جعلسازی پر استعفے دینے والے جسٹس اطہر کے سسر کی کہانی

 

 

 

 

 

سپریم کورٹ نے 2 عمراندار ججز کے استعفوں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا رکھی ہے تاہم بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آئین کی بالادستی کا نعرہ لگا کر مستعفی ہونے والے جسٹس اطہر من اللہ کے سسر جسٹس غلام صفدر شاہ نے بھی 45برس قبل جعلسازی اور دھوکہ دہی کے الزامات پر نہ صرف استعفیٰ دے دیا تھا بلکہ ملک سے بھی فرار ہو گئے تھے۔ جسٹس غلام صفدر شاہ نے 16 اکتوبر 1980 کو جعلی تعلیمی سرٹیفکیٹ اور تاریخ پیدائش کے ریکارڈ میں سرکاری قواعد سے ہٹ کر تبدیلی کے الزامات کی وجہ سے اپنا استعفیٰ صدر ضیا الحق کو بھجوا دیا تھا۔ بعد ازاں تحقیقات میں اپنی ڈگری اور تعلیمی اسناد کے جعلی ہونے کے ثبوت سامنے آتے دیکھ کر وہ خفیہ طور پر افغانستان کے راستے لندن فرار ہو گئے اور اپنی بقیہ زندگی وہیں بسر کی۔

 

27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے دو عمرانڈو ججز کے مستعفی ہونے کے غیر معمولی فیصلے پر رائے عامہ منقسم ہے۔ کچھ حلقے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو اصول پسندی، ارفع مقاصد کے لیے قربانی اور نقصان دہ قانون سازی پر احتجاج جیسے تصورات کی عینک سے دیکھتے ہیں جبکہ دوسری جانب جوڈیشل ایکٹیوازم اور سیاسی معاملات میں حد سے بڑھی ہوئی عدالتی مداخلت کے مخالف سیاسی اور صحافتی حلقے عمراندار ججز کے استعفوں کے فیصلوں کو ضمیر فروشی اور سیاسی چال قرار دیتے ہیں۔

تاہم ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ کے کسی حاضر سروس جج نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہوا۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ سے پہلے بھی عدالت عظمیٰ کے کئی ججز مختلف وجوہات کی بنیاد پر اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ ماضی میں ججوں کی سپریم کورٹ سے رخصتی کی وجوہات میں پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانا یا سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کے نتیجے میں اخلاقی اور قانونی بنیادوں پر استعفیٰ دینا شامل ہیں۔

پاکستان کی سب سے بڑی عدلیہ سے اکٹھے دو ججوں کی رخصتی کا واقعہ اس سے قبل 31 جولائی 2009 کو پی سی او ججوں کے خلاف سپریم کورٹ کے 14 رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد دیکھنے میں آیا تھا۔تین نومبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف کی طرف سے لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو پی سی او کے تحت نیا حلف لینے کا کہا گیا۔بعد میں افتخار محمد چوہدری اور ساتھی ججوں کی بحالی کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے 60 کے قریب ججوں کے حلف کو غیر آئینی قرار دیا گیا جن میں سپریم کورٹ کے 10 ججز بھی شامل تھے۔31 جولائی 2009 کو سپریم کورٹ کے 14 رکنی بینچ کے اس فیصلے کے بعد عدالت عظمیٰ کے دو ججوں فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس جاوید بٹر نے سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جبکہ بقیہ آٹھ ججوں کے خلاف سپریم کورٹ کے ایک اور بینچ میں توہینِ عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ اس کیس کے طویل مدت تک التوا کے باعث پی سی او ججز کی ریٹائرمنٹ کا وقت آگیا۔ بعد کی سماعتوں میں سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پی سی او ججز نے کورٹ سے معافی مانگ لی تھی۔

ماضی قریب میں عدالتی فیصلے کی وجہ سے سپریم کورٹ کو الوداع کہنے کی دوسری مثال جسٹس اقبال حمید الرحمان کی ہے جو آج کل وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس ہیں۔ انھوں نے اکتوبر 2016 میں سپریم کورٹ کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کی گئی انتظامی عملے کی تقرریوں کو غیر قانونی قرار دینے کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے باوجود کہ عدالتی حکم نامے میں ان کا نام شامل نہیں تھا۔  انھیں اٹھارہویں ترمیم کے بعد قائم ہونے والی اسلام آباد ہائی کورٹ کا پہلا چیف جسٹس بنایا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ان کے دور میں ہونی والی تقرریوں کی شفافیت کا تنازع اُٹھ کھڑا ہوا اور معاملہ سپریم کورٹ چلا گیا۔ تقرریوں بارے عدالتی فیصلے کے بعد انھوں نے اخلاقی بنیاد پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ بھی اپنے ساتھی ججوں کے فیصلے کی وجہ سے چیف جسٹس کے منصب سے محروم ہو گئے تھے۔ 1996 میں جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بینچ نے چیف جسٹس بننے کی اہلیت کے بارے میں ایک کیس کا فیصلہ دیا تھا جو الجہاد ٹرسٹ کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایک برس بعد سجاد علی شاہ نے نواز شریف حکومت کی جانب سے آئین میں کی گئی تیرھویں ترمیم معطل کردی تھی۔ جس سے عدالتی تنازع اُٹھ کھڑا ہوا۔ اسی دوران الجہاد ٹرسٹ کیس کو بنیاد بنا کر سپریم کورٹ کے بینچ نے سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

