لتا منگیشکر سےالگ اپنی پہچان بنانے والی آشابھوسلےکی کہانی

آشا بھوسلے اگرچہ ہمارے درمیان نہیں رہیں، مگر ان کی آواز، ان کی شوخی، اور ان کے سُروں کا جادو ہمیشہ زندہ رہے گا۔ آشا بھوسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں تھیں بلکہ ایک پورا عہد تھیں۔ ایک ایسا عہد جس نے بالی ووڈ میوزک کونہ صرف نئی شناخت دی بلکہ نئی جہت دی اور نئی روح بھی بخشی۔

ستمبر 1933 کو بھارت میں پیدا ہونے والی آشا بھوسلے نے کم عمری میں ہی گلوکاری کا آغاز کر دیاتھا۔ وہ معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کی بہن تھیں، تاہم انہوں نے اپنی محنت اور الگ انداز کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ حقیقت یہ ہے کہ موسیقی سے آشا کا تعلق ان کے پیدا ہوتے ہی قائم ہو گیا تھا۔ ان کے والد دیناناتھ منگیشکر کلاسیکی موسیقی کے سکالر اور مراٹھی تھیٹر کی معزز شخصیت تھے۔ان کے پانچوں بچوں، لتا، مینا، آشا، اوشا اور بیٹے ہریدیناتھ نے بچپن سے ہی اپنے گھر میں موسیقی کو گونجتے سنا۔اپنے بچپن کے دنوں میں لتا اور چھوٹی بہن آشا کبھی ایک دوسرے سے الگ نہ ہوتیں، آشا اپنی بڑی بہن کے پیچھے سائے کی طرح چلتی رہتیں۔لیکن آشا جب صرف نو سال کی تھی تو والد کا سایہ ان کے سر سے ہٹ گیا۔ اپنے والد کی وفات کی وجہ سے منگیشکر خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا۔روزگار کی تلاش میں خاندان سنہ 1945 میں بمبئی چلا گیا۔یہاں 14 سالہ لتا نے پورے خاندان کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی اور فلمی دنیا کے مشکل راستوں پر اپنی جدوجہد شروع کی۔جلد ہی آشا بھی ان کی جدوجہد میں شامل ہو گئیں۔

تاہم آشا بھوسلے کا سفر ایک عام فنکار کا سفر نہیں تھا، بلکہ ایک مسلسل جدوجہد کی داستان تھا۔ وہ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئیں جہاں موسیقی سانسوں میں بسی ہوئی تھی، مگر اسی گھرانے میں ان کے سامنے بڑی بہن لتا منگیشکر کی صورت میں ایک بہت بڑا نام بھی موجود تھا۔ لتا منگیشکر اس وقت بھارتی فلمی موسیقی کی دنیا پر راج کر رہی تھیں، اور ایسے میں اپنی پہچان بنانا کسی بھی فنکار کے لیے ایک مشکل ترین امتحان تھا۔ آشا کو اکثر دوسرے درجے پر رکھا جاتا، وہ شروع میں بڑی بہن کی وجہ سے کبھی بھی بڑے موسیقاروں کی پہلی پسند نہیں تھیں، اور کئی بار تو انہیں نظرانداز کر کے ان کی بہن لتا منگیشکر کو سلیکٹ بھی کر لیاجاتا تھا۔ لیکن یہی محرومی ان کے اندر ایک آگ بن کر جلتی رہی۔ایک ایسی آگ جس نے انہیں آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔

بچپن میں والد کی وفات نے خاندان کو مالی مشکلات میں دھکیل دیا۔ کم عمری میں ہی آشا اور لتا کو فلمی دنیا میں قدم رکھنا پڑا۔ مگر جہاں لتا کو جلد کامیابی ملی، وہیں آشا کو بی گریڈ فلموں اور چھوٹے مواقع سے اپنا سفر شروع کرنا پڑا۔صرف 16 برس کی عمر میں شادی کا فیصلہ، گھر سے علیحدگی، اور ایک غیر مستحکم ازدواجی زندگی، ان سب عوامل نے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنادیا۔ مگر ان تمام مشکلات کے باوجود، آشا نے ہار نہیں مانی۔ وہ گاتی رہیں، سیکھتی رہیں اور آگے بڑھتی رہیں۔

آشا بھوسلے کی زندگی کا اصل موڑ اس وقت آیا جب ان کی ملاقات موسیقار او پی نیر سے ہوئی۔ او پی نیر نے نہ صرف ان کی صلاحیت کو پہچانا بلکہ اسے نکھارنے کا بیڑا بھی اٹھایا۔ فلم “نیا دور” نے آشا کو وہ مقام دیا جس کی وہ برسوں سے منتظر تھیں۔ پہلی بار کسی بڑی فلم کی ہیروئن کے تمام گانے ان کی آواز میں ریکارڈ ہوئے۔ محمد رفیع کے ساتھ ان کی جوڑی نے دھوم مچا دی اور وہ فلمی موسیقی کے منظرنامے پر نمایاں ہو گئیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب آشا بھوسلے “دوسری آواز” سے “مرکزی آواز” بن گئیں۔

