سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پیکا ترمیمی بل منظور کرلیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے متازعہ پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دےدی۔ صحافتی تنظیموں اور جے یو آئی نے بل کی مخالفت کی۔

سینیٹر فیصل سلیم کی صدارت میں ہونےوالے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پیکا ایکٹ ترمیمی بل پیش کیاگیا جس پر کمیٹی ارکان نے بحث کی۔اجلاس کے دوران چیئرمین فیصل سلیم نے کہاکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کیمیٹیوں کو بل کی منظوری کےلیے 3 دن کا وقت دیا گیاتھا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے صحافتی تنظیموں کی جانب سے تحریری سفارشات پیش نہ کرنےپر اعتراض کیا، چیئرمین کمیٹی نےکہا کہ صحافتی تنظیموں کو اپنی تحریری سفارشات کمیٹی میں رکھنی چاہیےتھیں۔

حکومتی سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ اس ملک میں کسی کو ہتھکڑیاں لگانے کےلیے ضروری نہیں کہ کسی قانون کی ضرورت ہو،انہیں خود کرایہ داری کے قانون کےتحت پکڑا گیا تھا۔

جے یوآئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیکا بل کی مخالفت کرتےہوئے کہاکہ اتنی جلدی میں کیوں منظور کیا جا رہا ہے،بل میں بہت سی کمزوریاں ہیں،فیک نیوز کی تشریح نہیں کی گئی،کیسے فیصلہ ہوگاکہ فیک نیوز کیا ہے،جو ایسے متنازع قوانین کی بنیاد رکھتا ہےوہی اس کی زد میں آجاتا ہے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کہا وہ خود بھی فیک نیوز کا متاثر رہے، روزانہ فیک نیوز کےخلاف مقدمات کریں گے تو صرف وکیلوں کو ہی ادائیگیاں کرتے رہیں گے۔

سیکریٹری داخلہ نے دعویٰ کیاکہ یہ قانون لوگوں کے تحفظ کےلیے ہے،حکومت کچھ ترامیم بھی لائی ہےتاکہ اس قانون کا بہتر اطلاق ہوسکے،انہوں نے مطالبہ کیاکہ قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل کو اسی صورت میں منظور کیاجائے، بعد ازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پیکا ترمیمی بل کی منظوری دےدی۔

یاد رہےکہ جمعرات کو قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظوری کےبعد اگلے پیکا ترمیمی بل 2025 اگلے روز سینیٹ میں پیش کیاگیا تھا جسے چیئرمین سینیٹ نے قائمہ کمیٹی کو بجھوادیا تھا۔

قومی اسمبلی میں ترمیمی بل وفاقی وزیر رانا تنویر نے پیش کیاتھا، جب کہ صحافیوں اور اپوزیشن نے پیکا ترمیمی بل کےخلاف ایوان زیریں سے واک آؤٹ کیا تھا۔

علاوہ ازیں صحافیوں کی مختلف تنظیموں نے اپنے الگ الگ بیانات میں پیکا ترمیمی بل کی مذمت کی تھی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) سمیت صحافیوں کےحقوق کے گروپوں کی نمائندگی کرنےوالی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے ای سی) نے ایک مشترکہ بیان جاری کیاتھا، جس میں اس ترمیم کی مذمت کی گئی تھی۔

واضح رہےکہ وفاقی حکومت نے 22 جنوری کو پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا جس کےتحت سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی،جھوٹی خبر پھیلانےوالے شخص کو 3 سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ عائد کیا جاسکےگا۔

حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیےجانے والے پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کے مطابق سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کامرکزی دفتر اسلام آباد میں ہو گا، جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی دفاتر قائم کیے جائیں گے۔

ترمیمی بل کےمطابق اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور رجسٹریشن کی منسوخی،معیارات کےتعین کی مجاز ہوگی جب کہ سوشل میڈیا کےپلیٹ فارم کی سہولت کاری کے ساتھ صارفین کے تحفظ اور حقوق کو یقینی بنائےگی۔

پیکا ایکٹ کی خلاف ورزی پر اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کےخلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا سے غیرقانونی مواد ہٹانےکی ہدایت جاری کرنے کی مجاز ہوگی،سوشل میڈیا پر غیر قانونی سرگرمیوں کا متاثرہ فرد 24 گھنٹے میں اتھارٹی کو درخواست دینےکا پابند ہوگا۔

ترمیمی بل کےمطابق اتھارٹی کل 9 اراکین پر مشتمل ہوگی،سیکریٹری داخلہ، چیئرمین پی ٹی اے، چیئرمین پیمرا ایکس آفیشو اراکین ہوں گے، بیچلرز ڈگری ہولڈر اور متعلقہ فیلڈ میں کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنےوالا شخص اتھارٹی کا چیئرمین تعینات کیا جاسکے گا، چیئرمین اور 5 اراکین کی تعیناتی پانچ سالہ مدت کےلیے کی جائےگی۔

حکومت نے اتھارٹی میں صحافیوں کو نمائندگی دینےکا بھی فیصلہ کیاہے، ایکس آفیشو اراکین کے علاوہ دیگر 5 اراکین میں 10 سالہ تجربہ رکھنےوالا صحافی، سافٹ وئیر انجینئر بھی شامل ہوں گے جب کہ ایک وکیل،سوشل میڈیا پروفیشنل نجی شعبے سے آئی ٹی ایکسپرٹ بھی شامل ہوگا۔

عمران خان کی بیٹو ں سےبات کرانے کا کیس، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ عدالت طلب

ترمیمی ایکٹ پر عملدرآمد کےلیے وفاقی حکومت سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل قائم کرے گی، ٹربیونل کا چیئرمین ہائی کورٹ کا سابق جج ہوگا،صحافی،سافٹ ویئر انجینئر بھی ٹربیونل کا حصہ ہوں گے۔

Back to top button