پی ٹی آئی تنظیمی کمیٹی نے اپنی ہی حکومت کو ڈنڈا دے دیا

تحریک انصاف کی تنظیمی کمیٹی نے خیبر پختون خواہ میں اپنی ہی حکومت کو ڈنڈا دے دیا ہے۔ پارٹی کی تنظیمی کمیٹی نے ایک قرارداد پاس کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت تعینات فوجی دستوں کو 15 روز کے اندر واپس بلایا جائے، حالانکہ یہ تعیناتی گنڈا پورا حکومت کے مطالبے پر ہی کی گئی تھی۔ تحریک انصاف کی تنظیمی کمیٹی کو یہ بھی علم نہیں کہ وفاقی حکومت براہ راست کسی صوبے میں فوج تعینات کرنے کے احکامات نہیں دے سکتی اور ایسا صرف صوبائی حکومت کی سفارش پر ہی کیا جا سکتا ہے۔
یعنی خیبرپختونخوا میں فوج صوبائی حکومت کی مرضی سے ہی تعینات کی گئی تھی جس کا بنیادی مقصد صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو کنٹرول کرنا تھا۔ خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی مسلل 12 برس سے برسر اقتدار ہے اور وہاں ہر مرتبہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج صوبائی حکومت کی سفارش پر ہی تعینات کی جاتی ہے۔ لہذا قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی تنظیمی کمیٹی کو وفاقی حکومت کی بجائے اپنی صوبائی حکومت سے فوج واپس بھیجنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سویلین اینڈ آرمڈ آرڈیننس کے تحت فوج کو تعینات کرتے ہوئے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے۔ اس آرڈیننس کو قانون کا درجہ تحریک انصاف کی اپنی صوبائی حکومت نے دیا تھا۔ اس کا دائرہ اختیار پورے خیبر پختون خواہ تک عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دوران بڑھایا گیا تھا۔
پشاور ہا ئی کورٹ نے اس قانون کو ایک آئینی درخواست دائر ہونے پر ختم کر دیا تھا۔ لیکن عمران خان کی ہدایت پر خیبرپختونخوا کی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا تھا۔ یعنی آج خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے پاک فوج کے پاس جو اضافی اختیارات ہیں، وہ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس کیے گے قانون اور اس کی حکومت کے حاصل کردہ حکم امتناعی کی وجہ سے ہی ہیں اور اس میں نون لیگ‘ پیپلزپارٹی یا کسی اور سیاسی جماعت کا کوئی عمل دخل نہیں۔
اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ دیکھنا یہ ہے کہ جب تحریک انصاف کی تنظیمی کمیٹی اپنی ہی حکومت سے فوج کی تعیناتی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تو وہ کس کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں امن امان کی جو ابتر صورتحال ہے اس کے باوجود فوجی انخلاء کا مطالبہ دہشت گردوں کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے۔ انکا کہنا یے کہ تحریک انصاف کی تنظیمی کمیٹی کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب صوبے میں طالبان کی دہشت گردی عروج پر ہے اور پاک فوج روزانہ 190 سے زائد ملٹری آپریشنز کر رہی ہے۔
مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ فوج کے انخلاء کا مطالبہ دہشت گردوں کے لیے سہولت کاری کے مترادف ہے۔ انکا کہنا یے کہ تیرہ، بنوں، کرم اور پاراچنار میں دہشت گردی کے خونی واقعات کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی حکومت ہے جو 12 سال سے صوبے میں حکمران ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی فوجی جوان دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ عمران دور میں دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لا کر پاکستان میں بسانے کا نتیجہ ہیں۔ انکا کہنا یے کہ صوبائی حکومت اپنی ناقص کارکردگی کی ذمے داری اب فوج پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ اپنا 96 فیصد بجٹ صرف تنخواہوں پر خرچ کرتا ہے جبکہ صرف 4 فیصد بجٹ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے لیے مختص ہے، تا ہم دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے جدید اسلحہ، تربیت اور انفرااسٹرکچر کے لیے نہ تو کوئی بجٹ رکھا گیا اور نہ ہی کوئی تیاری کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں CTD کے افسران اور ملازمین کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے، لیکن عملہ نااہل، اور کم تعلیم یافتہ ہے۔
مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ جب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے لیے بجٹ ہی نہیں رکھا گیا تو پھر کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کیا کام کرے گا۔ صرف بھرتیوں کرنے سے تو سی ٹی ڈی اپنی کارکردگی بہتر نہیں بنا سکتی۔ دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے بجٹ بھی مختص کرنا ہو گا اور جوانوں کو سہولیات بھی دینا یوں گی، اس حوالے سے تحریک انصاف کی گنڈاپور سرکار کی کارکردگی صفر ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب اور سندھ نے اپنی سی ٹی ڈی کی فورس کو کافی مضبوط کیا ہے وسائل اور بجٹ بھی دیے ہیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ وزیر اعلی گنڈاپور کی سرکار نے انسداد دہشت گردی کے لیے سنجیدگی سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ایسے میں صوبے سے فوجی انخلاء کا مطالبہ دراصل پی ٹی آئی کی اپنی کرپشن، نا اہلی خصوصاً 5 اگست کے ناکام احتجاج سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ صوبائی حکومت کا یہ رویہ سیکیورٹی کے حساس ترین معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی خطرناک مثال ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر خیبر پختون خوا کے ضم شدہ اضلاع سے فوج نکال دی جائے تو کیا اس سے لا اینڈ ارڈر کی صورتحال بہتر ہو گی یا دہشت گرد دوباتہ منظم ہوں گے۔
اس حوالے سے مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ اس وقت خیبر پختون خواہ میں پاک فوج وہ خلا پر کر رہی ہے جو صوبائی حکومت اپنی نااہلی کے باعث پیدا کر چکی ہے۔ انکا کہنا یے کہ لاء اینڈ آرڈر بہتر کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے لیکن ملکی سلامتی کی خاطر پاک فوج کے پی میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے ہر روز اپنے خون سے قربانیاں دے رہی ہے، لیکن اگر گنڈاپور کی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے فوج واپس بھیجنے کا انتہائی خطرناک فیصلہ کرتی ہے تو پھر لا اینڈ آرڈر کی صورتحال مزید ابتر ہونے کی ذمہ داری بھی وہی ہو گی۔
