چیف آف ڈیفنس فورسز کا انڈین ماڈل ہم نے کیوں اپنایا؟

 

پاکستانی عسکری قیادت نے مئی 2025 میں بھارتی حملوں کے بعد سے یہ ذہن بنا لیا تھا کہ مسلح افواج کی اعلیٰ سطح پر ایسی متحدہ کمانڈ بنانا ضروری ہو گیا ہے جو جنگی صورتحال میں فیصلہ سازی کے لیے بری فوج، فضائیہ اور بحریہ تینوں کی قیادت کو ایک ہی چھت کے نیچے لا سکے۔ اسی لیے اب چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا یے جو نہ صرف تینوں افواج کے درمیان مکمل کوآرڈی نیشن قائم کرے گا بلکہ جنگ کی حالت میں مشترکہ کمانڈ سنبھالنے کے علاوہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی نگرانی بھی کرے گا۔

معروف صحافی جاوید چوہدری نے اپنے سیاسی تجزیے میں یہ دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کی بڑی وجہ بھارت کا وہ فیصلہ تھا جو اس نے 2019 میں پاکستان پر فضائی حملے کے بعد کیا۔ بھارت نے دسمبر 2019 میں چیف آف ڈیفنس سٹاف کا نیا عہدہ تخلیق کیا اور جنرل بپن راوت کو آرمی چیف کے منصب سے ہٹا کر ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کر دیا۔ اس فیصلے کا اصل مقصد یہ تھا کہ بھارتی فوج، فضائیہ اور بحریہ کی مکمل کمانڈ اور کوآرڈی نیشن ایک ہی جگہ مرتکز ہو جائے۔ چوہدری کے مطابق پاکستان کے پاس اب اس فیصلے کا جواب دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ گیا تھا چنانچہ اب یہی عہدہ پاکستان میں بھی تخلیق کر کے جنرل عاصم منیر کو اس کا پہلا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔

سینیئر صحافی کے مطابق مئی 2025 کی جنگ کے بعد جب بھارتی شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بھارت جدید اسلحے کے باوجود پاکستان کے ہاتھوں اس لیے رسوا ہوا کہ اس کے دفاعی سسٹمز کے درمیان کوئی ہم آہنگی موجود نہیں تھی۔ بھارتی فوج مختلف ممالک بشمول امریکا، جرمنی، روس، فرانس اور اسرائیل کے جنگی آلات استعمال کرتی رہی، جو جنگ کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ موثر رابطہ قائم نہ کر سکے۔ اس کے برعکس پاکستانی فضائیہ نے اپنے تمام آلات کو مکمل ربط کے ساتھ استعمال کیا جس نے جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

جاوید چوہدری کے مطابق پاکستان کے ہاتھوں جنگی ہزیمت کے بعد انڈیا نے اپنی افواج کے درمیان کمیونی کیشن بہتر بنانے اور دفاعی مشینری کو ہم آہنگ کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ جیسے ہی بھارت یہ کام مکمل کرے گا وہ پاکستان پر دوبارہ سے حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ مئی 2025ء میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت شدید ذہنی دباؤ اور بے عزتی کا شکار ہے، اس لیے وہ اس کا بدلہ لینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت 2027ء میں دوبارہ پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے، اس کی ایک وجہ بھارتی ستارہ شناس بھی بتاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ 2027ء بھارت کے لیے سازگار سال ہوگا۔ دوسری وجہ خالصتاً عسکری نوعیت کی ہے، یعنی بھارت کو اپنی افواج اور دفاعی آلات کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کم از کم ڈیڑھ سال درکار ہے اور وہ مئی 2025ء کے بعد روزانہ اس منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ جیسے ہی بھارت یہ مرحلہ مکمل کرے گا، بھارت کے اندر دہلی کی پارلیمنٹ، ممبئی کے ریلوے اسٹیشن، چنائی کے بازاروں اور گجرات کے مندروں پر فرضی یا حقیقی حملوں کا الزام لگا کر پاکستانی سرحدوں پر پیش قدمی کی جا سکتی ہے۔ انکے مطابق پاکستانی فوج کے اندر اس بات پر اتفاق ہوا کہ مستقبل کی جنگی صورت حال میں دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایک ایسا مستقل دفتر اور عہدہ ناگزیر ہے جو تینوں افواج کے درمیان کوآرڈی نیشن بھی قائم رکھے اور جنگ کی حالت میں مشترکہ کمانڈ بھی سنبھال سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جوہری اثاثوں کا کنٹرول بھی اسی دفتر میں ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فیصلے ایک ہی مقام سے کیے جا سکیں۔ ماضی میں یہ مسئلہ بھی درپیش رہا کہ آرمی، پاک نیوی اور فضائیہ دفاعی آلات کی خریداری الگ الگ کرتی رہیں جس سے یہ خطرہ موجود رہتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مختلف ممالک سے خریدے گئے ریڈار یا دیگر نظام وقتِ ضرورت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکیں، بالکل اسی طرح جیسے مئی 2025ء کی جنگ میں بھارت کے ساتھ ہوا۔

جاوید چوہدری کے مطابق اس مسئلے کا واحد حل یہی تھا کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو پوری فوج کے لیے آلات کی خریداری کے فیصلے مشترکہ طور پر کرے۔ چاہے پیچ خریدنے کی بات ہو یا لڑاکا طیارے کی، پہلے یہ دیکھا جائے کہ آیا وہ نظام پاکستان کے مجموعی عسکری ڈھانچے میں مکمل طور پر فِٹ بیٹھتا ہے یا نہیں۔ اسی لیے چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے اور بھارت کو منہ توڑ جواب دینے والے جنرل عاصم منیر کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ دنیا کی تمام فوجی طور پر مضبوط ریاستوں میں ایسے عہدے پہلے سے قائم ہیں اور ان پر انتہائی سینئر جرنیل تعینات کیے جاتے ہیں۔ ایران میں میجر جنرل محمد باقری 2016ء سے 2025ء تک نو برس اس منصب پر فائز رہے۔ روس میں ویلری 2012ء سے چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر موجود ہیں، سعودی عرب میں جنرل فیاض الروایلی سات برسوں سے چیف آف ڈیفنس ہیں، جبکہ اسرائیل میں مارچ 2025ء سے ریوالوف چیف آف ڈیفنس کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ امریکا، فرانس، جرمنی اور چین میں بھی اسی نوعیت کے مضبوط عسکری ڈھانچے قائم ہیں۔ چونکہ یہ عہدے انتہائی حساس ہوتے ہیں اس لیے ان پر ہمیشہ ایسے افسر تعینات کیے جاتے ہیں جو ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اپنے ملکوں کو بحرانوں سے نکال سکیں۔

جاوید چوہدری کے مطابق پاکستان کو اپنے مستقبل کے دفاع کے لیے متحدہ کمانڈ، مشترکہ خریداری اور ایک ہم آہنگ عسکری ڈھانچے کی ضرورت ہے، اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ اسی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔

Back to top button