عمران کی سیاسی لانچنگ کی کہانی، جنرل شجاع پاشا کی زبانی

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کی زبانی عمران خان کی سیاست میں لانچنگ کی داستان بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پراجیکٹ عمران کا آغاز جنرل اشفاق کیانی کے دور میں ہوا جسے جنرل راحیل شریف نے پروان چڑھایا اور جنرل قمر باجوہ نے اسے حتمی شکل دیتے ہوئے عمران خان کو 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن میں وزیر اعظم بنوا دیا۔

 

جاوید چوہدری اپنے تجزیے میں بتاتے ہیں کہ لیفٹینینٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک دن انہیں بتایا کہ میں نے ایک روز اپنے چیف جنرل کیانی سے کہا کہ‘ ہم نے ابھی تک عمران خان کو سیاست میں ٹرائی نہیں کیا‘ میرا خیال ہے ہمیں اسے بھی چیک کرنا چاہیے۔ جنرل کیانی سے اجازت لینے کے بعد وہ عمران خان سے ان کے زمان پارک والے گھر میں ملے جس کے بعد خان صاحب کی لانچنگ شروع ہو گئی۔ یہ ادارے کا فیصلہ تھا لہٰذا جنرل کیانی کے بعد جنرل راحیل شریف اور پھر جنرل باجوہ اس پر عمل درآمد کرتے رہے یہاں تک کہ عمران خان وزیراعظم بن گئے اور اس کے بعد انہوں نے ملک اور فوج کے ساتھ جو کچھ کیا وہ تاریخ میں درج ہو چکا ہے۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے جنرل باجوہ سے عرض کیا سر عمران خان ایک ایسا گرنیڈ ثابت ہوا جو فوج کے ہاتھوں میں پھٹ گیا۔ جنرل باجوہ یہ سن کر دیر تک ہنستے رہے۔ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ محمد خان جونیجو ہوں‘ عمران خان ہوں‘ نواز شریف ہوں یا آصف زرداری ہوں، ان سب کا یہ المیہ ہے یہ حکمران بننے کے بعد بھول جاتے ہیں کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے تھے؟ انکا کہنا تھا کہ یہ لوگ خود کو حقیقی لیڈر سمجھنے لگتے ہیں چناں چہ فوج کو انہیں بار بار یہ بتانا پڑتا ہے آپ اہم نہیں ہیں بلکہ ہم اہم ہیں۔ آپ مقبولیت اور مینڈیٹ کے جس گھوڑے پر بیٹھے ہیں یہ ہماری مہربانی ہے‘ ہم جس دن اپنا گھوڑا واپس لیں گے آپ اس دن دربدر ہو جائیں گے‘ یہ اگر یہ حقیقت مان جائیں تو ٹھیک ورنہ یہ لوگ ذوالفقار علی بھٹو‘ نواز شریف اور عمران خان کی طرح مقبولیت اور مینڈیٹ کے باوجود سیاسی المیہ بن جاتے ہیں۔

 

سینئیر صحافی کے بقول بھٹو فیملی اور ہائوس آف شریف طویل خواریوں کے بعد اب مقبولیت کے خمار سے باہر آ گئے ہیں۔ عمران خان بچے ہیں‘ یہ ابھی اس عمل سے گزر رہے ہیں‘ وہ بھی 2026ء میں راہ راست پر آ جائیں گے‘انہیں بھی اپنی اوقات سمجھ آ جائے گی۔

 

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ 1994 میں گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی خان نے انہیں بتایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو فارغ کرنے کا آپریشن فیئر پلے انہوں نے بطور آئی ایس آئی چیف بنایا تھا۔ اس میں ان کے ساتھ کور کمانڈر راولپنڈی فیض علی چشتی شامل تھے۔ گورنر جیلانی نے بتایا کہ ہم سب شروع میں بھٹو صاحب کے فین تھے لیکن وزیراعظم بنتے ہی ان کے اندر کا جاگیردار باہر آ گیا اور انہوں نے ایسی فضا قائم کر دی جس میں ملک ڈوبتا چلا گیا‘ دوسرا ایران اور افغانستان میں تبدیلیاں آ رہی تھیں‘ ان سے نبٹنے کے لیے ملک میں ’’مضبوط‘‘ حکومت کی ضرورت تھی چناں چہ پانچ جولائی 1977ء آ گیا اور ملک میں مارشل لاء لگ گیا

رہائی فورس کی تشکیل پر تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی

تاہم گورنر جیلانی کا کہنا ہے کہ میں بھٹو کی پھانسی کے خلاف تھا‘ میرا خیال تھا ہمیں اسے سعودی عرب یا لیبیا کے حوالے کر دینا چاہیے لیکن جنرل ضیاء الحق زندہ بھٹو سے ڈرتے تھے‘ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ ایک بار باہر آ گیا تو ہم سب کو مال روڈ پر پھانسی دے دے گا‘ ذوالفقار علی بھٹو کو 1976ء میں قبل از وقت الیکشن کا مشورہ بھی جنرل جیلانی نے دیا تھا‘ اس نے انہیں کہا تھا کہ آپ مقبولیت کی انتہا پر ہیں‘ لہٰذا فوراً الیکشن کرائیں گے تو ٹو تھرڈ میجارٹی حاصل کرلیں گے‘ بھٹو صاحب اس ٹریپ میں آ گئے لیکن 1976ء کے الیکشن بھٹو صاحب کے لیے کفن ثابت ہوئے‘ وہ الیکشن بھی ٹریپ تھا اور آپریشن فیئرپلے کا حصہ تھا‘ یہ حقیقت ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر بھٹو کو بتائی تھی اور ساتھ یہ وصیت کی تھی کہ آپ اگر سیاست میں زندہ رہنا چاہتی ہیں تو ہمیشہ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں‘ اور کسی کی بات پر یقین نہ کریں خواہ وہ آپ کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہو۔

Back to top button