اپوزیشن نے 200 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کر لی

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعوی کیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے 200 سے زائد اراکین قومی اسمبلی کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ یہ درپیش ہے کہ عمران خان کی چھٹی ہو جانے کے بعد کا سیاسی منظرنامہ کیا ہو گا؟
فرائیڈے ٹائمز کے لئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ حزب اختلاف نے آخر کار اپنا کام کر لیا ہے اور حتمی گنتی کے مطابق اپوزیشن نے تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنے کے لیے 200 سے زائد ووٹ حاصل کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ ان ممبران میں تحریک انصاف کے زیادہ تر اتحادیوں کے علاوہ اس کے اپنے اراکین قومی اسمبلی بھی شامل ہیں جو یا تو جہانگیر خان ترین کے ساتھ ہیں یا نواز شریف سے براہ راست ڈیل کر رہے ہیں۔
نجم سیٹھی کے مطابق 200 کی تعداد کو عبور کرنا ضروری تھا کیونکہ عمران خان یقینی طور پر حکومت بچانے کے لیے اپنے اتحادیوں کو ترغیبات دیں گے جبکہ ایف آئی اے، نیب اور پولیس جیسے ریاستی اداروں کے ذریعے حزب اختلاف کی تعداد کم کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا یے کہ عدم اعتماد کی تحریک اگلے ہفتے پیش کر دی جائے گی، لیکن اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق سر انجام پاتا ہے تو۔
اہم بات یہ ہے کہ اپوزیشن نے عمران خان کو ہٹانے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ”دیگر” متنازعہ معاملات کو عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی تک ملتوی کر دیا ہے۔ سیٹھی کے مطابق ”دیگر“ مسائل میں یہ شامل ہے کہ نیا قائد ایوان یا وزیراعظم کون ہوگا، نئی حکومت کی ساخت کیا ہوگی، یہ حکومت کب تک قائم رہے گی، اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کرے گی؟ یہ بھی طے ہونا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل ہو جائیں گی یا نہیں اور ماضی کی طرح قومی اور صوبائی انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں گے یا الگ الگ دنوں پر؟ لیکن اس پیش گوئی کی بنیاد ایک مفروضے پر ہے۔ وہ یہ کہ کیا ہر معاملے میں اثر و رسوخ رکھنے والی اسٹیبلشمنٹ کیا پوزیشن لیتی ہے۔
اس سے پہلے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بار بار عمران خان کو بیل آؤٹ کرتے ہوئے حزب اختلاف کو ”دھوکہ” دیا ہے۔ اس محاذ پر غیر یقینی صورتحال کا اندازہ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کے ایک حالیہ بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔ اُنھوں نے پشاور میں موجود عمران خان کے حامی، اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار پرالزام لگایا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے اراکین کو فون کر کے عدم اعتماد کی کارروائی کا حصہ بننے سے روک رہے ہیں۔ اپوزیشن جانتی ہے کہ اگر انکی عدم اعتماد کی تحریک کسی بھی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہے تو اسے پھر کوئی اور موقع جلد نہیں ملے گا۔ لہذا اپوزیشن کی تمام تر کوشش ہے کہ اس کی موو سو فیصد کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔
پنجاب میں پشتون اور بلوچ طلبہ سے پوچھ گچھ تیز
نجم سیٹھی کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سیاسی افق پر بے یقینی کے بادل گہرے ہو رہے تھے، عمران ماسکو میں جدید روسی زار ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے روانہ ہو گئے۔ اب پیوٹن نے یوکرین پر حملہ کردیا ہے۔ عالمی برداری اس اقدام کی مذمت کررہی ہے۔ ماسکو میں نہ تو کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا، نہ کوئی پریس کانفرنس ہوئی، نہ مہمانوں کے لیے کسی ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔
یا تو یہ حد سے زیادہ اعتماد کا معاملہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ ہے اور انہیں کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں یا پھر یہ مایوسی کا اظہار تھا۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ کھیل ختم ہونے کو ہے۔ اس لیے شاید دنیا کے سرکردہ رہنما سے ملاقات کرتے ہوئے وطن میں کھویا ہوا وقار تھوڑی دیر کے لیے بحال ہوجائے! یقینی طور پر مختصر ملاقات میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو ظاہر کرے کہ معاشی یا سٹریٹجک امور پر دونوں ممالک کے مابین کوئی بڑی پیش رفت ہونے جارہی ہے۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ بلاشبہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے چار سال سے بھی کم عرصے میں اندرون ملک ریاست اور معاشرے کے بیشتر شعبوں کی حمایت کھو دی ہے۔ عمران کے ساتھ قریبی وابستگی کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو بھی عوامی ردعمل کی گرمی محسوس کرنا پڑی۔ عمران کے متکبرانہ اور رعونت بھرے رویے کی وجہ سے اس میں ناراضی کی تلخی بھی گھل چکی ہے۔ پھر عمران نے فوجی قیادت پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی۔ تاہم یہ شکوک و شبہات اپنی جگہ پر موجود ہیں کہ کیا فوجی اسٹبلشمنٹ حزب اختلاف پر اعتماد کرنے اور اس سے مفاہمت کرنے کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں۔
اور پھر میڈیا بھی اپنی جگہ موجود ہے اور نئے میڈیا مخالف قوانین کے خلاف مزاحمت کے لیے پرتول رہا ہے۔ حتیٰ کہ انتہائی متعصب عمران نواز اینکرز اور تبصرہ نگار بھی بڑھتے ہوئے عمران مخالف جذبات کی وجہ سے اپنی گرتی ہوئی ساکھ سے پریشان ہیں۔ لیکن صحافیوں کی کھال قدرتی طور پر بہت موٹی ہوتی ہے۔ اگر اپوزیشن عدم اعتماد کے ووٹ سے قدم پیچھے ہٹائے تو میڈیا کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
سیٹھی کہتے ہیں کے تمام تر سیاسی سرگرمیوں کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی مت بھولیں جائے جو تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈنگ کیس میں بڑے پیمانے پر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے شواہد منظر عام پر لانے جارہا ہے۔ اس کیس کا فیصلہ عمران خان کے لیے پریشان کن شہ صورتحال کا باعث بنے گا۔ اس سے حزب اختلاف کی حکمت عملی میں نئی جان پڑ جائے گی۔
الیکشن کمیشن نئے صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے جو انتخابات کے دوران امیدواروں اور حامیوں کے لیے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پارلیمنٹیرینز کو الیکشن مہم میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ اب عدلیہ بھی عمران خان کے غیر آئینی احکامات کی مزاحمت پر کمر باندھ رہی ہے۔ مریم نواز شریف کے خلاف کیس میں ججوں نے نیب پراسیکیوٹرز کی شواہد پیش نہ کرنے اور بلاوجہ تاخیر کرنے پر سخت سرزنش کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جناح اخبار کے ایڈیٹر محسن بیگ کو گرفتار کرکے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے اور جان بوجھ کر پیکا قانون کے سیکشنز کو غلط پڑھنے پر ایف آئی اے حکام کو آڑھے ہاتھوں لیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فاضل جج نے پیکا کی نئی ترمیم کی سب سے فسادی شق کو معطل کر دیا ہے جسکا مقصد سوشل میڈیا پر آزادانہ اظہار رائے کرنے والوں کو گرفتار کرنا اور سزا دینا تھا۔ یہ سب عمران خان کے خلاف فرد جرم ہے جنہوں نے اس طرح کے کالے آرڈیننس کا ڈرامہ رچایا۔
لیکن نجم سیٹھی کہتے ہیں ذرا ٹھہریں۔ حماقت نہ دکھائیں۔ پاکستانی معیشت اسوقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں پڑی ہے جس کی بحالی کے فی الحال کوئی امکانات نہیں۔ عوام کی مشکلات ختم ہونے والی نہیں۔ درحقیقت یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن عمران خان کی برطرفی کے بعد فوری الیکشن چاہتی ہے جسے جیت کر پانچ سال حکومت کر سکے، بجائے اس کے کہ وہ ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک حکومت چلائے اور کچھ نہ کرسکے۔ اس طرح وہ ناکامی کی صورت میں عوام کے غصے کا نشانہ بن جائے گی۔
