مجتبی کے سپریم لیڈر بننے سے پاسداران انقلاب مضبوط تر ہو گئی

 

 

 

ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور سپریم لیڈر تقرری سے پاسدارانِ انقلاب کا ملکی معاملات میں عمل دخل دائمی حیثیت اختیار کر گیا ہے چونکہ جوانی میں مجتبیٰ پاسدارانِ انقلاب کا باقاعدہ حصہ رہے ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق اس تقرری نے نہ صرف ایران کی سیاسی سمت واضح کر دی ہے بلک جنگی ماحول میں قوم کو متحد بھی کر دیا ہے ۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجتبی خامنہ ای کا بطور سپریم لیڈر اصل امتحان جنگ ختم ہونے کے بعد شروع ہوگا۔ تب ہی یہ واضح ہو گا کہ نئے سپریم لیڈر کو عوامی سطح پر کتنی مقبولیت اور مذہبی حلقوں میں کتنی قبولیت حاصل ہوتی ہے۔

 

یاد رہے کہ ایران کی مجلس خبرگان نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر اور رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی اور سیاسی اتھارٹی کی کمان باضابطہ طور پر ان کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ ایران کے آئینی ڈھانچے کے مطابق سپریم لیڈر کو ریاستی امور میں حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے اور پاسداران انقلاب بھی اسی کے ماتحت ہوتی ہے، اس لیے نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کو ملک کی سیاست اور خارجہ پالیسی کے لیے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ دو دہائیوں سے ایران کے ریاستی اور سیاسی معاملات میں پسِ پردہ مؤثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب کے حلقوں میں ان کا اثر و رسوخ نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں پاسدارانِ انقلاب کی حمایت نے اہم کردار ادا کیا اور یہ سپورٹ ان کے حق میں فیصلہ ہموار کرنے کا باعث بنی۔ نئے سپریم لیڈر کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران ایک شدید جنگی اور علاقائی کشیدگی کے ماحول سے گزر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال مجتبیٰ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوسکتی ہے۔ درحقیقت مجتبی کے لیے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنا ایک چیلنج ہوگا چونکہ وہ اس وقت اپنے خاندان بشمول اپنے والد، والدہ، بچوں اور بیوی کی موت کے صدمے سے بھی دوچار ہیں۔

 

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جب کسی ریاست کا اہم رہنما تنازع یا جنگ کے آغاز میں قتل ہو جائے تو اس کے جانشین پر غیر معمولی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس دباؤ کے تحت اکثر نئے رہنما اپنے پیش رو سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں تاکہ اپنی قیادت اور طاقت کا تاثر قائم رکھ سکیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ ان کے والد اور سابق سپریم لیڈر جنگ کے آغاز میں شہید ہو گے، جس کے باعث نئے رہبرِ اعلیٰ پر داخلی اور خارجی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی رہنما کے قتل کے بعد اس کے جانشین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی اہلیت اور مضبوطی کو ثابت کرنا ہوتا ہے۔ یہی صورتحال اس وقت ایران کے نئے سپریم لیڈر کو بھی درپیش ہے۔ اگرچہ مجلس خبرگان کے فیصلے کے بعد ایران کے سیاسی و مذہبی حلقوں نے باضابطہ طور پر ان کی بیعت کر لی ہے، تاہم انہیں اپنی عملی قیادت اور سیاسی بصیرت سے خود کو ثابت کرنا ہو گا۔ عوام اور سیاسی حلقوں میں ان کا موازنہ ان کے والد سے بھی کیا جائے گا، جو کئی دہائیوں تک ایران کے طاقتور ترین رہنما رہے۔ یہی موازنہ مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کا ایک اہم پیمانہ بن سکتا ہے۔ نئے سپریم لیڈر کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی شخصیت اور سیاسی سوچ کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات بہت محدود ہیں۔ اب تک نہ تو ان کی کوئی بڑی سیاسی تقریر منظر عام پر آئی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تصنیف دستیاب ہے جس سے ان کے نظریات اور سیاسی فکر کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اسی طرح ان کی ویڈیوز بھی شاذ و نادر ہی سامنے آئی ہیں جبکہ ان کی تصاویر بھی بہت کم دستیاب ہیں۔ تاہم ان کی ایک نایاب ویڈیو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ جوانی میں پاسداران انقلاب فورس کا بھی حصہ رہے ہیں۔

 

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ نے اب تک زیادہ تر کردار پسِ پردہ رہ کر ادا کیا ہے جس کی وجہ سے ان کے مزاج، پالیسی اور حکمت عملی کے بارے میں واضح اندازہ لگانا مشکل ہے۔ موجودہ جنگی ماحول میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے لیے فوری طور پر کسی پسپائی کی پالیسی اختیار کرنا مشکل ہوگا۔ اگر وہ ایسے وقت میں جنگ سے پیچھے ہٹتے ہیں تو اسے کمزوری کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے مبصرین کے مطابق انہیں اپنی مضبوط شناخت قائم کرنے کے لیے سخت مؤقف برقرار رکھنا پڑ سکتا ہے۔

 

ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات اور اقدامات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ جنگ کے حوالے سے بہت زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی سابق صدر کے حالیہ بیان پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ جنگ کب ختم ہونی ہے اس کا فیصلہ امریکہ نہیں بلکہ ایران خود کرے گا۔ ایسے میں نئے سپریم لیڈر کو صرف خارجی محاذ ہی نہیں بلکہ داخلی سیاسی دھڑوں کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

اس وقت ایران کے طاقتور ترین ادارے پاسدارانِ انقلاب کی قیادت کو توقع ہوگی کہ مجتبیٰ اسکی پالیسیوں کو آگے بڑھائیں گے۔ اسی طرح انقلابی دھڑے کی خواہش ہوگی کہ وہ انقلابِ اسلامی کے نظریات کو مزید مضبوط کریں۔ دوسری جانب اصلاح پسند حلقے امید رکھتے ہیں کہ نئی قیادت ملک میں اصلاحات اور سیاسی نرمی کی فضا پیدا کرے گی۔ اس کے علاوہ قدامت پسند اور اصلاح پسند قوتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی نئے سپریم لیڈر کے لیے ایک اہم چیلنج ہوگا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت ایران کے تمام دھڑے خاموشی سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ نئی قیادت کس حد تک مضبوط ثابت ہوتی ہے اور اس کی عملی پالیسی کیا شکل اختیار کرتی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ جیت چکے ، اہداف کے حصول تک واپس نہیں جائیں گے : ٹرمپ

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ بطور رہبرِ اعلیٰ یا سپریم لیڈر خامنہ ای کے انتخاب کو ایرانی عوام نے خوش آمدید کہا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ایک طرح کی تشنگی موجود ہے کیونکہ مجتبیٰ خامنہ ای ابھی تک عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ اب تک نہ ان کا کوئی ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کی ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات کی کوئی تصویر یا ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں تجسس پایا جاتا ہے۔ تا ہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت مجتبی خامنہ ای کی زندگی سب سے زیادہ قیمتی ہے اور انہیں بہت سوچ سمجھ کر عوام میں آنا ہو گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران میں کئی جید مذہبی شخصیات موجود ہیں لیکن مجلس خبرگان نے بالآخر مجتبیٰ خامنہ ای کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ انہیں عوام اور مذہبی قیادت کی جانب سے کتنی وسیع قبولیت حاصل ہوتی ہے اور وہ ایران کی قیادت کو کس سمت میں لے کر جاتے ہیں۔

 

Back to top button