جناح اور رتی کی انمول محبت کی کہانی، حامد میر کی زبانی

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے برصغیر کی تاریخ کے ایک ایسے رومانوی مگر الم ناک باب کو اجاگر کیا ہے جو نہ صرف بانی پاکستان محمد علی جناح کی پرائیویٹ زندگی پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ اُس عہد کے سماجی تضادات کو بھی سامنے لاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رتن بائی المعروف رتی اور محمد علی جناح کی محبت کی داستان عمروں کے فرق، مذہبی تقسیم اور سماجی دباؤ کے باوجود کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔

حامد میر روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں بتاتے ہیں کہ رتن بائی ایک حسین، تعلیم یافتہ اور امیر پارسی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہوں نے صرف 18 برس کی عمر میں اپنے والدین کی مرضی کے خلاف محمد علی جناح سے شادی کی۔ اگرچہ جناح کو دنیا قائداعظم اور بابائے قوم کے طور پر جانتی ہے، لیکن رتی کی شخصیت تاریخ کے حاشیوں میں گم رہی۔ 20 فروری 1929 کو، اپنی 29ویں سالگرہ کے دن، وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اگر وہ قیامِ پاکستان تک زندہ رہتیں تو ممکن تھا کہ مادرِ ملت کا اعزاز انہیں ملتا، جو بعد ازاں فاطمہ جناح کو ملا۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ رتی اور جناح کی محبت کی کہانی کو زیف سید نے ناول ’’رتی‘‘ میں قلم بند کیا ہے۔ اس ناول میں بیشتر کردار حقیقی ہیں جبکہ کچھ کو تاریخی سچائیوں کے قریب رکھتے ہوئے تخلیق کیا گیا ہے۔ ناول نہ صرف رتی کی شخصیت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ قائداعظم کی زندگی کے بعض ایسے پہلو بھی سامنے لاتا ہے جو عام لوگوں ہی نہیں، کئی مؤرخین سے بھی اوجھل رہے۔ ناول کا آغاز 15 اگست 1947 کی شام سے ہوتا ہے، جب محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ مصنف کے مطابق حلف برداری کے بعد جناح نے سر غلام حسین ہدایت اللہ کے کان میں کچھ کہا، جس کے بعد بمبئی سے بلائے گئے سازندوں کے گروہ نے فریدرک شوپاں کی ایک مشہور دھن پر مبنی گیت ’’سو ڈیپ اِن دی نائٹ‘‘ بجایا۔ یہ وہ دھن تھی جو رتی کو بے حد پسند تھی اور جسے وہ بمبئی کے تاج محل پیلس ہوٹل میں سنا کرتی تھیں۔ اس منظر کے ذریعے ناول نگار نے قیامِ پاکستان کی خوشی میں رتی کی یاد کو شامل کر دیا ہے۔

ناول میں حلف کی عبارت کے حوالے سے ایک متنازع پہلو بھی بیان کیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ جناح نے تاجِ برطانیہ سے وفاداری کے بجائے مستقبل کے آئینِ پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھایا، تاہم اس بارے میں مؤرخین کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بہرحال، ناول اس تقریب کے بعد قاری کو ماضی میں لے جاتا ہے جہاں محبت، مزاحمت اور معاشرتی دباؤ کی کہانی کھلتی ہے۔ رتی کا تعلق ایک ممتاز پارسی خاندان سے تھا اور محبت میں پہل انہی کی جانب سے ہوئی۔ 1916 میں جب جناح نے پہلی بار رتی کے والد سر ڈنشا سے ان کا ہاتھ مانگا تو انہیں گھر سے نکال دیا گیا۔ 1917 میں سر ڈنشا کی جانب سے عدالت سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا گیا تاکہ رتی کے 18 برس کی ہونے تک جناح ان سے نہ مل سکیں۔ 20 فروری 1918 کو رتی 18 برس کی ہو گئیں۔ انہوں نے بمبئی میں اپنی سالگرہ منائی، جہاں انہوں نے موسیقی پر جناح کے ساتھ رقص کیا۔ 18 اپریل 1918 کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد میں اسلام قبول کیا اور ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا۔ اگلے روز نکاح ہوا اور جناح نے اپنا بمبئی والا گھر بطور تحفہ دلہن کے نام کر دیا۔

