آبنائے ہرمز بند مگر تیل پاکستان کیسے پہنچ گیا؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کو تیل کی سپلائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم ان چیلنجز اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود پاکستان نے چار مزید تیل بردار جہاز منگوانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ان جہازوں میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 76 ہزار ٹن پیٹرول اور ڈیزل موجود ہے جو لگ بھگ 25 کروڑ لیٹر کے برابر بنتا ہے۔ ان کارگو کی آمد کے بعد ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کے خدشات بڑی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کس حکمت عملی کے تحت تیل بردار جہازوں کو بحفاظت ملک تک پہنچانے میں کامیاب ہوا؟ آئل کی ترسیل کے بعد آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کس حد تک کمی ممکن ہے؟
انرجی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اب پاکستان اب بحیرہ احمر کے راستے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل بردار جہاز منگوا رہا ہے۔ جن میں سے 4 جہاز پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ آئندہ دنوں میں مزیدجہاز بھی پاکستان پہنچنے والے ہیں۔ تیل بردار جہاز کراچی پہنچانے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک پاکستان کی خصوصی مدد کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان کے بعد پاکستان نے فوری طور پر متبادل سمندری راستوں کا انتظام کیا۔ عام حالات میں پاکستان آنے والے بیشتر آئل ٹینکرز آبنائے ہرمز کے راستے سفر کرتے ہیں، لیکن حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان نے بحرِ احمر کے راستے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی ترسیل شروع کر دی۔ اسی حکمت عملی کے تحت اہم آئل کارگو پاکستان تک پہنچائے گئے ہیں۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان نے دوست ممالک کے تعاون سے توانائی کی سپلائی کو برقرار رکھنے کیلئے بروقت اقدامات کیے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تیل بردار جہازوں کو پاکستان تک پہنچانے میں خصوصی تعاون فراہم کیا، جس کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہونے سے بچ گئی۔ حکام کے مطابق 4 مختلف جہازوں کے ذریعے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ایک لاکھ 76 ہزار ٹن پیٹرول اور ڈیزل پاکستان پہنچ چکا ہے جو تقریباً 25 کروڑ لیٹر بنتا ہے۔ چار آئل بردار جہازوں کے پاکستان پہنچنے کے بعد ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا امکانات ختم ہو گئے ہیں ۔ وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق پاکستان نے متبادل سمندری راستوں اور سفارتی رابطوں کے ذریعے یہ انتظامات کیے تاکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باوجود ملک میں توانائی کے ذخائر مستحکم رہیں اور سپلائی چین متاثر نہ ہو۔
ماہرین توانائی اس صورتحال کو پاکستان کیلئے ایک اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔ انرجی ماہرین کے مطابق حکومت نے چند روز قبل بتایا تھا کہ ملک میں تقریباً 25 دن کے تیل کے ذخائر موجود ہیں اور اب مزید آئل ٹینکرز کی آمد کے بعد صورتحال مزید بہتر ہو گئی ہے۔ آئل کی ترسیل کے بعد فوری طور پر ملک میں تیل کی قلت کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ ماہرین کے بقول عام حالات میں پاکستان اپنی تقریباً 90 فیصد تیل کی ضروریات بیرونِ ملک سے پوری کرتا ہے اور یہ زیادہ تر خلیجی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ بیشتر آئل کارگو آبنائے ہرمز کے راستے پاکستان پہنچتے ہیں، تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد متبادل سمندری راستے اختیار کئے گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں حکومت کی کوششوں اور دوست ممالک کے تعاون کی وجہ سے ہی یہ آئل کارگو پاکستان تک پہنچ سکے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان عام طور پر خام تیل کا بڑا حصہ سعودی عرب سے حاصل کرتا ہے جبکہ لائٹ کروڈ اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات خلیج کے مختلف ممالک سے آتی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد سعودی عرب اور یو اے ای کے تعاون سے پاکستان میں آئل کارگو پہنچ پائے ہیں اور پاکستان کسی بڑے آئل بحران سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا ہے۔
جنگ کے باعث پٹرول 200 روپے مزید مہنگا ہونے کا امکان
ماہرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں اہم سمندری راستوں کی بندش نے عالمی توانائی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان پر بھی آئل کی قلت کے بادل منڈلا رہے تھے۔ تاہم دوست ممالک کی مدد اور متبادل سپلائی روٹس کے باعث پاکستان کی توانائی سپلائی چین متاثر نہیں ہوئی اورپاکستان آئل بحران سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ امید ہے کہ آئندہ بھی اسی راستے سے تیل کے کارگو ملک پہنچتے رہیں گے اور پاکستان میں حالات مستحکم رہیں گے۔ ماہرین کے بقول اگرچہ آئل کی ترسیل کے بعد ملک میں تیل کی قلت کا خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اگر عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا رہا تو اس کے اثرات ملکی معیشت اور عوام دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
