عمران خان کے قید میں ہونے کی اصل وجہ خود عمران خان

27 ویں آئینی ترمیم کے بعد جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے بچے کھچے امکانات بھی ختم ہو گئے ہیں بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک دھاندلی زدہ الیکشن کے ذریعے انہیں وزارت عظمی تک پہنچانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ اب ان کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس صورتِحال کے سب سے بڑے ذمہ دار خود عمران خان ہیں۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی روزنامہ جنگ میں اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنی سیاسی تباہی کے دروازے تب کھولے تھے جب انہوں نے خالق فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہی گریبان پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہی اسٹیبلشمنٹ تھی جس نے سال 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے انہیں اقتدار کی منزل تک پہنچایا تھا۔ تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے وزارت عظمی سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان نے ایک اور بڑی سیاسی غلطی کی۔ انہوں نے اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بعد جنرل عاصم منیر کی تقرری میں رکاوٹیں ڈالیں، اور جب بات نہ بنی تو 9 مئی 2023ء کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے ذریعے فوج کے اندر بغاوت کی ایک ناکام کوشش کی۔
انصار عباسی کے مطابق یہی وہ موڑ تھا جہاں سے ان کے زوال کا سفر ناقابلِ واپسی بن گیا۔ اُن کی ان حرکتوں کو فوج کبھی معاف نہیں کر سکی۔ لیکن سب سے ذیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ آج بھی عمران خان اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھ رہے۔ وہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف گالی گلوچ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو مسلسل دباؤ میں لا کر وہ اپنی رہائی حاصل کر لیں گے، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنی زبان درازیوں سے جتنا دباؤ بڑھاتے ہیں، ان کے خلاف کھڑی کی گئی دیوار اتنی ہی مضبوط ہوتی جاتی ہے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ گزشتہ انتخابات سے پہلے میں اُن لوگوں میں سے تھا جو کہتے رہے کہ تحریک انصاف کو مقبولیت کے باوجود جیتنے نہیں دیا جائے گا کیونکہ عمران خان نے لڑائی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ فوج کے ساتھ لے لی ہے۔ میں اس لڑائی کے ہمیشہ خلاف رہا، کیونکہ ایک طرف فوج اور دوسری طرف ایک مقبول جماعت کا تصادم ملک کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔ میں بار بار کہتا رہا کہ اس لڑائی کو ختم کیا جائے، لیکن کسی نے نہ سنی۔ الیکشن 2018 کی طرح الیکشن 2024 بھی دھاندلی زدہ تھے۔ یوں تحریک انصاف اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہو گئی اور صرف خیبر پختون خوا میں حکومت بنا سکی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ عمران خان نے خود اپنے لیے مشکلات کے دروازے کھولے۔ وہ ’’ٹکر والے لوگ‘‘ کے بیانیے سے اتنے متاثر ہوئے کہ ٹکر کی سیاست میں اس حد تک چلے گئے کہ فوج، جسے وہ خود پاکستان کی سالمیت کا ضامن کہتے رہے، کو اپنا دشمن بنا لیا۔ 9 مئی اسی نفرت انگیز مہم کا نتیجہ تھا۔ اپنی ہی فوج کے خلاف اتنی نفرت کے بیج بو دیے گئے کہ شہیدوں تک کا مذاق اڑایا گیا۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران کو اپنی مقبولیت کو جوڑنے کا ذریعہ بنانا چاہیے تھا، لیکن عمران نے اپنی مقبولیت کو تقسیم کا ہتھیار بنا دیا۔ ان کی حکومتی کارکردگی اگرچہ مایوس کن رہی، لیکن اُنکا نکالا جانا اُن کی مقبولیت بڑھانے کا باعث بنا۔ بدقسمتی سے عمران خان نے اس مقبولیت کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کے بجائے نفرت، جھوٹ اور بہتان کی سیاست میں تبدیل کر دیا۔
ان کے پیروکاروں نے گالم گلوچ کو “حق کی جنگ” کا حصہ بنا لیا۔ جو اُن سے اختلاف کرتا، وہ غدار، بے ایمان یا دشمن قرار پاتا۔ اس سیاست نے تحریک انصاف کے ووٹرز میں سیاسی شعور کے بجائے بدتمیزی اور الزام تراشی کی روش پیدا کی۔ پاکستان کے مفاد کے خلاف بھی اگر جانا پڑتا تو جھجک محسوس نہیں کی جاتی تھی۔
انصار عباسی کے بقول یہ بھی درست ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ ان پر بے شمار مقدمات بنائے گئے، بہت سے رہنماؤں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ نفرت اور ٹکراؤ کی سیاست نے تحریک انصاف کو سیاسی نظام میں تقریباً Irrelevant بنا دیا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ عمران خان کو لڑائی کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کی طرف جانا چاہیے، اپنی اور اپنی جماعت کی نارمل سیاست کی واپسی کے لیے راستہ نکالنا چاہیے۔ میری یہی رائے تحریک انصاف کے کئی سینئر رہنماؤں کی بھی ہے، لیکن خان صاحب ’’ٹکر‘‘ کے نشے اور ’’ٹکر لینے والوں‘‘ کے بہکاوے سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اُن کے لیے اور ان کی پارٹی کے لیے مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ چند ’’ہمدرد یوٹیوبرز‘‘ کی گالیوں اور گمراہ کن تجزیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان کی قید لمبی سے لمبی ہوتی چلی جا رہی ہے۔ وہ یوٹیوبرز جنہیں خان اپنا ساتھی سمجھتے ہیں، دراصل اپنی لائکس اور ڈالرز کے لیے نفرت کا کاروبار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، جسے عمران اپنا سب سے بڑا ہتھیار سمجھتے ہیں، اب گندگی اور زہر کا اڈا بن چکا ہے جہاں نہ کسی کو دلیل کی پروا ہے نہ اخلاق کی۔
سیاسی ججز کی یکیوں نے عدالتی ترامیم پر کیسے مجبور کیا ؟
انصار عباسی کہتے ہیں کہ عمران خان کو سوچنا ہوگا کہ ’’ٹکر‘‘ اور ’’نفرت‘‘ کی سیاست نے انہیں کیا دیا؟ تحریک انصاف کو کیا فائدہ ہوا؟ ان کے ووٹرز اور سپورٹرز کو انہوں نے کیا دیا؟ سیاسی شعور یا گالم گلوچ کا کلچر؟
خان صاحب، کیا آپ یہی چاہتے تھے؟ ذرا سوچیے