شادی کے فوراً بعد سر ڈنشا جناح کے خلاف اپنی بیٹی رتی کے اغوا کا مقدمہ دائر کیا، مگر عدالت میں رتی نے کھڑے ہو کر کہا کہ ’’مسٹر جناح نے مجھے اغوا نہیں کیا، بلکہ میں نے انہیں اغوا کیا ہے۔‘‘ اس بیان کے ساتھ مقدمہ ختم ہو گیا، اگرچہ پارسی اور بعض مسلم حلقوں میں تنقید کا طوفان اٹھا۔ بعد ازاں چند مصنفین نے بھی اس رشتے پر مختلف آرا پیش کیں۔

بھارتی مصنفہ شیلا ریڈی نے اپنی کتاب ’’مسٹر اینڈ مسز جناح‘‘ میں فاطمہ جناح کو اختلافات کی وجہ قرار دینے کی کوشش کی، تاہم زیف سید کے ناول میں بیان کردہ واقعات اس مؤقف کی تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس خواجہ رضی حیدر کی کتاب ’’رتی جناح‘‘ میں اس شادی کے گرد اٹھنے والے تنازعات کی تفصیل ملتی ہے۔
شادی کے بعد جناح اور رتی کے مابین اختلافات بھی سامنے آئے، جنکی ایک بڑی وجہ جناح کی سیاسی مصروفیات تھیں۔ رتی انہیں پیار سے ’’جے‘‘ کہتی تھیں اور وقت نہ دینے پر شکوہ بھی کرتیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ دلی کا ہے جہاں رتی کی پالتو بلی ’کاجل‘ گم ہو گئی۔ جناح کو اعلیٰ عدالت میں پیشی کے لیے جانا پڑا۔ اس دوران رتی بلی کی تلاش میں رک گئیں۔ بعدازاں رتی پیرس چلی گئیں جہاں وہ سخت بیمار ہو گئیں۔ جناح ان کی تیمارداری کے لیے پیرس پہنچے اور ایک ماہ تک ان کے ساتھ رہے۔ 5 اکتوبر 1928 کو بحری جہاز سے رتی نے جناح کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے رویے اور غلط فہمیوں پر معذرت کرتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ 25 دسمبر 1928 کو جناح کی سالگرہ پر رتی نے تاج محل پیلس ہوٹل میں ظہرانے کا اہتمام کیا۔ مگر چند ہی ہفتوں بعد وہ دوبارہ بیمار پڑ گئیں اور 20 فروری 1929 کو اپنی سالگرہ کے دن انتقال کر گئیں۔

رتی کو بمبئی کے علاقے آرام باغ کے ایک مسلم قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ روایت ہے کہ جناح اپنی اہلیہ کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے ضبط نہ کر سکے اور پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ ان کی وفات کے وقت جناح کی عمر 52 برس تھی، مگر انہوں نے دوبارہ شادی نہیں کی۔ حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ جس تاج محل پیلس ہوٹل میں رتی کی محبت پروان چڑھی، وہی عمارت 2008 میں ممبئی حملوں کا نشانہ بنی۔ ناول میں 29 اگست 2012 کو بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے اجمل قصاب کے خلاف فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں ان حملوں کا ذکر تھا۔ یوں محبت، سیاست اور تاریخ ایک دوسرے میں گندھ جاتے ہیں۔

یہ داستان نہ صرف ایک عظیم سیاسی رہنما کی نجی زندگی کا انسانی پہلو پیش کرتی ہے بلکہ یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کے بڑے کردار بھی محبت، جدائی اور دکھ کے عام انسانی جذبات سے مبرا نہیں ہوتے۔

Back to top button