شاہ زیب کو ہراساں کرنے والے نے عطا تارڑ کو خاندانی چور بنا دیا

معروف اینکر شاہزیب خانزادہ کو بیرونِ ملک ہراساں کرنے والا یوتھیا شاہد بھٹی بالآخر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اپنے ویڈیو بیان میں جہاں شاہد بھٹی شاہزیب کے ساتھ کی گئی بدتمیزی کی وضاحتیں دیتا نظر آیا وہیں اس کے ساتھ ہی اس نے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا، شاہد بھٹی نے عطا تارڑ پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ’’خاندانی چور‘‘ قرار دے دیا اور کہا کہ اسے کسی کارروائی کا کوئی خوف نہیں حکومت جو کرنا چاہتی ہے اپنا شوق پورا کر لے۔ تاہم یہ بات یاد رکھے کہ وہ وقت دور نہیں جب نون لیگ کے رہنماؤں کو عوام سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں بیرونِ ملک ایک شاپنگ مال میں جیو نیوز کے اینکر شاہزیب خانزادہ اور ان کی اہلیہ رشنا خان کو ایک شخص کی جانب سے ہراسانی کا نشانہ بنتے دیکھا گیا۔ اگرچہ ویڈیو میں اس شخص کا چہرہ واضح نہیں تھا، تاہم بعد ازاں مختلف ذرائع سے اس گنجے کی شناخت ہوگئی اور سامنے آیا کہ شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والا شخص شاہد بھٹی ہے، جو تحریکِ انصاف کا کارکن ہے، بھٹی گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں بطور رئیل اسٹیٹ ایجنٹ کام کرتا ہے۔ بعد ازاں کینیڈا میں پاکستانی مشن نے اس کی شناخت کی تصدیق کر دی تھی تاہم اب شاہد بھٹی خود کھل کر سامنے آ گیا ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر شاہد بھٹی کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ شاہزیب خانزادہ کے قریب آکر انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ “آپ نے عمران خان کے خلاف جو کیا، اس پر آپ کو شرم آنی چاہیے”۔ وہ بشریٰ بی بی کا ذکر کرتے ہوئے الزام تراشی کرتا رہا۔ اس دوران شاہزیب کی اہلیہ رشنا خان نے اس شخص سے کہا کہ یہ “ہراسانی” ہے، جس پر شاہد بھٹی نے کہا کہ وہ اسے ہراسانی نہیں بلکہ "بات چیت” سمجھتا ہے۔اس واقعے کی سوشل میڈیا پر شدید مذمت کی گئی اور اسے ایک سینیئر صحافی کی پیشہ ورانہ ساکھ اور نجی زندگی پر حملہ سمجھا گیا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اختلافِ رائے کا مطلب کسی کی فیملی کو ہراساں کرنا نہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے میں ملوث افراد کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔

تاہم اب سامنے آنے والی ویڈیو میں یوتھیے شاہد بھٹی کا پوری ڈھٹائی سے کہنا ہے کہ انہوں نے شاہزیب خانزادہ کو ہراساں نہیں کیا ان کا مقصد شاہزیب خانزادہ سے صرف یہ پوچھناتھا کہ انہوں نے اسلام کے واضح احکامات کے باوجود بشریٰ بی بی کے خلاف ایسا پروگرام کیوں کیا۔ان کا مقصد صرف بات چیت کرنا تھا لیکن شاہزیب کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا اور وہ وہاں سے بھاگ گیا انہوں نے کہا کہ جب شاہزیب خانزادہ نے بات کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’آپ کو شرم آنی چاہیے‘۔

شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے یوتھیے کا سراغ مل گیا

شاہد بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ جو ویڈیو انہوں نے ریکارڈ کی وہ بغیر کسی ایڈیٹنگ کے اپ لوڈ کی گئی ہے۔ اس میں سنا جا سکتا ہے کہ اس میں انہوں نے کسی کو کوئی گالی نہیں دی اور نہ ہی ہراساں کیا ہے۔ شاہد بھٹی نے کہا ’میں صرف سوالات پوچھ رہا تھا، اس میں ہراسانی والی کوئی بات نہیں کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ صحافی نہیں ہے انہیں پروگرام کرتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ ایک سوال کے جواب میں شاہد بھٹی اپنی پی ٹی آئی سے وابستگی سے ہی انکاری ہو گئے اور کہا کہ وہ تحریکِ انصاف کے رکن نہیں بلکہ صرف حامی ہیں اور انہوں نے کبھی بھی تحریک انصاف کے کسی بھی جلسے میں شرکت نہیں کی۔  وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے سخت قانونی کارروائی بارے سوال کے جواب میں شاہد بھٹی کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ نے جو کرنا ہے کر لے۔ میں اس کو جانتا ہوں کہ یہ کون ہے، یہ خاندانی چور ہیں مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جیسے حسینہ واجد عبرت کا نشان بنی ہے ویسے ہی نون لیگ والے بھی انجام کو پہنچیں گے انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے شاہد بھٹی کی شناخت کے بعد اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کیلئے کینیڈا میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے جبکہ پاکستان میں بھی یوتھیے شاہد بھٹی کیخلاف قانونی چارہ جوئی بارے مشاورت جاری ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ کینیڈا میں شناخت کیے گئے شاہد بھٹی اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کس نوعیت کی کارروائی کی جاتی ہے، اور کیا تحریک انصاف اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل دے گی یا نہیں۔ سرکاری ذرائع کا اشارہ ہے کہ معاملہ سفارتی سطح تک پہنچ چکا ہے اور آئندہ چند دن اس سلسلے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button