ ریاض کا تعلق حکومتی جماعت کے جہانگیر ترین گروپ سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت پی ٹی آئی کے دو درجن ایم این ایز یہاں موجود ہیں اور اگر میرا دعویٰ غلط ہے تو حکومت اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلائے اگر اتنے ارکان کم نہ ہوں تو میرا نام بدل دیں۔’
راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ان کے سندھ ہاؤس میں قیام کی وجہ پارلیمنٹ لاجز پر حملے کے بعد سے سکیورٹی کے خدشات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پورے میڈیا اور قوم کو پتہ ہے کہ لاجز پر پولیس نے حملہ کیا، جو کچھ پارلیمنٹ لاجز میں ہوا اس کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ ہے ہمیں یہاں آنا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات اور ارکان اسمبلی کو پیسے دیے جانے کے سوال پر راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں کسی نے کوئی پیسے نہیں دیے۔
ملک میں ایک عرصے سے جاری خراب حکمرانی، لا قانونیت، مہنگائی، کرپشن اور مشیروں کے خلاف ہم عمران خان کے سامنے آواز اٹھا رہے تھے لیکن ہمیں سنا نہیں گیا۔ اب فیصلہ ضمیر کی آواز پر کریں گے۔ ‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘میں سوچ بھی نہیں سکتا، ووٹ دیتے وقت کوئی خوف اور کوئی ڈر نہیں ہے، کسی نے نہ زبردستی کی اور نہ ہی دھمکایا ہے۔’
خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے تناظر میں حکومتی شخصیات کی جانب سے پیپلز پارٹی پر حکومتی ارکانِ اسمبلی کو سندھ ہاؤس میں ’قید‘ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ عمران خان اس وقت مرکز میں صرف سات ووٹوں کی برتری سے اپنی حکومت قائم کیے ہوئے ہیں، ایسے میں اگر پی ٹی آئی کے 24 اراکین اسمبلی تحریک انصاف چھوڑ جاتے ہیں تو حکومتی ممبران اسمبلی کی تعداد 179 سے کم ہو کر 155 رہ جائے گی۔ لیکن اگر کپتان کی چار اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 20 اراکین اسمبلی بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیں تو پھر حکومتی اتحاد کے اراکین اسمبلی کی تعداد مزید کم ہو کر 135 رہ جائے گی۔
وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن کے نوٹسز چیلنج کردیے
دوسری جانب اگر پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والے 44 اراکین قومی اسمبلی اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملا لیتے ہیں تو کپتان مخالفت اراکین اسمبلی کی تعداد 162 سے بڑھ کر 206 ہو جائے گی۔ یوں عمران خان کا وزارت عظمیٰ بچانا ناممکن ہوجائے گا اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہو جائیں۔ ان کے پاس دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل آئیں اور خون خرابے کی طرف چلے جائیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم پہلے ہی 27 مارچ کو اسلام آباد میں دس لاکھ لوگوں کا اجتماع اکٹھا کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ دوسری طرف فواد چوہدری بھی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ جن اراکین اسمبلی نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ ڈالنا ہے ان کو دس لاکھ کے مجمعے سے گزر کر قومی اسمبلی تک پہنچنا ہوگا۔ جواب میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی 25 مارچ کو اپنے کارکنان کو اسلام آباد میں اکٹھا ہونے کے احکامات جاری کر دیے ہیں جس کے بعد دونوں فریقین میں تصادم کا خدشہ ہے۔ لہذا اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ اسٹیبلشمنٹ دونوں اطراف کو ایسا کوئی اجتماع کرنے سے روک دے۔ تاہم کپتان کا جانا ٹھہر چکا ہے، صبح گیا یا شام گیا۔
