جماعت اسلامی کے سیاسی زوال کی کہانی، سہیل وڑائچ کی زبانی

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ 1970 کی دہائی میں پاکستان کی اہم ترین سیاسی جماعتوں میں شمار ہونے والی جماعت اسلامی آج غلط پالیسیوں کے باعث بتدریج اپنی طاقت کھونے کے بعد گمنامی میں جاتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک زمانے میں جماعت اسلامی ایک طاقتور سیاسی جماعت تھی جس کے پاس عوامی طاقت تھی جس سے اس کے حریف خوفزدہ رہتے تھے، لیکن آج یہ سمٹ کر ایک چھوٹے سے پریشر گروپ تک محدود ہو چکی ہے۔
انگریزی روزنامہ دی نیوز کے ادارتی صفحہ کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں، جماعتِ اسلامی، پیپلز پارٹی کے بعد دوسری سب سے طاقتور اور منظم سیاسی جماعت تھی۔ 1977 کی بھٹو مخالف تحریک کے نظام مصطفی میں اس نے اہم کردار ادا کیا، جس نے بالآخر جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں ذوالفقار علی بھٹو کی مقبول حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ سچ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی طرح انسانوں کا بھی ایک سفر ہوتا ہے۔وہ تشکیل پاتی ہیں، پھر طاقتور یا کمزور ہوتی ہیں اور کبھی کبھار ختم بھی ہو جاتی ہیں۔ تاہم، جماعتِ اسلامی کا زوال منفرد ہے۔ بہت سے دائیں بازو کے افراد آج بھی جماعت کی خدمات کو سراہتے ہیں، اس کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں، اور اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقم اسے بھیجتے ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک کے بہت سے لوگ جماعت سے بین الاقوامی مسائل پر اتفاق کرتے ہیں، لیکن وہ جماعت کو ووٹ نہیں دیتے۔ وہ دل سے اس جماعت کے ساتھ ہمدرد ہو سکتے ہیں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستانی سیاست میں اب ایک قابل عمل آپشن نہیں رہی۔
سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی کی سماجی خدمات کا شعبہ، الخدمت، دن بدن ترقی کر رہا ہے، لیکن جماعت کا سیاسی اثر و رسوخ گھٹ رہا ہے۔ پاکستانی عوام کو جذباتی، نظریاتی اور حد سے زیادہ مذہبی سمجھا جاتا ہے، لیکن سیاست کے میدان میں وہ بہت عملی اور حقیقت پسند ہیں۔
جماعت کی طلبہ تنظیم، اسلامی جمعیت طلبہ، نے کئی سیاستدان تیار کیے، لیکن وہ اپنی جوانی کی محبت، جماعتِ اسلامی، کے ساتھ خھڑے نہیں رہے بلکہ مقبول قومی جماعتوں میں شامل ہو گئے۔ آج کے دو وفاقی وزراء، چوہدری احسن اقبال اور مصدق ملک، جمعیت خے نمایاں کارکنان تھے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی، اسد قیصر، اعجاز چوہدری، اور میاں محمود الرشید وغیرہ کا تعلق بھی جماعتِ اسلامی سے رہا ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے پرانے ووٹرز بھی اب اپنا ذہن بدل چکے ہیں اور ووٹ مقبول سیاسی جماعتوں کو دیتے ہیں۔ وہ جماعت کی قیادت کی دیانت پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی سماجی خدمات کے لیے چندے دیتے ہیں، لیکن وہ اسے ووٹ نہیں دیتے کیونکہ وہ جماعت کو سیاسی طور پر ناکام سمجھتے ہیں۔ سچ یہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ جماعت اسلامی کے ووٹ بینک میں کمی آئی ہے: 1970 کی دہائی میں 6.0 فیصد ووٹ لینے والی جماعت اسلامی نے 2024 کے انتخابات میں صرف 2.3 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ جماعت اسلامی کا طلبہ ونگ، اسلامی جمعیت طلبہ، ایک زمانے میں جماعت اسلامی کے لیے نئے رہنماؤں کی نرسری رہی ہے۔
