بسنت کے تہوار پر امیروں کے مزے اور غریب بیچارے پھنسے

 

 

 

 

قریب 20 برس بعد لاہور کی فضا میں بسنت کے رنگ تو لوٹ آئے ہیں، مگر پولیس کی پکڑ دھکڑ، اجازت ناموں کی پابندی، دفعہ 144 کے نفاذ اور پتنگوں و ڈور کی آسمان کو چھوتی قیمتوں نے اس تہوار کو عوام کی چھتوں سے اٹھا کر اشرافیہ کی نجی محفلوں تک محدود کر دیا ہے۔ کاغذی اجازت ناموں، پولیس کی سخت نگرانی اور مہنگائی کی تیز دھار نے بسنت کے خوشیوں بھرے جشن کو عوامی تہوار کے بجائے ایک کنٹرولڈ تماشے میں بدل دیا ہے۔ ایک طرف بڑی چھتوں، مہنگی ڈور اور خصوصی انتظامات کے ساتھ امیر طبقہ بسنت منا رہا ہے، تو دوسری طرف عام شہری پابندیوں، مقدمات اور بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دب کر اس تہوار کو صرف دور سے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ یوں بسنت کی واپسی نے خوشی سے زیادہ طبقاتی خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔ پابندیوں میں جکڑی اس بسنت میں جہاں امیر مزے اڑا رہے ہیں، وہیں یہ تہوار غریبوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

 

لاہور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور نگرانی کے ماحول میں منائی جانے والی موجودہ بسنت کو روایتی، عوامی اور رنگوں سے بھرپور تہوار کہنا مشکل ہے، فیاض نامی ایک نوجوان کے مطابق بسنت کی واپسی پر جو خوشی ہوئی تھی، وہ پتنگوں کی قلت، مہنگائی، سرکاری پابندیوں اور پولیس کی سختی نے ماند کر دی ہے۔ عوامی تحفظ کے نام پر بے جا پابندیاں عائد کر کے پولیس کو کھلی چھٹی دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

 

خیال رہے کہ حکومتِ پنجاب نے بسنت کی مشروط اجازت صرف لاہور میں چھ سے آٹھ فروری تک دی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر حصوں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے بغیر بار کوڈ پتنگ اور ڈور کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں پنجاب بھر میں تیس روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ صرف مخصوص رجسٹرڈ افراد کو بار کوڈ والی پتنگیں اور ڈور تیار کرنے اور مخصوص مقامات پر فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

 

پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور پر مکمل پابندی ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت پر سات سال قید اور پچاس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پتنگوں پر کسی شخصیت، ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے یا تصویر لگانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی پابندیوں کا پہلا اور واضح اثر بازاروں پر پڑا۔ جس کی وجہ سے پتنگ اور ڈور کی قلت نے قیمتوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، اور بلیک مارکیٹ میں بھی یہ سامان فروخت ہو رہا ہے۔ جو پتنگ اور ڈور کبھی چند سو روپے میں دستیاب تھی، اب ہزاروں روپے میں مل رہی ہے وہ بھی غیر معیاری ہیں، لاہورکے باسیوں کے مطابق ہزاروں روپے کی ڈور اور پتنگیں ہر کسی کی پہنچ میں نہیں رہیں، جس کے باعث بسنت آہستہ آہستہ عوامی تہوار کے بجائے اشرافیہ کی تفریح بنتی جا رہی ہے۔

 

دوسری جانب لاہور میں سولر پینلز کی تنصیب کے باعث چھتوں کی دستیابی پہلے ہی کم ہو چکی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بسنت کے دنوں میں چھتوں کے کرائے غیر معمولی حد تک بڑھا دیے گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں بڑی چھتیں لاکھوں روپے میں کرائے پر دی گئیں، جو عام شہری کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں۔ نتیجتاً بسنت وہ تہوار بن گیا ہے جس میں شرکت کا حق بھی طبقاتی حیثیت سے مشروط ہو گیا ہے۔

 

سابق بیوروکریٹ اور لاہور میں جدید بسنت کو فروغ دینے والے کامران لاشاری کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے اس مرتبہ کنٹرولڈ بسنت منائی جا رہی ہے اور حکومت تفریح اور شہریوں کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو آسان فیصلہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق بسنت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی جنریشن زی اسے پہلی بار براہِ راست دیکھ رہی ہے۔ کامران لاشاری کا بھی ماننا ہے کہ بسنت بنیادی طور پر عام لوگوں کا تہوار تھا، جس میں اشرافیہ بعد میں شامل ہوئی، مگر آج صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ بعض دیگر ناقدین کے مطابق بسنت کی موجودہ شکل اس بات کی علامت ہے کہ ہم خوشی کو بھی کنٹرول کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول ہم نے تہوار کو خطرہ سمجھ کر اس پر پابندی، نگرانی اور طاقت کا عمومی نسخہ آزمایا ہے جو اختلاف، اجتماع اور اظہار پر آزمایا جاتا ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پربسنت تو واپس آ گئی ہیں مگر غریب عوام کی بجائے یہ جشن صرف اشرافیہ تک محدود ہو گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بسنت کے حقیقی رنگوں کو نمایاں کرنے کیلئے اسے بے جا ضابطوں کی قید سے نکال کر دوبارہ عوام کے حوالے کرنا ہو گا، ورنہ یہ تہوار محض ایک گورنمنٹ سپانسرڈ کنٹرولڈ ایونٹ بن کر رہ جائے گا،ایسا تہوار جس میں رنگ تو ہوں گے، مگر خوشی نہیں۔

 

Back to top button