پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے مابین امدادی کارڈز کی سیاست عروج پر

پاکستان میں مختلف قسم کے امدادی کارڈز کی سیاست اپنے عروج پر ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے وفاق یا صوبوں میں برسر اقتدار سیاسی پارٹیاں مختلف سکیموں کے سہولت کارڈز کے ذریعے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ کسی صوبے میں کسان کارڈز متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ کوئی ایجوکیشن کارڈ کی تشہیر کر رہا ہے کوئی سٹار کارڈ کے فائدے گنوا رہا ہے تو کوئی ہمت کارڈ کا چرچا کر رہا ہے غرضیکہ چاروں صوبوں کی حکومتوں کے مابین مختلف طرح کے سہولیاتی کارڈز متعارف کروانے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔

حال میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے دور اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والی حکومتی رپورٹ میں جہاں دیگر اقدامات کا تذکرہ کیا گیا تھا وہیں پنجاب میں مختلف طبقات فکر کیلئے متعارف کروائے گئے خصوصی کارڈز کا چرچا زوروشور سے کیا گیا۔ بعد ازاں گزشتہ دنوں سندھ میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے موجودہ حکومت کا پہلا سال مکمل ہونے پر میڈیا کو اپنے کاموں سے متعلق ایک طویل بریفنگ دی۔انہوں نے جہاں ترقیاتی کاموں کی فہرست بتائی وہیں سندھ میں متعارف کرائے گئے ’ہاری کارڈ‘کے ذریعے پونے دو لاکھ ہاریوں میں اربوں روپے کی تقسیم کو اپنی حکومت کا بڑا کارنامہ قرار دیا۔

مبصرین کے مطابق اہم بات یہ کہ پاکستان میں کارڈ پالیٹیکس کا آغاز کرنے والی بھی پیپلز پارٹی ہی ہے جس نے سب سے پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 2008 میں لانچ کیا جس سے ملک میں غریبوں کی بڑی تعداد کو براہِ راست ماہانہ رقم دی جاتی تھی۔یہ پہلا موقع تھا جب مینیوئل طریقے سے 70 اور 80 کی دہائی میں راشن کارڈ دیے جانے کے بعد ڈیجیٹیل طریقے سے حکومت نے عوام کو سہولت فراہم کی۔ اس کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو نواز شریف نے 2017 میں اس وقت محدود پیمانے پر ’صحت کارڈ‘ کا اجرا کیا۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے 2019 میں صحت کارڈ کا دوبارہ اجرا کیا اور اس کا دائرۂ کار پورے ملک تک پھیلا دیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن پاکستان تحریک انصاف اس ’سہولت کارڈ‘ کا کریڈٹ لیتی نظر آتی ہے۔

کارڈ پالیٹیکس میں تیزی مریم نواز کے دور میں دیکھی گئی جنہوں نے ایک ہی سال میں کسان کارڈ، مزدور کارڈ، خواتین کارڈ، اقلیتی کارڈ، آسان کاروبار کارڈ، ایجوکیشن کارڈ، لائیو سٹاک کارڈ اور سٹار کارڈ جاری کیے اور پنجاب حکومت ان کارڈز کی خوب تشہیر بھی کرتی نظر آتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب اب پیپلز پارٹی بھی ’ہاری کارڈ‘ لے کر میدان میں آ گئی ہے۔

ملک میں ’کارڈ پالیٹیکس‘کے حوالے سے مبصرین کا ماننا ہے کہ مختلف قسم کے امدادی کارڈز وقت کی ضرورت بن چکے ہیں۔ کیونکہ آہستہ آہستہ ملکی’معیشت بہت تیزی کے ساتھ ڈیجیٹلائزڈ ہو رہی ہے اس لیے حکومت وہی کام جو پہلے مینوئل طریقے سے کر رہی تھی وہ ڈیجیٹل طریقے سے کر رہی ہے۔ آنے والے دور میں جب گلی محلّے کی دُکانیں بھی ڈیجیٹل اکانومی پر شفٹ ہو جائیں گی تو یہ سب نارمل لگے گا۔‘اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ابھی بھی تھوڑے لیٹ ہیں۔ پچھلے 20 برسوں میں حکومتوں نے جو فیصلے لیے وہ اصل میں وقت کی ضرورت تھی۔  صحت کارڈ جو 2017 میں دیا گیا اس پر 2011 میں کام شروع ہو چکا تھا۔ تو یہ سب اس ارتقائی عمل کا حصّہ ہے اور اس سے شفافیت کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے۔‘

ہمیشہ جعفر ایکسپریس ہی حملہ آوروں کا نشانہ کیوں بنتی ہے؟

اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر قیس اسلم کی رائے بھی کچھ مختلف نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلا دور ہے ہی ڈیجیٹل اکانومی کا، سیاسی جماعتیں چاہ کر بھی اب اس سے اپنے آپ کو دور نہیں رکھ سکتیں۔قیس اسلم کے مطابق سیاسی جماعتیں تو کسی بھی بات کو اپنی کامیابی کے طور پر بنا کر پیش کر سکتی ہیں اور اسی میں ان کی سیاست پوشیدہ ہوتی ہے۔ باقی جو جتنی اچھی برانڈنگ کر لیتا ہے وہ سیاسی فائدے کے لیے ہی ہوتا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سرکاری دفاتر تک پیپر لیس ہونے جا رہے ہیں۔ گوگل پے پاکستان میں آچکا ہے تو یہ ڈیجیٹل کارڈ کا اجرا اسی بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ اکانومی ڈیجیٹل ہو رہی ہے۔‘ اس لئے مختلف سیاسی جماعتیں کارڈز کے اجراء میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے کوشاں دکھائی دیتی ہیں۔

Back to top button