مہنگی ترین بجلی کی اصل وجہ آئی ایم ایف ہے یا حکومت کی نااہلی؟

مہنگی ترین بجلی کی اصل وجہ آئی ایم ایف ہے یا حکومت کی نااہلی؟ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر قرض کے حوالے سے سٹاف لیول معاہدہ طے پانے کے ایک روز بعد وفاقی حکومت نے عوام پر ایک اور بجلی بم گراتے ہوئے گھریلو صارفین کے لیے ایک بار پھر بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7.12 روپے تک کے اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا یے۔
اگرچہ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے ’پاکستان میں مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کو مضبوط بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ٹیکس بیس کو وسیع کیا جائے گا۔‘تاہم عوام میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام سے بجلی سمیت توانائی کے شعبے میں قیمتیں بہت بڑھ سکتی ہیں۔
تاہم سوال پیداہوتا ہے کہ رواں برس آئی ایم ایف پروگرام کی توجہ پاکستان میں توانائی کے شعبے کی طرف کیوں ہے اور کیا اس کا مطلب بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ ہے؟
خیال رہے کہ 14 جولائی کو پاور ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں سات روپے 12 پیسے تک اضافے ہوا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 48 روپے 84 تک پہنچ چکی ہے۔
ماہانہ 201 سے 300 یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین کے ٹیرف میں 7.12 روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فی یونٹ قیمت 34.26 روپے ہے۔ ماہانہ 301 سے 400 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے ٹیرف میں 7.02 روپے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ان کے لیے فی یونٹ قیمت 39.15 روپے ہے۔جبکہ ماہانہ 200 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو آئندہ تین ماہ کے لیے اس اضافے سے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں لگ بھگ دو گنا اضافہ ہو چکا ہے اور اس اضافے نے عام آدمی کی جیب پر بھی اسی حساب سے بوجھ ڈالا ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافے بارے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دو سال سے حکومت کی جانب سے بجلی کی بنیادی قیمت میں ’سو فیصد اضافہ‘ کیا گیا ہے۔ ’اگر اس سال کی بات کی جائے تو رواں سال مجموعی طور پر 12 روپے فی یونٹ تک اضافہ سامنے آ چکا ہے۔پچھلے سال بجلی کے بنیادی ٹیرف میں آٹھ روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔ اس سے پچھلے سال پی ٹی آئی کی حکومت کے وقت میں بھی اس میں ایک اضافہ آیا تھا۔‘’ابھی جو بجٹ آیا اس میں تین روپے 95 پیسے سے لے کر سات روپے 12 پیسے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے جو 14 فیصد سے لے کر 51 فیصد تک بنتا ہے۔‘
بجلی کے ٹیرف کو سمجھنے کے بعد اب واپس اس سوال پر آتے ہیں کہ آخر آئی ایم ایف کے معاہدے اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا آپس میں کیا تعلق ہے؟صحافی اور تجزیہ کار شہباز رانا کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی پاور سیکٹر پر توجہ اس لیے ہے کہ ’اس وقت پاور سیکٹر معیشت پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف، حکومت اور باقی اداروں کا خیال ہے کہ جب تک پاور سیکٹر مستحکم نہیں ہو گا تب تک توانائی کے شعبے کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘’پاور سیکٹر میں گورنس کے مسائل ہیں جنھیں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ طریقہ ماضی میں بھی ناکام رہا ہے اور اس بار بھی یہ نتیجہ خیز نہیں ہوگا۔‘
آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان سرکولر ڈیٹ یعنی گردشی قرضے میں اضافہ نہ کرے۔ تاہم یہ قرضے اس لیے بڑھ رہے ہیں کیونکہ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ادائیگیاں نہیں کر پاتی لہذا آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ اس میں مزید اضافہ نہ ہو۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ’بجلی کی لاگت اتنی زیادہ آ رہی ہے تو اس کے دو طریقے ہیں کہ یا تو آپ لاگت کو عوام پر منتقل کر دیں جو آج کل حکومت کر رہی ہے یا کوشش کریں کہ لاگت کم ہو جائے تو ان کے لیے اصلاحات کی ضرورت ہے جو حکومت نہیں کرنا چاہ رہی۔‘ ’جہاں اصلاحات نہیں ہوتیں وہاں لاگت بڑھ جاتی ہے، لہذا نقصان ہوتا ہے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کاواحد حل یہی ہے کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کی جائیں مگر ’ہم حکومت کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔‘
