صوبائی حکومت نے ایک بار پھر جمہوری عمل کا مذاق اڑایا، فیصل کنڈی

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ایک بار پھر جمہوری عمل کا مذاق اڑایا، جمہوریت کو ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ منتخب ارکان کو حلف سے روکنا شرمناک ہے، جبکہ ان کا حلف لینا آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی رکاوٹیں افسوسناک اور غیر جمہوری رویے کی عکاس ہیں۔
فیصل کنڈی نے پشاور ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے انہیں حلف برداری کا اختیار دے کر جمہوریت کی توقیر برقرار رکھنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے آئینی ذمہ داری میں رکاوٹ ڈال کر خود کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک فارمولہ طے پایا تھا، اور حکومت کی جانب سے اس پر رضامندی ایک مثبت قدم ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو بھی اس فارمولے پر عمل درآمد کا اختیار دیا گیا ہے۔
گورنر نے الزام عائد کیا کہ آج پی ٹی آئی نے کورم کی نشاندہی کر کے نیا تنازع کھڑا کیا اور حلف نہ لے کر آئین کی خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جو رویہ اپنایا گیا، کل جب انہی کے خلاف ہو گا تو یہ خود احتجاج کریں گے۔
فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی میں آزاد ارکان سے بات چیت جاری ہے، اور انہوں نے آئینی تقاضوں کے مطابق نومنتخب ارکان سے حلف لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ 6 سے 7 سینیٹرز منتخب کرائے جائیں، کیونکہ حکومت و اپوزیشن نے متفقہ طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بھی اس پر آمادگی ظاہر کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد امیدواروں کو قائل کر کے ساتھ ملانے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر وزیراعلیٰ حلف برداری کو غیر آئینی قرار دیتے ہیں تو عدالت میں چیلنج کریں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی ماضی میں اے ٹی ایم کے پیچھے جلوس نکالتی تھی، اب وہ کہاں ہے؟ 90 دن کی بات تو کہیں رہ گئی ہے۔
فیصل کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینیٹ امیدوار ان کے قابو میں نہیں، اور اگر ناراض امیدوار دستبردار نہ ہوئے تو اپوزیشن کی کوشش ہوگی کہ 6 سے 7 سینیٹرز بنوائے جائیں، کیونکہ اسمبلی میں 30 سے 35 آزاد ارکان موجود ہیں جن سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔
