آئی ایم ایف سے قرض5فیصدکی بھاری شرح سودپرحاصل کرنےکاانکشاف

حکومت کی جانب سےآئی ایم ایف سےحاصل کردہ7ارب ڈالر کا قرضہ5فیصد شرح سود پرلیےجانےکا انکشاف ہواہے۔

 وزیرخزانہ نےمہنگے بیرونی کمرشل قرضےلینےکا تاثررد کرتےہوئے کہا کہ اب ہم تب قرض لیں گےجب ضرورت ہوگی، کمرشل بینکوں سےکوئی بھی قرض اپنی شرائط پرلیں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےخزانہ کااجلاس چیئرمین کمیٹی سینٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں آئی ایم ایف اورعالمی کمرشل بینکوں سے حاصل کردہ قرضےکی شرائط پیش کردی گئی ہیں۔

اجلاس میں انکشاف ہوا کہ آئی ایم ایف سےتقریباً 5 فیصد شرح سود پر 7 ارب ڈالر قرض حاصل کیا گیا جس میں3.37 فیصدایس ڈی آرریٹ،1 فیصد مارجن اور50 بیسز پوائنٹس سروس چارجز شامل ہیں جبکہ آئی ایم ایف کو قرضہ گریس پیریڈ سمیت10 سال کی مدت میں قابل واپسی ہوگا اورآئی ایم ایف کو ششماہی بنیاد پر12اقساط میں یہ قرض واپس کیا جائے گا۔

اجلاس میں چینی بینکوں سمیت دیگراداروں سے7سے8 فیصد سود پرقرض لینےکا انکشاف ہواجن میں چائنا ڈیویلپمنٹ بینک،انڈسٹریل کمرشل بینک آف چائنا اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک شامل ہیں۔ ای سی او ٹریڈاینڈ ڈیویلپمنٹ بینک اور مشترکہ لون فسیلٹی بھی حاصل کی گئی۔

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئےوزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر 55 سال کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

وزیرخزانہ نےمہنگے بیرونی کمرشل قرضےلینےکا تاثر رد کردیا کہا اب ہم تب قرض لیں گے جب ضرورت ہوگی،کمرشل بینکوں سےکوئی بھی قرض ہم اپنی شرائط پرلیں گے، یرونی فنانسنگ کا گیپ پورا کرلیا گیاہے،آئندہ جو بھی قرض لیں گے کمیٹی کو ہر چیز صاف شفاف بتائیں گے۔

وزیر خزانہ نےانٹرنیشل کیپٹل مارکیٹ سےجلد رجوع کرنےکا بھی عندیہ دےدیا، کہا کہ رواں مالی سال پانڈا بانڈ کےاجراءکا پلان ہے۔وزیرخزانہ نےکہا کہ پاکستان میں صنعتی اشاریوں میں بھی بہتری آنا شروع ہوگئی ہے، گاڑیوں کی فروخت میں سالانہ بنیاد پر49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کانیا پروگرام ایک طویل اوربڑا روگرام ہے، آئی ایم ایف کے نئے پروگرام میں کچھ اضافی شرائط بھی شامل ہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فنانسنگ پربھی بات چیت جاری ہے،اس مقصد کیلئے منصوبوں کی نشاندہی کرنا ہوگی۔

Back to top button