جماعت کے تین امیر، سید منور حسن، سراج الحق، اور حافظ نعیم الرحمن، براہ راست جمعیت کے کیڈرز سے آئے۔ جماعت اسلامی کی موجودہ قیادت بھی زیادہ تر جمعیت کے سابق ارکان پر مشتمل ہے۔ موجودہ مرکزی قیادت میں شامل لیاقت بلوچ اور امیر العظیم، دونوں ایک وقت میں جمعیت کے رہنما تھے۔ لیکن بدقسمتی سے، طلبہ سیاست پر طویل عرصے سے عائد پابندی کی وجہ سے یہ نرسری ختم ہوتی جا رہی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے لیے "نئے خون” کی فراہمی رک گئی ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے سے غیرمتعلق ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل کے لیے جماعت اسلامی کی طرف راغب ہونے کی کوئی کشش باقی نہیں رہی۔ دائیں اور بائیں بازو کے نظریاتی تقسیم کے خاتمے نے جماعت اسلامی اور اس کے بائیں بازو کے نظریاتی حریفوں دونوں کو سیاست کے حاشیے پر دھکیل دیا ہے۔ جمعیت نے جماعت کے لیے "نئے خون” کی فراہمی کا کام تو کیا لیکن تعلیمی اداروں میں پرتشدد کاروائیوں کی وجہ سے اہستہ اہستہ اس کی ساکھ بھی صفر ہو گئی۔
جماعت اسلامی کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ اسے "صاف ستھری اور پرامن لوگوں کی جماعت” بنایا جائے جو سیلاب یا زلزلے جیسے کسی بھی قومی بحران میں سب سے آگے ہو۔ تاہم، اسلامی جمعیت طلبہ ایک زیادہ جارحانہ اور پرتشدد گروپ ثابت ہوئی، جس نے جماعت کی پرامن جماعت کی تصویر کو نقصان پہنچایا اور اسے ایک جارحانہ سیاسی و مذہبی دباؤ گروپ میں تبدیل کر دیا۔ تشدد نے جمعیت کو طلبہ سیاست پر اجارہ داری قائم کرنے میں مدد دی، لیکن اس نے جماعت اور جمعیت دونوں کی ساکھ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ جمعیت نے کیمپس اور کالجوں پر تو حکمرانی کی، لیکن تعلیمی اداروں کی حدود سے باہر اسے شہرت کا شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ یونیورسٹیوں میں جمعیت کے اثرات کا سامنا کرنے والے طلبہ عملی زندگی میں اس کے سخت مخالف بن گئے۔
سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ نوے کی دہائی کے اوائل میں جماعت اسلامی نے اپنے حامیوں کو ترغیب دی کہ وہ نجی تعلیم کے میدان میں قدم رکھیں تاکہ نظریاتی گرفت برقرار رکھی جا سکے، لیکن زیادہ تر کامیاب تعلیمی کاروبار کرنے والے حامیوں نے اپنے نظریات بدل لیے۔ مثال کے طور پر، جماعت اسلامی اور جمعیت ہمیشہ مخلوط تعلیم کے سخت مخالف رہی ہیں، لیکن جماعت کے حامی تعلیمی سرمایہ کاروں نے اپنے نجی تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم کو اپنایا کیونکہ یہ ان کے کاروبار کے لیے فائدہ مند تھا۔ عملی دنیا میں کاروباری مفادات نظریے پر غالب آ جاتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کی بدلتی ہوئی پالیسیوں نے اس کے کئی حامیوں کو ناراض کیا ہے۔ جماعت نے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے دونوں راستے آزمائے – خودمختار حکمت عملی اور انتخابی اتحاد۔ جماعت نے زیادہ تر قومی اسمبلی کی نشستیں اتحاد کے ذریعے حاصل کیں۔ اس نے 2002 میں ایم ایم اے کے ذریعے 17 نشستیں جیتیں، 1977 میں پی این اے کے ذریعے 9 نشستیں جیتیں، اور 1988 و 1990 میں آئی جے آئی کے ذریعے 8 نشستیں جیتیں۔
لیکن جب جماعت نے تنہا الیکشن لڑا تو 1970 میں 4 نشستیں لیں، 1993 میں 3 نشستیں جیتیں، 2013 میں 3 نشستیں حاصل کیں، 2018 میں 1 نشست لی اور 2024 میں جماعت کوئی نشست حاصل نہیں کر سکی۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی ڈیٹا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اتحاد کی سیاست جماعت کے لیے زیادہ فائدہ مند رہی، جبکہ خودمختار حکمت عملی نے جماعت کو سخت نقصان پہنچایا۔ جماعت اسلامی کی تنہا پرواز نے اسے سیاسی مرکزی دھارے سے بتدریج باہر نکال پھینکا۔ یہ زوال جماعت کے اندر دوبارہ غور و فکر کا متقاضی ہے، کیونکہ جماعت نے 2024 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 266 میں سے 231 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے، جو اس کی قومی تنظیم کی عکاسی کرتا ہے، لیکن نتیجہ حیران کن تھا – پورے ملک میں ایک بھی نشست نہیں جیتی جا سکی۔ ایسے میں سہیل وڑائج کے خیال میں جماعتِ اسلامی کو اب نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ورنہ اس کی قیادت صرف سماجی اور مذہبی خدمات پر توجہ مرکوز کر لے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
