ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ وڑ گیا، عمران کے بچوں نے امریکی مدد مانگ لی

تحریک انصاف کا قبضہ لینے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف عمران خان کی کپتی ہمشیرہ علیمہ خان کے اعلان کے مطابق انکے دونوں بھتیجوں سلیمان خان اور قاسم خان نے امریکہ پہنچ کر اپنے والد کی رہائی کے لیے لابنگ شروع کر دی ہے۔ علیمہ نے دعوی کیا تھا کہ عمران کے دونوں بیٹے 5 اگست سے شروع ہونے والی حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آنے سے پہلے امریکہ جائیں گے تاکہ اپنے والد کی رہائی کا راستہ ہموار کر سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران کے دونوں بیٹے رہائی کے لیے اسی امریکہ سے مدد مانگ رہے ہیں جس پر انکے والد نے اقتدار سے بے دخلی کے بعد سائفر کی سازش کا الزام لگایا تھا اور ایبسلوٹلی ناٹ کا نعرہ بلند کیا تھا۔
سلیمان خان اور قاسم خان نے امریکہ پہنچتے ہی سابق امریکی انٹیلیجنس چیف اور صدر ٹرمپ کے ایڈوائزر رچرڈ گرینل سے ملاقات کی ہے۔ رچرڈ نے ایکس پر عمران خان کے بیٹوں کے ساتھ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کیلیفورنیا میں خوش آمدید میرے دوستو، آج آپ لوگوں کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ آپ کو مضبوط رہنا ہوگا۔ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ سیاسی انتقامی کارروائیوں سے تنگ آ چکے ہیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ’فری عمران خان‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
سلیمان خان اور قاسم خان کی امریکہ آمد اور سابق امریکی انٹیلیجنس چیف رچرڈ گرینل سے ملاقات نہ صرف خبروں اور سوشل میڈیا کی زینت بنی بلکہ سیاسی تجزیوں اور تبصروں کا نیا موضوع بھی بن چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کی سیاسی جنگ اب صرف پاکستانی عدالتوں اور سڑکوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کے بیٹے عالمی سطح پر اس جنگ کو نئی جہت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان کے بیٹوں کا یہ قدم پی ٹی آئی کے سیاسی بیانیے کی تبدیلی کا مظہر ہے تاہم اس حکمت عملی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عمران خان جس امریکہ کو اپنی اقتدار سے بے دخلی کا مرکزی کردار قرار دیتے رہے، آج ان کے بیٹے اسی امریکہ سے والد کی رہائی کی امید لگا بیٹھے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے بیٹوں کی امریکی رہنماؤں سے ملاقات ایک واضح پالیسی شفٹ ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ قدم جذباتی دکھائی دیتا ہے، لیکن درحقیقت یہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی میں اہم موڑ ہے۔ عمران خان اب خود کو بین الاقوامی مظلوم سیاسی رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔” مبصرین کے بقول عمران خان کے بیٹوں کی "یہ لابنگ وقتی فائدے تو دے سکتی ہے، لیکن اس سے عمران خان کا ‘ایبسلوٹلی ناٹ’ والا مؤقف متنازع ہو گیا ہے۔ تاہم یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ خود اپنے بیانیے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں یا یہ کام ان کے قریبی رشتہ داروں کے ذریعے دانستہ کرایا جا رہا ہے؟ناقدین کے مطابق”امریکہ میں رچرڈ گرینل جیسے افراد سے ملاقاتوں سے وقتی تشہیر تو ملتی ہے، لیکن پاکستان کے مقابلے میں امریکی حکام کی فیصلہ کن حمایت حاصل کرنا ایک الگ بات ہے کیونکہ امریکہ کے ریاستی مفادات افراد پر نہیں، پالیسی پر مبنی ہوتے ہیں۔” تجزیہ نگار سلمان غنی نے اس صورتحال کو سیاسی مجبوری قرار دیا اور کہا:”جب ملکی سیاسی و عدالتی نظام بند راستے دکھائے تو بین الاقوامی دروازے کھٹکھٹانا فطری ردعمل ہوتا ہے۔ عمران خان کے بیٹے اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے نظر آتے ہیں۔”
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کی رچرڈ گرینل سے ملاقات نے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچا دی،
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے حامی نے اسے ایک “عظیم پیش رفت” قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین نے اسے منافقت اور پالیسی تضاد سے تعبیر کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے مخالفین عمران خان کے امریکہ بارے ماضی کے بیانات سئیر کر کے پی ٹی آئی قیادت کو ہدف تنقید بناتے دکھائی دئیے وہیں دوسری جانب اس ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے کئی رہنما اور حامی صارفین رچرڈ گرینل کا شکریہ ادا کرتے اور عمران خان کی رہائی کا مطالبہ نظر آئے۔ پی ٹی آئی کی ایک حامی صارف نور ککر نے اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قاسم اور سلیمان کی رچرڈ گرینل سے ملاقات کے بعد پاکستانی حکومت میں ہلچل تو ہو گی۔
صحافی عمران خان نے کہا کہ رچرڈ گرینل کی ٹویٹ کا سادہ مطلب ہے ’اور بھی غم ہیں زمانے میں‘۔
محمد ظفیر نے کہا کہ یہ پہلا پڑاؤ ہے، اب آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
خورشید عالم خان نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے قاسم سلیمان امریکہ میں موجود ہیں، اب بہت جلد وہ پاکستان کا رخ کریں گے۔
جمیل فاروقی کا کہنا تھا کہ جو کام پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نہ کر پائی وہ قاسم خان اور سلیمان خان نے پیچھے ہٹے بغیر کر ڈالا۔ سچ کہتے ہیں خون خون ہوتا ہے۔
ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ہمیں اب عمران خان کے بیٹو کی ٹرمپ سے ملاقات کا انتظار ہے۔
واضح رہے کہ عمران خان نے 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے جس پر پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے۔ جبکہ دوسری جانب عمران خان کے بیٹوں کی احتجاجی تحریک میں شمولیت پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان آ کر پی ٹی آئی کی تحریک میں حصہ لیا تو وہ گرفتار ہوں گے اور پھر برطانیہ کی ایمبیسی ہی انہیں بازیاب کرائے گی۔ رانا ثنااللہ کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے بیٹے اگر پاکستان آئیں گے تو حکومت انہیں پوری سکیورٹی دے گی، تاہم اگر وہ پاکستان آ کر عوام کو اکساتے اور اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں تو انہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں حصہ لینا ان کا حق ہے ، لیکن اگر وہ والد کی سیاست کے وارث بننا چاہتے ہیں تو پھر گرفتاریاں بھی دیں۔ رانا ثناء اللہ کے بیان پر عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کسی جمہوریت یا فعال ریاست میں نہیں ہوتا۔ یہ سیاست نہیں ذاتی انتقام ہے۔
