اپوزیشن،حکومت کی آئینی عدالت کی حمایت،مولانانےججزکی توسیع کی مخالفت کردی

پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں نے آئینی عدالت کی مشروط حمایت کردی۔جبکہ جے یو آئی کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کردی۔
خصوصی کمیٹی کا ایک ہی دن میں مسلسل چوتھی اجلاس بار خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا ۔اجلاس میں مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر پارلیمانی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن اور حکومتی جماعتوں نے آئینی عدالت کی مشروط حمایت کردی، پی ٹی آئی، جے یو آئی اور حکومتی اتحادکی جماعتیں آئینی عدالت پرمشروط رضامند ہیں۔
اجلاس میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کہا کہ مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے۔
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے بل پر مزید مشاورت کرنے کی تجویزدی جبکہ پی ٹی آئی نے مؤقف اپنایا کہ جلد بازی میں قانون سازی نہ کی جائے۔
واضح رہے کہ حکومت اوراتحادیوں کاسارا زور مولانافضل الرحمان کو منانے پر ہے۔ مولانا مان گئے یا ڈیڈلاک برقرار ہے؟ کوئی کچھ کہنے کو تیار نہیں۔جے یو آئی نے حکومت سے آئینی ترمیم میں جلد بازی نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
ذرائع نے بتایاکہ مولانا فضل الرحمان مطالبہ خصوصی کمیٹی کے سامنے رکھنے کیلئے پارلیمنٹ پہنچے تھے ۔ اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ مولانا آپ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں یا حکومت کے ساتھ؟ اس پر انہوں نے جواب دیاکہ میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔
خیال رہے کہ آئینی ترمیم کیلئے حکومت کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔
مجوزہ آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے نمبر گیم پوری کرنے کا مشن، مولانا فضل الرحمان ایک بار پھر ملکی سیاست کا محور بن گئے ۔ رات گئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور مجوزہ آئینی ترمیم پر انہیں راضی کرنے کی کوشش کی ۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے مشاورت کے لیے وقت مانگ لیا ۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری وکٹری کا نشان بناتے ہوئے روانہ ہوئے۔
دوسری طرف تحریک انصاف مجوزہ آئینی ترمیم روکنے کیلئے سرگرم ہے ۔ رات گئے پی ٹی آئی وفد نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عمرایوب، شبلی فراز اور صاحبزادہ حامد رضا شامل تھے ۔ میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے کسی بھی سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا۔