اسی طرح سال 2024 کے آغاز پر سپریم کورٹ کے ایک اور سینیئر جج جسٹس اعجاز الاحسن بھی مستعفی ہو گئے تھے۔ تاہم انھوں نے جسٹس منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ کے برعکس اپنے استعفے میں وجوہات کا ذکر کسی قسم کا ذکر کرنے کی بجائے محض یہ الفاظ لکھے تھے کہ وہ سپریم کورٹ کے جج کے طور پہ کام نہیں کر سکتے۔

جسٹس اعجاز سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن کی حیثیت سے اپنے ساتھی جج مظاہر اکبر نقوی کے خلاف کرپشن کی شکایات کی سماعت کے فیصلے سے مطمئن نہیں تھے۔ انھوں نے کونسل کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔

چند دنوں بعد سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن کے چارجز کا سامنا کرنے والے جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا مگر مستعفی ہونے سے ان کی گلو خلاصی نہیں ہو سکی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے استعفے کے باوجود ان کے خلاف بدعنوانی کی 9 شکایات پر کارروائی جاری رکھی تھی اور 20 مارچ 2024 کو انہیں برطرف کر دیا تھا۔ مظاہر اکبر نقوی سپریم جوڈیشل کونسل کے ہاتھوں برطرف ہونے والے سپریم کورٹ کے واحد جج ہیں۔

پاکستان میں الگ آئینی عدالتوں کے تصور کے حامی جسٹس دراب پٹیل نے 1981 میں ضیا الحق کے نافذ کردہ پی سی او کے تحت نیا حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ حالانکہ جسٹس دراب پٹیل اگر چاہتے تو حلف اٹھا کر چیف جسٹس بن سکتے تھے۔ اس صورت میں وہ آٹھ برس تک اس عہدے پر فائز رہ سکتے تھے مگر انہوں نے اصول پسندی اور آئین سے وفاداری کا مظاہرہ کیا۔کوئٹہ کے ایک پارسی گھرانے میں پیدا ہونے والے دراب پٹیل پاکستان کی عدالتی تاریخ میں نیک نام ججوں میں سر فہرست ہیں۔ مفاد عامہ اور عوامی حقوق کے مقدمات میں ان کے دیے گئے فیصلے آج بھی حوالے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

ان کے ساتھ ہی حلف نہ اٹھانے والی ایک اور شخصیت کی شہرت بھی جرأت مند اور دیانت دار جج کی ہے۔ یہ جسٹس فخر الدین جی ابراہیم تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں شریف الدین پیرزادہ نے پی سی او پر حلف کے بدلے سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔اختلاف اور اصول کی بنیاد پر استعفیٰ دینا فخر الدین جی ابراہیم کی سوچ اور شخصیت کا حصہ تھا۔فخر الدین جی ابراہیم کے مطابق انوار الحق اپنے قریبی دوست مولوی مشتاق کو بھی حلف دلوانا چاہتے تھے مگر ضیا الحق کے انکار پر انھوں نے پی سی او کی مخالفت کی اور سپریم کورٹ سے فارغ ہو گئے۔

جسٹس انوار الحق کے علاوہ جسٹس سعید الزمان صدیقی سپریم کورٹ کے دوسرے چیف جسٹس تھے جنہوں نے عبوری آئینی حکم نامے کے مطابق حلف نہیں اُٹھایا۔انہوں نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے بجائے گھر جانے کو ترجیح دی تھی۔ ان کے ساتھ سپریم کورٹ کے دیگر ججوں نے بھی فوجی حکمران کے فرمان کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ان ججوں میں جسٹس وجیہہ الدین احمد، جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس مامون قاضی، جسٹس خلیل الرحمن اور جسٹس کمال منصور عالم شامل تھے۔

ذاتی اختلافات ہوں یا آئینی تقاضوں کی ضرورت، پاکستان کی عدلیہ کے مستعفی ہونے والے ججوں کے تاریخ میں مقام اور مرتبے کا فیصلہ آنے والے دور کے واقعات اور حالات کے ذریعے ہوتا آیا ہے۔حال ہی میں سپریم کورٹ سے رخصت ہونے والے ججوں کے فیصلے کو بھی تاریخ اسی میزان میں تولے گی۔

 

Back to top button