پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کا امکان

عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ملکی سطح پر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا امکان ہے،یہ اضافہ 6 روپے فی لیٹر تک ہوسکتا ہے۔
31 جنوری کے حتمی تخمینے کےمطابق پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت میں 2 سے 3 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایاگیا، مٹی کےتیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 6 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایاگیا ہے۔
یہ تخمینہ عالمی منڈی میں تیزی کے رجحان پر لگایاگیا ہے،جہاں برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں گزشتہ 15 روز میں 2 ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں ایچ ایس ڈی کی اوسط قیمتوں میں 2.50 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کا اضافہ ہوا،جب کہ پیٹرول کی قیمت میں گزشتہ پندرہ دنوں میں تقریباً 50 سینٹ فی بیرل کا اضافہ دیکھنےمیں آیا، مٹی کے تیل کی ایکس ریفائنری قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔پیٹرول پر درآمدی پریمیئم تقریباً 40 سینٹ اضافے کےساتھ 8.84 ڈالر فی بیرل ہوگیا ہے،جب کہ ڈیزل پر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔زر تبادلہ کی شرح بھی عام طور پر مستحکم رہی۔
نتیجتاً 29 جنوری کےتازہ ترین اعداد و شمار کےمطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں 2 سے 2.50 روپے فی لیٹر کا اضافے کا امکان ہے۔
اس وقت پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت 256 روپے 13 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 260 روپے 95 پیسے فی لیٹر، جب کہ مٹی کےتیل کی سرکاری قیمت 169 روپے 25 پیسےفی لیٹر ہے،تاہم یہ مارکیٹ میں اس قیمت پر شاذ و نادر ہی دستیاب ہے۔
پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ،چھوٹی گاڑیوں،رکشوں اور دو پہیوں والی سواریوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی قیمت میں اضافے سے براہ راست متوسط اور نچلے طبقے کا بجٹ متاثر ہوتاہے۔
ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ایچ ایس ڈی پر چلتا ہے،اسی وجہ سے اس کی قیمت کو مہنگائی میں اضافےکا سبب تصور کیاجاتا ہے، کیوں کہ یہ بنیادی طور پر ہیوی ٹرانسپورٹ گاڑیوں،ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں،بسوں، ٹریکٹرز ٹیوب ویلز اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے،جس سے خاص طور پر سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس وقت حکومت پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 76 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے،اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) صفر ہے، تاہم حکومت دونوں مصنوعات پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کرتی ہے،جس سے عام طور پر عوام متاثر ہوتےہیں۔
عمران خان کی کال پر 8 فروری کو صوابی میں جلسہ ہوگا : جنید اکبر خان
حکومت مقامی پیداوار یا درآمدات سے قطع نظر پیٹرول اور ایچ ایس ڈی پر تقریباً 16 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کرتی ہے، ساتھ ہی آئل کمپنیوں اور ان کے ڈیلرز کی جانب سے دونوں مصنوعات پر تقریباً 17 روپے فی لیٹر ڈسٹری بیوشن اینڈ سیل مارجن بھی وصول کیا جاتاہے۔
