ایوان کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی : ملک احمد خان

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ وہ ایوان کا تقدس پامال کرنے اور ایوان میں گالم گلوچ، فحش اشاروں اور بدنظمی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔میں نے ہمیشہ ایک مؤثر اور غیر جانبدار کسٹوڈین کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے کردار کو مکمل ذمہ داری اور آئینی تقاضوں کے ساتھ ادا کر سکوں۔

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی اسمبلی اور اس کے قواعد و ضوابط کے مطابق گزری ہے، اپوزیشن کے چند ارکان کو قواعد کی خلاف ورزی پر نوٹسز بھی جاری کیے گئے، کیوں کہ ایوان کو اصول و ضوابط کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔

ملک احمد خان نے کہا کہ اپوزیشن کو ایوان میں اظہار رائے کا بھرپور موقع دیاگیا، تاہم 20 برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ آج تک ایک بھی مکمل بجٹ تقریر سننے سے محروم رہے۔ کبھی وزیر خزانہ پر حملے ہوجاتے ہیں، تو کبھی ہنگامہ آرائی کی نوبت آتی ہے۔

اپوزیشن ارکان کے خلاف ریفرنس پر ہونے والی تنقید پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سپیکر ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ کیا ان اعتراض کرنے والوں کا دماغ کام کر رہا ہے؟ اگر وزیراعظم کو غلط بیانی پر نااہل قرار دیا جاسکتا ہے تو ایوان کا تقدس پامال کرنے والوں پر سوال کیوں نہیں اٹھتا؟

ملک احمد خان نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو آمریت کی باقیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اختیار ہو تو ان دفعات کو نکال کر پھینک دینا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کے حقوق کا مقدمہ لڑرہا ہوں۔ اسمبلیاں مردہ ادارے نہیں، ان میں جیتے جاگتے نمائندے بیٹھتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ ایک مؤثر اور غیر جانبدار کسٹوڈین کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ 15 ماہ میں اپوزیشن کی ہر بات کو ترجیح دی، تنقید کو خندہ پیشانی سے سنا اور جواب دیا۔ میری رولنگ کےخلاف بہت کچھ کہا اور لکھا گیا، لیکن بجٹ اجلاس کے دوران شور شرابے نے کبھی کسی تقریر کو مکمل ہونے نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا آئین میں نے لکھا ہے؟ میں خود آئین کی شق 62، 63 کا مخالف ہوں، یہ صرف مخصوص مقاصد کےلیے استعمال ہوتی ہیں، آئینی دفعات کا من پسند استعمال قابل قبول نہیں۔

انہوں نےکہا کہ ان کا مقدمہ صرف پنجاب کے عوام کے حق نمائندگی کا ہے۔ اراکین کی معطلی کبھی میرا پہلا راستہ نہیں رہا۔میں اپنے آئینی اختیارات کی حدود سے ایک انچ بھی تجاوز نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہاکہ کیا پی ٹی آئی کی ساری جمہوریت صرف ہمارے خلاف ہی متحرک ہوتی ہے؟ میں ہر رکن کو اُس کا جائز حق دلانے کا خواہشمند ہوں۔ اسمبلی کسی احتجاجی کیمپ کا نام نہیں بلکہ ایک آئینی ادارہ ہے۔”

ملک احمد خان نے پانامہ کیس کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کیا وزیر اعظم کو محض غلط بیانی پر نااہل قرار دینا درست تھا؟ اگر ایسا ہوسکتا ہے تو ایوان کو تماشہ بنانے والوں کا احتساب کیوں نہیں ہو سکتا؟”

انہوں نے واضح کیاکہ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں اور ان کی بنیاد کسی کی معطلی پر نہیں، بلکہ آئینی کردار پر ہے۔ فی الحال میری ساری توجہ ایوان کو بہتر انداز میں چلانے پر مرکوز ہے۔

سپیکر نے کہا کہ وہ ایوان میں گالم گلوچ، فحش اشاروں اور بدنظمی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ میں نہیں چاہتا کل کو میرے بارے میں بھی وہ کچھ لکھا جائے جو ایک معزز جج کے بارے میں لکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کیا کسی کو اسمبلی میں گالیاں دینے کےلیے بھیجا جاتا ہے؟ ان حرکات سے ایک تیسری قوت کے لیے جگہ پیدا کی جا رہی ہے۔ اگر آپ کا لیڈر جیل میں ہے تو قانونی راستہ اختیار کریں، سب نے کیا ہے۔

صدر اور وزیراعظم کا لالک جان شہید کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت

انہوں نے کہا کہ نہ زرداری صاحب کو اسمبلی میں شور شرابے سے ریلیف ملا، نہ نوازشریف یا شہباز شریف کو، پھر یہ روایت کیوں برقرار ہے؟

Back to top button