دو لڑکیوں کا قاتل جج کا بیٹا بھی بڑا ہو کر جج ہی بنے گا

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ حال ہی میں دو سکوٹی سوار بچیوں کو اپنی لینڈ کروزر سے کچلنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف کا بیٹا ابوذر بھی بڑا ہو کر یقیناً جج ہی بنے گا۔ انکے مطابق جسٹس آصف نے اپنے عہدے اور دولت سے اپنے قاتل بیٹے کے لیے جس سرعت سے انصاف خریدا ہے، اس سے گمان ہوتا ہے کہ ان کا بیٹا بھی بڑا ہو کر جج ہی بنے گا کیونکہ طاقت کے بل پر سستے داموں انصاف کو خریدنے کا نسخہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو چکا ہے۔

 

یاد رہے کہ جج موصوف نے مرنے والی دونوں لڑکیوں کے ورثا پر دباؤ ڈال کر راضی نامہ کر لیا جسکے بعد تھانے کی حوالات میں بند ہونے کے باوجود عیاشیاں کرنے والا جج کا بیٹا پانچ روز بعد ہی رہا ہو کر گھر چلا گیا تاکہ اب کسی اور ماں کی گود اجاڑ سکے۔ عمار مسعود اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ نہ تو سیف سٹی اسلام آباد نے جج کے بیٹے کی جانب سے دو سکوٹی سوار بچیوں کو کچلنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج برآمد کی، نہ کسی چشم دید گواہ نے کوئی گواہی دی، نہ دونوں بچیوں کے ورثا نے کوئی احتجاج کیا، نہ ٹریفک پولیس نے کوئی کارروائی کی، نہ آج تک پتہ چلا کہ گاڑی میں کون کون تھا، نہ گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصدیق ہوئی، نہ ہی وکلاء نے احتجاج کیا، نہ معزز ججوں نے ایک دوسرے کو خط لکھا، نہ سول سوسائٹی نے موم بتیاں جلائیں، نہ وزیر اعظم نے دکھی خاندان کی داد رسی کی۔ اور صرف پانچ دن میں انصاف ہو گیا۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ لوگوں کو انصاف بانٹنے والے جسٹس آصف کی جانب سے کچلی جانے والی بچیوں کے خاندان کی زبان پر قفل لگا دیے گئے اور انصاف کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ کیس عدالت سے اسی تیز رفتاری سے ختم ہوا جس تیز رفتاری سے انصاف کا قتل کرنے والے جج کے بیٹے نے سکوٹی پر بیٹھی بچیوں کو کچلا تھا۔ انصاف کے حصول کے لیے اس برق رفتاری کا مظاہرہ اس عدلیہ کی جانب سے کیا گیا جو کئی نسلوں تک زیر التوا کیسز کا فیصلہ نہیں کرتی۔ یہ تیز رفتار انصاف اس عدلیہ کی جانب سے کیا گیا جس کا دنیا میں انصاف کی فراہمی میں 140واں نمبر ہے۔ یہ کارنامہ اس عدلیہ کی جانب سے کیا گیا جہاں دہائیوں تک گواہوں کی پیشی نہیں لگتی، جہاں سائل انصاف کی تلاش میں عمریں گزار دیتے ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔ اس عدلیہ کی جانب سے ایسا کیس صرف پانچ دن میں نپٹانا ایسا کارنامہ ہے جو شاید اس وقت تک نہ دہرایا جائے جب تک کسی اور جج کا بچہ کسی اور بڑی گاڑی کی زوردار ٹکر سے کسی اور غریب کی بچی کو قتل نہیں کرتا۔

 

عمار مسعود کے بقول سارا زمانہ ششدر ہے کہ یہ کیسا کیس تھا جو صرف پانچ دن میں تمام ہو گیا۔ حیرت ان وکیلوں پر ہے جو ہر وقت احتجاج کو تیار رہتے ہیں، جنکی مرضی سے عدالتیں چلتی ہیں، جو سب سے زیادہ انصاف کا نعرہ لگاتے ہیں، جو اپنے پریشر سے حکومتوں کو زیرِ دام کرتے ہیں، جن کی بارز کی طاقت سے بڑے بڑے جج گھبراتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ سارے وکیل لیڈر اور وکلا تنظیمیں اس ناانصافی پر کیوں خاموش ہو گئیں؟ ان کا جذبۂ جہاد کہاں چلا گیا؟ ان کی انصاف کی طلب کہاں مر گئی؟ یہاں سوال کرنا بنتا ہے کہ اگر جج کے بیٹے نے کسی وکیل کی بیٹی کو کچلا ہوتا تو کیا وہ تب بھی ایسی ہی مجرمانہ خاموشی اختیار کرتے؟

