ایک سر کٹے شہر کی کہانی، سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کی زبانی

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے روزنامہ جنگ کے لیے ایک استعارتی تحریر قلم بند کی ہے جس کا عنوان "سر کٹا شہر” رکھا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس تحریر کو لاشعوری قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور اسے محض افسانہ سمجھ کر پڑھا جائے۔
آئیے جانتے ہیں سہیل وڑائچ نے کیا لکھا ہے:
یہ خواب تھا یا حقیقت؟ یاد نہیں، یہ دن تھا یا رات؟ خبر نہیں، یہ سچ تھا یا جھوٹ؟ علم نہیں۔ یہ نہ رات تھی، نہ دن تھا، ملگجا اندھیرا تھا۔ میں نے دیکھا کہ چار سو سر کٹے تھے، سارا شہر ہی سر کٹوں کا تھا، ان کے ہاتھ پائوں تو کام کرتے تھے لیکن یہ دیکھنے، سننے اور سوچنے سے عاری تھے۔ سر کٹے شہر کی سب سے اونچی پہاڑی کے مکین کا سر سب سے پہلے کاٹا گیا، حالانکہ اس نے شہر کا نظام تشکیل دینے اور شہر کے نئے حاکموں کو لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن جب فیصلہ ہو گیا کہ اب کوئی سر اٹھا کر نہیں چلے گا تو پھر اس کا سر کیسے سلامت رہ سکتا تھا ۔وہ اب بھی سب سے اونچی جگہ ہی کا مکین ہے لیکن اب وہ سر بریدہ ہے، اس کے جسم کا کیا، وہ تو کسی بھی وقت ایک ہی ضرب سے ٹکرے ٹکرے کیا جا سکتا ہے۔
میں نیم وا آنکھوں سے کیا دیکھتا ہوں کہ شہر کی ٹریفک رواں دواں ہے، عجیب فسوں ہے کہ گاڑیاں چلانے والوں کے سر بھی کٹے ہوئے ہیں اور پیدل چلنے والوں کے سر بھی دھڑوں سے غائب ہیں۔ بس سر کٹے جسم ہیں جو چلے جا رہے ہیں، میں سوچتا ہوں کہ دماغ کے بغیر اس شہر کا نظام کیسے چل رہا ہے؟ شہر کی اسمبلی دیکھتا ہوں تو وہاں بھی سب سر کٹے ہیں، ایوان میں تقریریں ہو رہی ہیں، بحث مباحثہ چل رہا ہے، لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں، سب کچھ چل رہا ہے مگر فیصلے نہیں ہو پا رہے۔ ہھر بھی سر کٹے اراکین ا سمبلی خوش پوش ہیں، وہ آوازیں بھی بھر پور نکالتے ہیں لیکن ان سے فیصلے نہیں ہو پا رہے۔ فیصلے کہیں اور سے آتے ہیں، اور سر کٹوں کی جانب سے ان پر عمل ہو جاتا ہے۔
اس سے پہلے کچھ عرصے تک میرا خیال تھا کہ فیصلے شہری کابینہ اور شہری حکومت کرتی ہو گی کیونکہ وہاں تو سر سلامت ہونگے۔ میرا یہی خیال مجھے کابینہ کے اجلاس میں لے گیا، لیکن وہاں بھی سب سر کٹے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے بیٹھے صلاح مشورے کر رہے تھے، شہر کا حاکم بیچوں بیچ بیٹھا مختلف امور پر سر کٹے وزراء کی رائے لے رہا تھا۔ مجھے لگا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں فیصلہ سازی ہوتی یے، چنانچہ انہماک سے کابینہ کی کارروائی دیکھنے لگا۔ تاہم مجھے جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ شہر کی کابینہ غوروخوض تو کرتی ہے۔ مگر فیصلے نہیں کرتی۔ میری سمجھ میں آ گیا کہ کابینہ دوسروں پر فیصلے تھوپتی نہیں بلکہ انتظامیہ خود ہی کابینہ کی سوچ کے مطابق فیصلے کر لیتی ہو گی۔ میں نے خواب ہی خواب میں حکومتی ایوانوں کے چکر لگائے، دفتروں میں جھانکا، لیکن ہر طرف سر کٹے بیٹھے ہوئے تھے اور سب کہیں اور سے فیصلوں کے انتظار میں تھے کیونکہ سر کٹوں کو علم تھا کہ انہوں نے فیصلے نہیں کرنے صرف ان پر عمل کرنا ہے۔ گویا سر کٹے صرف حکم کے غلام ہیں اور اس شہر میں علم، شعور اور آگہی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔
شہر کی پہاڑی پر واقع اونچی جگہ پر بیٹھا شخص شاداں و فرحاں تھا کہ اس شہر کو بسانے اور نیا نظام لانے میں اس کا اہم کردار تھا، لیکن وہ سر کٹے شہر کے اصولوں سے نا آشنا نکلا۔ سرکٹے شہر میں ایک اصول سب سے زیادہ اہم ہے جس کی خلاف ورزی ریڈ لائن ہے۔ اصول یہ ہے کہ یہاں پر رہنے والے سر کٹوں کو اپنا پیٹ بڑھانے کی تو مکمل آزادی ہے لیکن جو کوئی ناخن بڑھائے گا، اس کیلئے کوئی معافی نہیں ہو گی! خوف یہ یے کہ جب ناخن بڑھیں گے تو یہ کہیں نہ کہیں لگیں گے بھی!
