اڈیالہ جیل میں عمران خان کی فل ٹائم عیاشیوں کی کہانی

حالیہ دنوں اڈیالہ جیل میں قید کاٹ کر رہائی پانے والے معروف مذہبی سکالر محمد علی مرزا نے عمران خان کی جیل میں عیاشیوں کا پول کھول دیا۔ انجینئر محمد علی مرزا عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان فل عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں جیل میں عمران خان کو نہ صرف واک کرنے کیلئے زیادہ جگہ دستیاب ہے بلکہ ورزش کیلئے ایکسرسائز مشین ،ٹی وی ،چارپائی ،میٹرس، کرسی ،میز،اخبار ،کتابیں ،اٹیچ باتھ سمیت ایک مشقتی بھی دیاگیا ہے جو نہ صرف دیسی گھی میں بنے کھانوں سے ان کی تواضع کرتا ہے بلکہ گپ شپ لگا کر انھیں محظوط بھی کرتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے پی ٹی آئی حلقوں کی جانب سے واویلا مچایا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر اڈیالہ جیل میں سختیاں بڑھا دی گئی ہیں۔انھیں نہ صرف انھیں چھوٹے سے کمرے میں قید رکھا جارہا ہے بلکہ ان سے کسی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق عمران خان کے ورزش کرنے کے ساتھ ساتھ 6 سیلز پر مشتمل راہداری میں چہل قدمی پر پابندی لگادی گئی ہےجبکہ ان کے سیل کے اطراف میں بھی کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ تحریک انصاف کے مطابق عمران خان کو مرضی کا کھانے دینے والے مشقتی کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ انہیں عام قیدیوں کا کھانا دیا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی حلقوں کا دعوی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو کھانا دینے والے افراد کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں جبکہ ان کے سیل میں کھانا فراہم کرنے والے افراد کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے جبکہ عمران خان کو بنیادی سہولیات تک بھی مناسب رسائی حاصل نہیں۔ عمرانڈو رہنماؤں کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر نہ صرف پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں بلکہ اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سمیت کسی کو بھی ان سے بات چیت یا ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی جبکہ ان سے اب من پسند کھانا بنوانے کی سہولت بھی واپس لے لی گئی ہے۔
تاہم اب اڈیالہ جیل میں قید کاٹنے والے معروف مذہبی سکالر انجینئر محمد علی مرزا نے پی ٹی آئی قیادت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انجینئر محمد علی مرزا نے بتایا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ان کی رہائش اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کے سیل کے درمیان صرف ایک دیوار کا فاصلہ تھا۔ جیل کے جس حصے میں وہ قید تھے، وہاں مجموعی طور پر تین قیدیوں کے لیے تین چکیاں تھیں۔ ان کے مطابق اسی دیوار کے دوسری جانب عمران خان کو رکھا گیا تھا، جہاں انہیں چھ چکیاں الاٹ تھیں اور ایک مشقتی بھی ان کے ساتھ ہمہ وقت موجود رہتا تھا۔ انجینئر مرزا نے کہا کہ بعض اوقات انہیں عمران خان کی آواز سنائی دیتی تھی، جب وہ اپنے مشقتی سے گفتگو کرتے تھے۔ یہ بات چیت زیادہ تر کرکٹ سے متعلق ہوتی تھی اور سیاسی موضوعات پر وہ گفتگو نہیں کرتے تھے۔
انجینئر محمد علی مرزا کے مطابق عمران خان کو ٹی وی کی سہولت حاصل تھی جبکہ دو اخبارات بھی انہیں فراہم کیے جاتے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کے لیے کچا گوشت آتا تھا جسے ان کا مشقتی پکاتا تھا، اور بعض اوقات انھیں اپنی بیرک میں دیسی گھی میں بنے کھانے کی خوشبو بھی محسوس ہوتی تھی۔ ان کے بقول عمران خان دن میں دو مرتبہ کھانا کھاتے تھے، صبح تقریباً نو بجے ناشتہ کرتے تھے جبکہ سہ پہر تین بجے کھانا کھاتے تھے۔انجینئر محمد علی مرزا کا کہنا تھا کہ 4 نومبر کے بعد انہیں عمران خان کی آواز سنائی دینا بند ہو گئی۔ بعد ازاں جیل کے عملے سے معلومات لینے پر معلوم ہوا کہ انہیں جیل کے ایک اور حصے میں منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں دھوپ کی بہتر سہولت موجود تھی۔
دوسری جانب جیل حکام بھی انجینئر محمد علی مرزا کے دعوؤں کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی جیل مینول کے مطابق فراہم کیا جانے والا کھانابالکل پسند نہیں کرتے۔بانی پی ٹی آئی ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کا منیو خود سیٹ کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کا کھانا الگ کچن میں مشقتی تیار کرتے ہیں۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کو جیل منیو کے تحت فراہم کردہ کھانا بالکل اچھا نہیں لگتا، بانی پی ٹی آئی ناشتے میں فریش جوسز، اور ناریل کھانا پسند کرتے ہیں، بانی پی ٹی آئی دن میں 3 مرتبہ کافی پیتے ہیں جبکہ اُن کے کھانے کو تیار ہونے کے بعد ماہر نیوٹریشنٹس چیک کرتے ہیں۔ ذرائع کےمطابق عمران خان دیسی گھی میں تیار کردہ دیسی مرغ، مٹن اور پنک سالمن مچھلی شوق سے کھاتے ہیں، بانی پی ٹی آئی دیسی مرغ کی یخنی کا بھی استعمال کرتے ہیں، ہر روز بانی پی ٹی آئی کی چوائس پر جیل میں کھانا تیار ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہر خواہش پوری کی جا رہی ہے، تاحال انہیں پر جیل میں کوئی سختی نہیں کی گئی۔
فوج کا ڈنڈا عمران کی مقبولیت توڑنے میں ناکام کیوں؟
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل خبریں زیر گردش تھیں کہ توشہ خانہ میں قید بامشقت کی سزا کے بعد عمران خان کو جیل میں میسر عیاشیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ عمران خان کو قید بامشقت کی سزا کے بعد دیسی گھی سے بنی مرغی، ایکسر سائز سائیکل اور ٹی وی سے محروم ہونا پڑے گا جبکہ عمران خان کو قیدیوں کا لباس پہنانے کے علاوہ برتن دھونے۔ ٹوپیاں سینے یا کھیتی باڑی جیسے کاموں پر لگایا جا سکتا ہے یا مشقتی“ کا رول بھی دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ سہولیات ختم کرنے کی بجائے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی عیاشیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
