پیکا ایکٹ کا بنیادی مقصد فیک نیوز ختم کرنا ہے یا میڈیا کا گلا گھونٹنا

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے حکومت کی جانب سے حال ہی میں نافذ کیے جانے والے نئے پیکا ایکٹ کو ایک میڈیا مخالف کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاش ارکان پارلیمنٹ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء منظور کرنے سے پہلے اسکے مسودے پر ایک نظر ڈال لیتے۔ انکا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کو صحافیوں کی تنظیموں نے بھی مسترد کر دیا ہے کیوں کہ یہ آزادی صحافت کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ شہباز شریف حکومت کا موقف ہے کہ پیکا ایکٹ کا مقصدصرف فیک نیوز کو ختم کرنا ہے حالانکہ فیک نیوز کے انسداد کے لئے کئی قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ پیکا ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ وفاقی حکومت ایک سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بنائے گی۔ اس اتھارٹی کے تحت خصوصی عدالتیں بنائی جائیں گی جن کے ججوں کا تقرر عدلیہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت خود کرے گی۔ وفاقی حکومت خود ہی شکایت کنندہ بن سکے گی،خود ہی مقدمہ دائر کرے گی، خود ہی جج ہوگی اور سزا پر عملدرآمد بھی خود کرے گی۔

پیکا ایکٹ کو غور سے پڑھیں تو یہ آئین کے آرٹیکل 175کی ذیلی شق 3 کی کھلی خلاف ورزی ہے جو انتظامیہ کو عدلیہ کے اختیارات استعمال کرنے یا سلب کرنے سے روکتی ہے۔ سپریم کورٹ اپنے کئی فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ ایگزیکٹو افسران عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتے، نہ ہی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کر سکتےنہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے وفاقی حکومت کو براہ راست ججوں کی تقرری سے روکتے ہیں لیکن جن صاحبان اختیار نے پیکا ایکٹ 2025 ء کا درافٹ تیار کیا وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کو اہم نہیں سمجھتے بلکہ سپریم کورٹ سے اپنے من پسند فیصلوں کے اعلان کو ہی ملکی مفاد سمجھتے ہیں۔

حامد میر کے بقول سپریم کورٹ محرم علی بنام وفاق پاکستان کیس میں قرار دےچکی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار دیگر عدالتوں کے ججوں کی تقرری سے مختلف نہیں ہونا چاہیے اور ان عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا اختیار ہونا چاہیے۔ پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت بننے والی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں نہیں بلکہ صرف سپریم کورٹ میں اپیل ہو سکے گی جو آئین کی بھی خلاف ورزی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کے اختیارات پر ضرب لگائی اور پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء نے بھی سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں کو ہوا میں اڑا دیا۔ یہ قوانین صرف آئین پاکستان نہیں بلکہ یورنیورسل ڈکلیئریشن آف ہیومن رائٹس سمیت کئی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

سینیئر صحافی بتاتے ہیں کہ جس دن پیکا ترمیمی ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا گیا اس شام پاکستان کے دورے پرآئے یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے انسانی حقوق اولوف سکوگ سے ہماری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بھی پیکا ترمیمی ایکٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ وہ بھی حیران تھے کہ پارلیمنٹ نے یہ قانون بغیر بحث کے منظور کیسے کرلیا؟ انہوں نے کئی اہم حکومتی شخصیات کیساتھ ملاقاتیں کیں لیکن وہ فوجی عدالتوں اور پیکا ترمیمی ایکٹ پر حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے دلائل سے مطمئن نہ ہوئے۔

پانچ ججز کو اپنی مرضی کا چیف جسٹس لانے میں ناکامی کا سامنا

حامد میر کہتے ہیں پاکستان کے وکلا اور صحافی ان سیاہ قوانین کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مزاحمت کامیاب ہوگی یا ناکام لیکن مزاحمت تو کرنی ہوگی۔ یہ صرف وکلا اور صحافیوں کی نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی لڑائی ہے جنہیں انکے آئینی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کو بھی فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں جمہوریت اور آئین کا گورکن بننا ہے یا جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی لڑائی لڑنی ہے۔

Back to top button