ناقدین کے مطابق او پی نئیر اور ایس ڈی برمن کا دور آشا کے لیے ایک سنہری دور تھا ، مگر اس ظاہری چمک کے پسِ پردہ ان کی ذاتی زندگی ایک گہرے اضطراب اور بے چینی سے گزر رہی تھی۔ 1960 میں، آشا کی شادی ختم ہوئی۔ اس ہنگامے کے درمیان، موسیقار او پی نئیر کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت نے فلمی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ چونکہ لتا اور نئیر نے راستے جدا کر لیے تھے، اس لئے آشا بھوسلے کی نئیر سے قربت نے دونوں بہنوں کے درمیان تلخی کو مزید گہرا کر دیا۔ تاہم ان تمام ذاتی اتار چڑھاؤ کے باوجود، پیشہ ورانہ میدان میں یہی دور آشا بھوسلے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔او پی نئیر کے ساتھ اس دور میں آشا بھوسلے نے 60 فلموں میں 324 گانے گائے، یعنی اوسطاً فی فلم پانچ سے زیادہ گانے۔

اس کے بعد آشا بھوسلے کا عروج شروع ہوا ۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں آشا بھوسلے نے موسیقار آر ڈی برمن کے ساتھ مل کر موسیقی میں ایک انقلاب برپا کیا۔ فلم تیسری منزل کے گیتوں نے توانائی، شوخی اور جدت کے امتزاج سے مزین ان کی آواز کا ایک نیا رنگ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آجا آجا میں ہوں پیار تیرا”، “پیا تو اب تو آجا” اور “دم مارو دم” جیسے گیتوں نے آشا کو نوجوان نسل کی دھڑکن بنا دیا۔ ان کی آواز میں ایک ایسی زندگی تھی جو ہر دور کے سننے والوں کو اپنی طرف کھینچتی چلی گئی۔

معروف موسیقار نوشاد علی نے ایک بار کہا تھا کہ لتا کی آواز پاکیزہ ہے جبکہ آشا کی آواز میں “بازاری پن” ہے۔ مگر یہی بات آشا کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔ آشا بھوسلے نے اس “بازاری پن” کو ایک فن میں بدل دیا اور اپنی ایک ایسی پہچان بنائی، جس نے انہیں ہر طرز کے گیت گانے کے قابل بنا دیا۔ جس کے بعد کیبرے، غزل، پاپ، کلاسیکل غرضیکہ کوئی بھی صنف ان کے لیے مشکل نہ رہی۔ آشا بھوسلے نے اپنے کیریئر میں 12 ہزار سے زائد گانے مختلف زبانوں میں گائے، جن میں ہندی، اردو، مراٹھی، بنگالی، پنجابی اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔ ان کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کروانے والی گلوکاراؤں میں کیا جاتا ہے۔آشا نے کلاسیکی، غزل، قوالی، پاپ اور فلمی موسیقی سمیت ہر صنف میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور بڑے بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی گائیکی میں جدت اور ورسٹائل انداز انہیں دیگر گلوکاراؤں سے ممتاز بناتا تھا۔

فلم “امراؤ جان” میں آشا بھوسلے نے اپنی آواز کا ایک بالکل مختلف رخ پیش کیا۔ “دل چیز کیا ہے” اور “ان آنکھوں کی مستی میں” جیسے گیتوں نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف شوخ اور تیز گانوں کی گلوکارہ نہیں بلکہ ایک مکمل فنکارہ ہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ناقدین بھی ان کے سحر میں گرفتار ہو گئے۔ وقت گزرتا رہا، موسیقی بدلتی رہی، نئے گلوکار آتے رہے، مگر آشا بھوسلے کی آواز ہمیشہ تازہ رہی۔ انہوں نے ہر دور کو اپنایا، ہر تبدیلی کو قبول کیا، اور ہر نسل کے ساتھ جڑتی چلی گئیں۔ آشا بھوسلے کے مداحوں کے مطابق ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عظمت صرف ہنر سے نہیں، بلکہ صبر، محنت اور مستقل مزاجی سے حاصل ہوتی ہے۔ آج آشا بھوسلے ہمارے درمیان نہیں رہیں، مگر ان کی آواز کبھی خاموش نہیں ہوگی۔ وہ ہر اُس گیت میں زندہ رہیں گی جو کبھی ریڈیو پر بجے گا، ہر اُس یاد میں جو کسی دھن کے ساتھ وابستہ ہوگی، اور ہر اُس دل میں جو موسیقی سے محبت کرتا ہے۔ آشا بھوسلے چلی گئیں، مگر اپنے پیچھے ایک ایسی دنیا چھوڑ گئیں جو ہمیشہ سُروں سے آباد رہے گی۔

 

Back to top button