تحریک انصاف قیادت بیرون ملک مقیم اپنے مخصوص گروپ اورسوشل میڈیا کی یرغمال بن گئی

تحریک انصاف قیادت بیرون ملک مقیم اپنے مخصوص گروپ اورسوشل میڈیا کی یرغمال بن گئی۔
تحریک انصاف کی قیادت متفق ہےکہ ان کی وجہ سےپارٹی اورجیل میں قید بانی عمران خان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم پارٹی ان لوگوں کو روکنےمیں ناکام ہے۔
پی ٹی آئی کےاسلام آباد کی طرف حالیہ مارچ کے بعد فوج اور آرمی چیف کےخلاف امریکا کے بعض شہروں میں سوشل میڈیا اور سڑکوں پر چلنے والی اسکرینوں کےذریعے مہم چلائی گئی۔
پارٹی کےکچھ سرکردہ رہنماؤں نے پروپیگنڈا روکنے کے لیے امریکا میں پی ٹی آئی کےذمہ داران سےرابطہ کیا لیکن ان کی درخواست پر دھیان نہیں دیا گیا۔
ججز تقرریاں، جوڈیشل کمیشن اجلاس 14 دسمبر کو طلب
نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر پی ٹی آئی کے ایک سرکردہ رہنما نے کہا کہ پارٹی رہنما اس فوج مخالف پروپیگنڈے سے ناخوش ہیں لیکن اس کےحوالے سے کھل کر کوئی بیان جاری کرنے سےہچکچا رہے ہیں کیونکہ ڈر ہے کہ انہیں غدار قرار دے دیا جائےگا اور پارٹی کے سوشل میڈیا پر ان کی تضحیک کی جائے گی۔
پارٹی کا آفیشل سوشل میڈیا بیرون ملک سےکنٹرول کیا جا رہا ہے
جو بات ناقابل یقین ہے وہ یہ ہےکہ پارٹی کا آفیشل سوشل میڈیا بیرون ملک سے کنٹرول کیاجا رہا ہےحتیٰ کہ پارٹی چیئرمین بیریسٹر گوہر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور انفارمیشن سیکرٹری وقاص اکرم شیخ کا بھی اس پر کوئی کنٹرول نہیں۔
پارٹی کے کچھ سینئررہنماؤں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہےکہ پارٹی قیادت سوشل میڈیا اور کچھ مخصوص گروپس کی وجہ سےاس قدر شدید دباؤ کا شکار ہے کہ وہ (پارٹی رہنما) ان کےچلائے جانے والے پروپیگنڈے کے خلاف کھل کر کچھ بولنےسے ہچکچاتے ہیں چاہے پھر وہ بات غلط ہو یا بڑھا چڑھا کرپیش کردہ ہو۔
پارٹی کے ایک اندرونی ذریعے کےمطابق آرمی چیف کے گزشتہ دورہ امریکا کےموقع پر پی ٹی آئی کے حامیوں نے وہاں مظاہروں کاانتظام بھی کیا تھا۔
پاکستان سےپارٹی کےایک اہم رہنما نے پارٹی کے امریکا کے تحریک انصاف کےذمہ داران کے ساتھ رابطہ کیا کہ ایسے مظاہرے نہ کیےجائیں کیونکہ یہ پاکستان میں مفاد میں نہیں۔
ایک اور سینئرپارٹی رہنما کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنماؤں کو ایجنسیوں یا پھرقانون نافذ کرنے والے اداروں سے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کےجارحیت پسند کارکنوں اور سوشل میڈیا کے سرگرم کارکنوں سےڈر اور خوف ہے۔
انہوں نےپی ٹی آئی کے حالیہ اسلام آباد مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور مارچ کے دوران ایسےہی جارح مجمع کے ہاتھوں یرغمال ہوگئے تھے۔
ذریعے نےمزید کہا کہ جب بشریٰ بی بی نے متعدد مرتبہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈی چوک جانے کا عزم ظاہر کیا تو گنڈا پور بالکل بے بس ہوگئے اور جانتے تھے کہ پرجوش مجمع اُنہیں بشریٰ بی بی کےبرخلاف کوئی دوسرا مؤقف اختیار کرنے نہیں دے گا۔ گنڈا پور اور پارٹی کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کی خواہش تھی کہ مارچ سنگجانی پر روک دیا جائے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کےدرمیان پس منظر میں ہونے والے حالیہ رابطوں کے حوالےسے پارٹی کے ایک رہنما نے اس نمائندے سے کہا تھا کہ مذاکرات میں شامل لوگوں کے نام ظاہر نہ کیے جائیں بصورت دیگر پارٹی کے جارح کارکن اُن پر یا ان کے گھروں پر حملہ کرسکتے ہیں۔
رابطہ کرنے پر پارٹی کےسیکرٹری اطلاعات وقاص اکرم شیخ نے بتایا کہ جو لوگ بھی فوج اور آرمی چیف کے خلاف امریکا میں روڈ اسکرینوں پر مہم چلارہے ہیں وہ یہ کام اپنےتئیں کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کی ایسی کوئی پالیسی ہےاور نہ ہی کوئی ایسی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
پنڈی اسلام آباد کے شہری پی ٹی آئی احتجاج سے پریشان، 68 فیصد نے شدید مخالفت کی: سروے جاری
انہوں نے کہا کہ ایسی مہم چلانے والے لوگ ہماری کہے سنے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی پیسہ دیکر سوشل میڈیا نہیں چلاتی۔ اس میں پارٹی کے حامی اور ووٹرز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سرگرم افراد میں زیادہ تر نوجوان ہیں اور اپنی مرضی اور خواہش پر عمل پیرا ہیں، یہ لوگ ہمارے کنٹرول میں نہیں، بصورت دیگر بھی دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کسی کے کنٹرول میں نہیں۔
پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے حوالے سے وقاص اکرم نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم پی ٹی آئی والے مینیج کرتے ہیں، ان میں سے کچھ پاکستان میں ہیں اور باقی بیرون ملک سے کام کر رہے ہیں۔