شاید اونچی پہاڑی کا مکین یہ بات نہیں سمجھ پایا تھا اور اس نے ناخن بڑھا لیے تھے، لہازا اب اسکے بولنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کا اپنا عملہ بھی بے بس ہو چکا یے کیونکہ سب کے سر کاٹ لئے گئے ہیں۔ اونچی جگہ کا نظام چلانے کے لیے وہاں ایک مکمل سر والا لگا دیا گیا ہے چنانچہ اب پہاڑی کا نظام سر والے کے بغیر حرکت نہیں کرتا۔ ماضی میں جب اونچی جگہ کے مکین کو اپنے ناخن نہ بڑھانے کی پالیسی کا علم نہیں تھا تو اس نے دیوار والے ملک کو واضح طور پر لکھ دیا تھا کہ ہمیں سفید ہاتھی نہیں بننا، بلکہ آپ کے ساتھ چلنا ہے۔ تب اونچی جگہ والے کا سر سلامت تھا لیکن اس پیغام کی ہڈی گلے میں پھنس گئی، پیغام رک گیا اور ناخن چیک کرنے کا حکم آ گیا۔
پھر یہ کہا جانے لگا لگا کہ پہاڑی کے مکین کے نظام الاوقات درست نہیں، اسکی راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں، لہٰذا پہلے اسکے ناخن کاٹے گئے اور پھر اسے بھی سر کٹا بنا دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود یہ سر کٹا برداشت نہیں ہو پا رہا۔ سلامت سر والے کو خدشہ ہے کل کو اس کے ناخن دوبارہ نہ نکل آئیں۔
سر کٹوں کی اس شہری حکومت کا دوسرا سربراہ ایک تجربہ کار اور فرمانبردار سر کٹا ہے۔ سر نہ ہونے کے باوجود وہ تعظیم کرتے ہوئے پورا جسم جھکا دیتا ہے، وہ اتنا سعادت مند ہے کہ اس نے اپنے ناخن جڑوں سے ہی اُکھڑوا دئیے ہیں تاکہ نہ وہ بڑھیں اور نہ ہی گلے شکوے پیدا ہوں۔ لیکن اس سب کے باوجود سر کٹی شہری حکومت کے خلاف بھی چارج شیٹ تیار ہے، الزام ہے کہ یہ سر کٹی حکومت سر کٹے عوام کو اس نظام کی برکات اور خوبیوں کے بارے میں آگاہ کرنے سے قاصر ہے۔ ’’سلامت سر‘‘ والوں کو توقع ہے کہ وہ نہ تو اپنے سر کٹے ہونے کا کسی کو پتہ چلنے دے اور نہ ہی ناخنوں والا معاملہ کسی کے علم میں لائے۔ شہری حکومت سے امید کی جارہی ہےکہ وہ سب سر کٹوں کو اپنی صفوں میں لائے، ان سے صاحب سلامت کرائے اور یوں شہر می ںچین کی بانسری بجتی سنائی دے۔ تاہم ان سر کٹوں میں عجیب بھونڈی روایت ہےکہ سربریدہ ہونے کے باوجود یہ ایڑیاں اٹھا کر اعلان کرتے ہیں کہ ہم باغی ہیں۔ سلامت سر والے ان سب کے سر تو کاٹ چکے ہیں لیکن اب ایڑی کے پیچھے پڑے ہیں کیونکہ انہیں شک یے کہ یہ بھونڈے فسادی ایڑی کے زور پر انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ دراصل ایڑی کا زور لگانے سے آپ نمایاں ہو جاتے چنانچہ سر کٹے یہ سوچتے ہیں کہ اگر ایڑیاں سلامت رہیں تو وہ کسی بھی وقت بغاوت کی نئی کوشش کر سکتے ہیں۔
میں نے خوابیدہ آنکھوں سے دیکھا تو یہ شہر مجھے ابن زیاد کا کوفہ لگا۔ دراصل ابن زیاد نے کوفے کے لوگوں کے سروں کے پکنے کی بات کی تھی اور یوں کوفہ سر ہو گیا تھا، لیکن کوفہ میں سر کٹے نہیں بلکہ سر جھکے ہوتے تھے، سر کٹے اتنے بے وقوف ہیں کہ نہ انہیں سر کٹانے سے پہلے عقل تھی اور نہ اب عقل آئی ہے۔ سرکٹے بے عقلوں اور نادانوں کا وہ ٹولہ ہیں جنکا خیال ہے کہ جب ان کے ناخن پھر سے اُگ آئیں گے تب سب کچھ بدل جائے گا۔ مگر انہیں سمجھنا چاہئے کہ ناخن تو بڑھ سکتے ہیں لیکن سر دھڑ سے الگ ہو جائے تو دوبارہ نہیں جڑا کرتا۔ چنانچہ سر کٹوں کو پہلے اکٹھے رہنے کا اجتماعی فیصلہ کرنے کا ہنر پیدا کرنا ہوگا۔ شہر کی تاریخ بتاتی ہے کہ مصالحت سے نہ رہنے والوں کے سر کٹتے کر رہے ہیں اور کٹتے رہیں گے ہیں کیونکہ سر صرف ان کے سلامت رہتے ہیں جو عقل کا استعمال کرتے ہیں۔
خواب جاری تھا کہ اچانک دیکھتا ہوں کہ میرا سر بھی کٹ چکا ہے اور میں بھی سر کٹا بن چکا ہوں۔ دوسرے سرکٹوں کی طرح میری گردن سے بھی خون کی ایک بوند تک نہیں ٹپک رہی کیونکہ رگوں میں خون ہو گا تو بہے گا۔ سرکٹوں کی طرح میری عقل بھی کہیں جا چکی ہے۔ میں بھی نہ تو سن سکتا ہوں، نہ دیکھ سکتا ہوں اور نہ ہی سونگھ سکتا ہوں۔ میرے بازو تو سلامت ہیں لیکن شل ہو چکے ہیں۔ میرے ناخن تو موجود ہیں لیکن کچھ کھرچنے کے قابل نہیں ہیں۔ شہر کی سب سے اونچی پہاڑی کا مکین سر کٹا اور شہر کے نشیب میں تیرتا سر کٹا بھی دباو میں ہے، مختصر یہ کہ سبھی سرکٹے دباو میں ہیں، کسی کے ناخنوں میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ کسی کو چرکا بھی لگا سکے۔
خواب کا آخری منظر مجھے تھوڑا تھوڑا یاد ہے۔ پہلے اونچی پہاڑی کا۔مکین گرایا گیا، اور پھر شہر کا تجربہ کار حاکم بھی جاتا رہا۔ سلامت سروں والے ان سر کٹوں کی جگہ لیتے گئے۔ ہھر خواب میں اچانک دُھند چھانے لگی اور بارش برسنے لگی، اس دوران جب بجلی کوندی تو میں نے دیکھا کہ تمام سر کٹوں کے ناخن بڑھ چکے تھے اور ان کی گردنوں سے خون رس رہا تھا، انکی ایڑیاں اٹھی ہوئی تھیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ دائرہ ٹوٹ رہا ہے اور سر کاٹے جانے کے باوجود سلامت سر والے شہر کو چلا نہیں پا رہے۔ ایسے میں پھر سر کٹوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ شہر سروں کا کاٹنے سے نہیں بلکہ سروں کو آزادی دینے سے آباد اور خوشحال ہوتے ہیں۔ اس شہر میں پہلے بھی کئی تجربے ہو چکے ہیں، سارے سر کاٹے جا چکے ہیں اور اب صرف جسم کٹنا باقی ہے، کوئی اس جسم کو ہی بچا لے۔ لیکن اچانک جب میری آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہون کہ سب واہمہ تھا، کیونکہ شہر بھی سلامت تھا اور سر بھی سلامت۔