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ وہ بڑے بڑے جج جو اپنے ذاتی مفادات اور عہدوں کی خاطر سرعام ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں، جن کی طاقت اور دہشت سے ٹی وی پر ٹکرز چلتے ہیں، جن کے فیصلوں سے حکومتیں الٹتی ہیں، جن کے خوف سے حکومتیں تھر تھر کانپتی ہیں، وہ سبھی اپنے مجرم ساتھی کو بچانے کی خاطر چپ ہو گئے۔ نہ کسی نے کوئی سوو موٹو لیا، نہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا، نہ فل کورٹ کو طلب کرنے کی درخواست آئی، نہ کوئی خط میڈیا میں لیک ہوا، نہ انصاف کے ترازو میں کوئی جنبش ہوئی۔ سب اپنے ساتھی کے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے خاموش ہو گئے۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ ایک لمحے کو سوچیں، جسٹس آصف اتنی بڑی ناانصافی کا مرکزی کردار ہونے کے باوجود اب بھی انصاف کی مسند پر براجمان ہیں۔ سائل اب بھی انصاف کی توقع لے کر ان کی عدالت میں آئیں گے۔ میزانِ عدل بھی وہیں پڑا ہوگا۔ قانون کی کتاب بھی وہیں کہیں رکھی ہو گی۔ قرآنِ کریم کا نسخہ بھی گواہی کے لیے موجود ہوگا۔ چوبدار بلند آواز میں سائلین کو پکارے گا۔ پولیس معزز جج کے حکم پر لوگوں کو گرفتار یا رہا کرے گی لیکن انصاف کی مسند پر وہ شخص بیٹھا ہوگا جس نے اپنے ادارے کے نام کو بٹہ لگایا، انصاف کا تماشا بنایا اور دو بچیوں کے قاتل اپنے بیٹے کو صاف بچا لیا۔ نہ کسی جج کو حیا آئی اور نہ ہی کسی جج کی غیرت جاگی۔

 

عمار مسعود کہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس آصف کو چاہیے کہ اپنی عدالت میں رکھی قانون کی کتاب کو آگ لگا دیں، انصاف کے میزان کے دونوں پلڑے زمین پر گرا دیں، قرآنِ کریم کے نسخے کو طاق پر رکھوا دیں، سائلین میں منادی کرا دیں کہ یہ اس منصف کی عدالت ہے جو خود مجرم ہے، جس کا بیٹا قاتل ہے اور اس قاتل کی پشت پناہی کرنے والا آج آپ کا مقدمہ سن کر انصاف دے گا۔ سائلین خود بتائیں کہ انہیں کون سا انصاف درکار ہے: جج آصف کے بیٹے ابوذر والا یا سکوٹی پر بیٹھی دو غریب بچیوں والا؟ کہا جاتا ہے کہ جس بڑی گاڑی نے سکوٹی والی بچیوں کو کچلا اس کی نمبر پلیٹ بھی جعلی تھی۔

عمران کے خلاف غداری کیس: تاریخ خود کو کیسے دہرائے گی؟

عمار مسعود کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب ہم مجرم اس کو کہتے تھے جس نے جرم کیا ہوتا تھا، مگر جسٹس آصف نے اس عدلیہ کے منہ پر وہ کالک ملی ہے کہ اب مجرم اور منصف میں تخصیص ختم ہو گئی ہے۔ اب دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہو گئے ہیں۔ اب دونوں ایک ہی گھر میں پرورش پاتے ہیں۔ ایک اپنے بچے کو 9 سال کی عمر سے گاڑی چلانے کی ترغیب دیتا ہے اور اسی تربیت کا فائدہ اٹھا کر وہ بچہ 16 سال کی عمر میں گاڑی تلے کچل کر دو بچیوں کو قتل کر دیتا ہے۔ اسی گھر میں ایک منصف ہے جو اس سارے جرم پر پردہ ڈالتا ہے۔ پورا ادارہ اس کی پشت پناہی کرتا ہے۔ کہیں سے کوئی احتجاج کی آواز نہیں آتی۔ انصاف کا سارا ادارہ ایک مجرم جج کے حق میں خاموش رہتا ہے۔

Back to top button