باغی PTI ایم این ایز کو حملے سے پہلے ہی نکال لیا گیا تھا

18 مارچ کو سندھ ہاؤس پر تحریک انصاف کے مظاہرین کی جانب سے حملے سے ایک رات پہلے ہی وہاں موجود تحریک انصاف کے باغی اراکین قومی اسمبلی کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منتقل کر دیا گیا تھا کیونکہ اپوزیشن قیادت کو پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ سندھ ہاؤس پر حملے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ منحرف اراکین کو حراست میں لیا جا سکے۔
وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کے مشورے کے فوری بعد اپوزیشن قیادت نے تحریک انصاف کے باغی اراکین قومی اسمبلی کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منتقل کر دیا تھا تاکہ ان کو ممکنہ گرفتاری سے بچایا جا سکے۔ اٹھارہ مارچ کی شام سندھ ہاؤس پر تحریک انصاف کے دور اراکین قومی اسمبلی کی قیادت میں سندھ ہاوس ہر دھاوا بولنے اور گیٹ توڑنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے خدشات درست ثابت ہوگئے۔ اپوزیشن ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ ریڈ زون میں واقع سندھ ہاؤس پر تحریک انصاف کے مظاہرین کا حملہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر کیا گیا یے۔ اپوزیشن قیادت کا کہنا ہے کہ سندھ ہاؤس پر حملہ دراصل وفاق کی جانب سے سندھ پر حملے کے مترادف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مقتدر حلقوں نے سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی مظاہرین کے حملے اور اس کا مرکزی دروازہ توڑ کر اندر گھس جانے کا سخت نوٹس لیا۔ چنانچہ وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے مظاہرین کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ جیو ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ سندھ ہاوس پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیا ہے اور تحریک انصاف کے ان اراکین قومی اسمبلی کی گرفتاری کا حکم بھی دے دیا ہے جو گیٹ توڑ کر سندھ ہاؤس میں گھسے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت نے وفاقی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ اگر ان کی جانب سے غنڈہ گردی کا سلسلہ نہ رکا تو وہ بھی ضبط کا بندھن توڑ دیں گے اور جوابی کارروائی پر اتر آئیں گے۔
واضح رہے کہ 17 مارچ کو حکمران جماعت تحریک انصاف کے منحرف ارکان جو سندھ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے آگئے تھے۔ راجا ریاض نے وہاں دعوی کیا تھا کہ ہمارے ساتھ 24 ارکان ہیں جو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے۔ چنانچہ 18 مارچ کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کے کارکناں گیٹ توڑ کر سندھ ہاؤس میں داخل ہوگئے۔
یاد رہے کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد کی حساس ترین ریڈ زون میں واقع ہے جہاں کوئی شخص بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتا۔ مظاہرین وزیراعظم عمران خان کے حق میں اور منحرف اراکین قومی اسمبلی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اندر گھسنے کے بعد نعرے بازی کی اور پارٹی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ تاہم جب مظاہرین کنٹرول سے باہر ہوگئے تو سندھ ہاؤس کی پہرے داری کرنے والی سندھ پولیس نے نے وفاقی پولیس کی مدد سے مظاہرین کو روکا جس کے بعد درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔
An attack on Sindh House is being planned to arrest the dissident members.
