جنرل قمر باجوہ کی عمران خان کے خلاف استعفے کی کہانی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور انکے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے درمیان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بطور آئی ایس آئی چیف ہٹانے کے معاملے پر اختلافات پیدا ہو گئے تھے حالانکہ فیض حمید خود بھی کور کمانڈر بننا چاہتے تھے تاکہ آرمی چیف کے عہدے کے لیے اہل ہو سکیں۔ یہ اختلافات اتنی شدت اختیار کر گئے کہ ایک روز جنرل باجوہ نے استعفی دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
جاوید چوہدری اپنی تفصیلی تحریر میں بتاتے ہیں کہ جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ کسی بھی لیفٹیننٹ جنرل کو آرمی چیف بننے کے لیے کم از کم ایک کور کی کمان کرنا ہوتی ہے۔ چنانچہ جب جنرل قمر باجوہ نے فیض حمید کی مرضی سے انہیں آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا کر پشاور کا کور کمانڈر لگانے اور ان کی جگہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تو عمران ان سے شدید ناراض ہو گے۔ جب بات بڑھ گئی تو فیض حمید نے خود عمران کو بتایا کہ آرمی چیف بننے کے لیے ان کا کور کمانڈر تعینات ہونا ناگزیر ہے۔ اگرچہ معاملہ وقتی طور پر حل ہو گیا، لیکن عمران اور باجوہ کے اختلافات کی شدت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔
سینیئر صحافی کے مطابق جنرل فیض حمید نے وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے گرد نہایت مضبوط فیلڈنگ لگا رکھی تھی اور اسی لیے وہ اپنی مرضی کے فیصلے کرتے اور کرواتے تھے۔ نومبر 2021 میں جب ان کی مدت ختم ہونے کا وقت آیا تو عمران انہیں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانے پر تیار نہ تھے۔ جنرل باجوہ نے وزیراعظم کو سمجھایا کہ فوجی روایت کے مطابق اگر کوئی لیفٹیننٹ جنرل ایک سال کور کمانڈ نہ کرے تو وہ آرمی چیف کے عہدے کا اہل ہی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فیض حمید کا آئی ایس آئی میں رہنا ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ جنرل فیض اس صورتحال سے پوری طرح واقف تھے۔ لیکن ان کا دل تھا کہ وہ کور بھی کمانڈ کریں اور ائی ایس ائی کی سربراہی بھی اپنے پاس رکھیں۔ لہذا فیض نے وزیرا عظم کو بریف کیا کہ وہ آرمی چیف کو حکم دیں کہ آئی ایس آئی کو ’’کور‘‘ ڈکلیئر کر دیا جائے یا انہیں موجودہ عہدے کے ساتھ کور کمانڈر کے برابر کا اضافی چارج دے دیا جائے۔
فیض حمید نے عمران خان سے کہا کہ اگر جنرل باجوہ نہ مانیں تو آپ انہیں بتائیں کہ پارلیمنٹ سے قانون میں تبدیلی کروائی جا سکتی ہے۔ فیض نے عمران سے مزید کہا کہ اگر باجوہ پھر بھی دو عہدے دینے سے انکار کریں اگر تو آپ انہیں ان کی اپنی ایکسٹینشن یاد دلائیں کہ جب پارلیمنٹ سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کروا کر آپ کی مدت ملازمت بڑھائی جا سکتی ہے تو ڈی جی آئی ایس آئی کو کور ک۔انڈر کے برابر اختیارات کیوں نہیں دیے جا سکتے؟
جاوید چوہدری کے مطابق، فیض حمید کی اس بریفنگ کے بعد عمران خان اور جنرل باجوا کی ملاقات ہوئی۔ جنرل باجوہ نے وہی دلائل دیے جن کی توقع جنرل فیض کو تھی، جبکہ عمران خان نے وہی جوابات دیے جو انہیں ’’رٹائے‘‘ گئے تھے۔ چنانچہ جنرل باجوا نے فیض حمید کو دو عہدے دینے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں یہ ملاقات تلخ کلامی پر ختم ہوئی اور صورت حال سنگین ہو گئی۔ جاوید چوہدری کے مطابق ماحول اتنا سخت کشیدہ ہو گیا کہ جنرل باجوہ نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو فون کرکے کہا کہ وہ اگلے اب دفتر نہیں آئیں گے، چنانچہ وزیراعظم نئے آرمی چیف کا بندوبست کر لیں۔ یہ صورت حال جنرل فیض حمید کے منصوبے کے برخلاف تھی، کیونکہ اگر جنرل باجوہ نومبر 2021 میں ریٹائر ہو جاتے تو فیض آرمی چیف کی دوڑ سے ہی باہر ہو جاتے۔
جنرل فیض فوراً جنرل باجوہ کے سسر، میجر جنرل (ر) اعجاز امجد کے پاس پہنچے۔ وہاں کچھ ایسے جنرل بھی موجود تھے جنکے کیریئر جنرل باجوہ کے اچانک سبکدوش ہونے سے متاثر ہو سکتے تھے۔ یہ سب مل کر جنرل قمر باجوہ کے گھر پہنچے، سارا دن انہیں مناتے رہے اور آخرکار فیصلہ ہوا کہ جنرل فیض خود وزیراعظم کو راضی کریں گے۔ اگلے روز عمران اور جنرل فیض کی ملاقات ہوئی اور معاملہ وقتی طور پر طے پا گیا۔ فیصلہ ہونے کے بعد جنرل فیض کو کور کمانڈر پشاور اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کر دیا گیا۔ مگر جاوید چوہدری کے مطابق جنرل فیض پشاور میں رہ کر بھی سابق وزیراعظم اور بشریٰ بی بی کے لیے پوری سرگرمی سے کام کرتے رہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے پورے نظام میں اپنی ’’فیلڈنگ‘‘ پہلے سے لگا رکھی تھی۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں میجر عبد الرحمن کو نئے وزیراعظم شہباز شریف کا اے ڈی سی لگایا گیا، جو پہلے جنرل فیض کے سٹاف آفیسر رہ چکے تھے۔ عمران خان انہی کے ذریعے فیض سے رابطہ کرتے تھے، جبکہ میجر عبد الرحمن کے پاس ایک ایسا فون تھا جس میں صرف ایک ہی نمبر موجود تھا اور وہ تھا جنرل فیض کا۔ عبدالرحمن فون آن کرکے جیب میں رکھ لیتا اور دوسری جانب جنرل فیض حمید بہاولپور سے بیٹھ کر وزیراعظم ہاؤس کی گفتگو ریکارڈ کرتا تھا۔ پھر یہی ریکارڈنگ زمان پارک پہنچائی جاتی تھیں، اور انہی گفتگوؤں سے عمران کو حکومتی معاملات، نواز شریف کی حکمت عملی، اور اتحادی جماعتوں کے اندرونی خیالات سے متعلق معلومات ملتی رہیں۔
یہ ریکارڈنگز بعدازاں مختلف ذرائع سے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان تک بھی پہنچتی رہیں۔ ستمبر اور اکتوبر 2022 میں عمران خان نے اپنی ٹیم کے ذریعے ان ریکارڈنگ کا کچھ حصہ سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔ اس کے نتیجے میں میجر عبد الرحمن پکڑے گئے اور معاملہ تفتیش کے ذریعے جنرل فیض حمید تک جا پہنچا۔ اگرچہ وزیراعظم شہباز شریف نے میجر عبد الرحمن اور جنرل فیض دونوں کو تحریری طور پر معاف کر دیا، مگر جاوید چوہدری کے مطابق عمران کی اس حماقت سے پہلی بار فیض حمید اور عمران خان کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی۔
