معروف لکھاری بلال غوری کی گرفتاری کی کہانی، ان کی اپنی زبانی

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں پچھلے ماہ بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ جاتے ہوئے کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار کر کے ہتھکڑی لگا دی گئی تھی، تاہم بعد ازاں ایف آئی اے حکام نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے انہیں رہا کر دیا کہ ان کی گرفتاری غلط فہمی کی بنا پر ہوئی کیونکہ جس شخص کو بیرون ملک جانے سے روکنا تھا اس کا نام ان کے نام سے مشابہ تھا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تفصیلی تحریر میں بلال غوری نے بتایا کہ وہ 7 اور 8 فروری 2026ء کی درمیانی شب جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پہنچے تھے جہاں سے انہیں بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کی کوریج کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ان کے مطابق امیگریشن کے مرحلے پر ابتدائی کارروائی معمول کے مطابق جاری تھی اور ان سے قبل موجود صحافی حبیب اکرم کو کلیئر بھی کر دیا گیا، تاہم جیسے ہی ان کی باری آئی، امیگریشن افسر نے پاسپورٹ چیک کرنے کے بعد انہیں فوری طور پر اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔

 

بلال غوری کے مطابق انہیں ایئر پورٹ پر قائم ایف آئی اے دفتر منتقل کیا گیا جہاں ان کا موبائل فون تحویل میں لے لیا گیا اور انہیں باقاعدہ گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے تقریباً 16 سے 17 گھنٹے وہ اسی حالت میں رہے، جبکہ ابتدائی طور پر حکام انہیں کسی سنگین کیس میں مطلوب شخص یا مفرور افسر سمجھتے رہے کیونکہ ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ظاہر ہو رہا تھا، جس کے تحت گرفتاری اور ہتھکڑی لگانے کی ہدایت درج تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال پر ان کے صحافی ساتھی شدید پریشان ہوئے، تاہم انہوں نے ان لوگوں کو اپنی پرواز لینے کا مشورہ دیا۔ بلال غوری کے بقول سب سے زیادہ اذیت ناک پہلو غیر یقینی صورتحال تھی کیونکہ نہ تو انکے خلاف کوئی مقدمہ درج تھا اور نہ ہی کوئی الزام تھا۔ اس کے باوجود انہیں گرفتار کر لیا گیا اور گرفتاری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔

 

بلال غوری نے بتایا کہ رات بھر انہیں ایک کمرے میں رکھا گیا جہاں بنیادی سہولیات تک رسائی بھی محدود رہی۔ ان کو پانی پینے اور باتھ روم جانے کے لیے بھی اجازت درکار تھی، جس سے صورتحال مزید تکلیف دہ ہو گئی۔ اس دوران مسافروں نے انہیں ہتھکڑیوں میں دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا جبکہ کچھ افراد نے انہیں پہچان بھی لیا اور واقعے کی تفصیلات دریافت کرتے رہے۔

 

بلال غوری کے مطابق رات کے بعد صبح کے اوقات میں جب امیگریشن عملے کی تبدیلی ہوئی تو نئے آنے والے افسران نے ان کے ساتھ نسبتاً بہتر رویہ اختیار کیا اور اعتراف کیا کہ ایک پڑھے لکھے شخص کے ساتھ ایسا سلوک مناسب نہیں، تاہم وہ احکامات کے پابند ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً گیارہ بجے وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی آمد کے بعد صورتحال میں واضح تبدیلی آئی، جنہوں نے انہیں ہتھکڑیوں سے آزاد کروا کر علیحدہ کمرے میں بٹھانے اور چائے فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد متعلقہ حکام کی جانب سے معذرت کا سلسلہ شروع ہوا اور بالآخر دوپہر 3 بجے کے قریب انہیں باضابطہ طور پر رہا کر دیا گیا۔

 

رہائی کے بعد بلال غوری اگلے روز صبح کی پرواز کے ذریعے ڈھاکہ روانہ ہوئے، تاہم انہوں نے اس واقعے پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق اب تک انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں کیوں شامل کیا گیا، اس کے پیچھے کون ذمہ دار تھا اور انہیں کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے تحت نو فلائی لسٹ پر کسی کا نام شامل کرنے کا ایک قانونی طریقہ کار موجود ہے، تاہم پاسپورٹ کنٹرول لسٹ اور اس جیسی دیگر فہرستوں کی قانونی حیثیت اور طریقہ کار واضح نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں شفافیت ہونی چاہیے اور کسی بھی شہری کا نام شامل کرنے سے قبل اسے نوٹس دے کر صفائی کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

پنجاب حکومت کا یکم اپریل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

بلال غوری نے اس واقعے کو محض ذاتی تجربہ قرار دینے کے بجائے ایک بڑے نظامی مسئلے کی نشاندہی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ایسے قوانین اور طریقہ کار کو واضح اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی شہری کو اس قسم کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر توجہ دی جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کا تدارک ہو سکے۔

Back to top button