مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ ڈائیلاگ میں ہے : شاہ محمود قریشی

 

 

 

وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سیاسی اور قومی مسائل کا حل تصادم نہیں بلکہ ڈائیلاگ میں ہے،تاریخ گواہ ہے کہ مزاحمت کے بعد بالآخر مفاہمت ہی ہوتی ہے،ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نکلنے کےلیے سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیشی کےبعد کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں مذاکرات سے متعلق ایک سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ میں پی ٹی آئی کا وائس چیئرمین ہوں،پارٹی پالیسی سےنہیں ہٹ سکتا لیکن یہ سوچنا ہوگاکہ آخر اس کا حل کیا ہے،مزاحمت کےبعد بھی تو مفاہمت ہی ہوتی ہے،گفت و شنید سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے۔

وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہاکہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے ہم تو جیلوں میں پڑیں ہیں،ہمارےپاس انفارمیشن کم ہے تاہم محمود خان اچکزئی بہتر فیصلہ کرسکتےہیں کہ کیا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت ہی وہ ذریعہ ہے جس سے سیاسی کشیدگی کم اور جمہوری عمل مضبوط ہو سکتا ہے۔

مرکزی رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی بہت مدد کی ہے،ہمارا افغانستان سے جائز مطالبہ ہےکہ ان کی سر زمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان کی خوش حالی کا راستہ پاکستان سے ہے، افغانستان اگر استحکام چاہتا ہےتو اسے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا ہوں گے، ہم امن چاہتے ہیں افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف ہمارا ساتھ دینا چاہیے۔

عمران خان کا طبی معائنہ، پمز ڈاکٹرزٹیم کی اڈیالہ جیل آمد

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران کے بارڈر پر فی الحال صورت حال کنٹرول میں ہے، ہم نےبھارت کو جنگ میں ہرایا، اللہ نے ہمیں عزت دی لیکن ابھی تک بھارت سے خطرہ ٹلا نہیں ہے۔

 

 

Back to top button